تازہ ترین

پی ڈی ایم کابیانیہ اور ملک گیر تحریک

محمد نعیم قریشی
اس میں اب کوئی شک باقی نہیں رہاہے کہ مسلم لیگ ن دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے معاملہ اس وقت ووٹ کو عزت وو سے نکل کر کام کو عزت دو کی دہلیز پر جاپہنچا ہے، شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ وہ خلائی مخلوق سے ٹکر اکر کچھ حاصل نہ کرسکیں گے بڑے بھائی کے عبرت ناک انجام سے باخبر چھوٹا بھائی اب پنجاب کی عوام کو اپنے دور کے ترقیاتی منصوبوں کی افادیت سمجھانے کی کوششوں میں مصروف ہے، ان کے ساتھ پنجاب میں خواجہ سعد رفیق سمیت بہت سے اہم رہنما بھی اس بات کے حق میں ہیں کہ وہ اب زیادہ دیر تک اداروں کی ہرزہ سرائی نہیں کرسکتے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ اب زیادہ دیر اقتدار کے بغیر رہتے ہوئے اکتا گئے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ شریف خاندان میں اب بیانیے کے ساتھ وراثت کی جنگ کا کھلم کھلا آغاز ہوچکاہے،مریم اورنگزیب جو اپنی ہر تقریر میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگواکر اپنی آواز لندن تک پہچانے کی کوشش کیا کرتی تھی اور یہ حکم مریم نواز کا بھی تھا کہ والد محترم میاں نوازشریف کی جارحانہ انداز سیاست کا دامن کسی بھی حال میں نہیں چھوڑنا یہ ہی وجہ ہے کہ مریم اورنگزیب کی تھکا دینے والی اور خلائی مخلوق کو ناراض کرنے والی تقریروں سے تنگ آکر شہباز شریف نے اپنا ترجمان پنجاب کے اہم لیگی رہنما ملک احمد خان کو مقرر کردیاہے جو کہ مریم نواز کے برعکس نپے تلے الفاظ میں سوچ سوچ کر بولنے والے آدمی ہے، اور اس کے ساتھ ہی شہباز کی پرواز کو تول دینے کے لیے خواجہ سعد رفیق نے کنٹومنٹ بورڈ کے انتخابات میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ہٹواکر کام کو عزت دو کا نعرہ درج کروادیاہے گو کہ میاں نوازشریف کی بے جان تصویر تو نعرے کے پاس لگی ہوئی ہے مگر ان کا بیانیہ ختم کردیا گیاہے اسی طرح آئے روز ہم خواجہ آصف، شاہدخاقان عباسی اور احسن اقبال اور چودھری نثار جیسے اہم لیگی رہنماﺅں کی گفتگو نیوز چینلوں میں دیکھتے بھی ہیں اور سنتے بھی جو فی الحال آپس میں ہی ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہباز شریف کا رویہ ہی نہیں بدلہ بلکہ ان کی ٹیم بھی بدل چکی ہے اور ویسے دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ نواز کی نسبت شہباز کے لیے زیادہ نرم گوشہ رکھتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ شہباز شریف آجکل اپنے مفاہمتی بیانیے کی بدولت اسٹیبلشمنٹ میں اپنی پارٹی اور آنے والے انتخابی منظر نامے میں بطور وزیراعظم اپنی قبولیت کے راستے تلاش کرتے پھرررہے ہیں،اس موقع پر شہباز شریف کی مفاہمت اور قومی حکومت کے بیانیے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ انہیں آئندہ کا سیاسی نقشہ کچھ ایسے نظر آرھا ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے نقشے قدم پر چلنے کی بجائے اپناکام بنتا بھاڑ میں جائے جنتا کے فارمولے کو اپنائے ہوئے ہیں۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کی یہ طرز سیاست رہی ہے کہ حالات جتنے بھی برے ہوں وہ پارلیمانی سیاست سے دستبرداری کرنے سے دور رہتی ہے اور گزشتہ سالوں سے تو وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مفاہمت کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان سمیت مریم نواز کا رویہ سب کے سامنے ہے مریم اپنے والد کا انداز سیاست اپنا کر خالی ہاتھ اور سیاسی رسوائی لیکر آج کل الگ تھلگ ہیں،بلاول اور مریم کے بیانات سے دونوں جماعتوں کے اختلاف بڑھے تو ہیں مگر شہباز شریف بلاول کو ساتھ لیکر چلنے کے خواہشمند ہیں۔اگرہم اپوزیشن کے اتحاد کی بات کریں توسندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے پی ڈی ایم سے علیحدہ ہوجانے کے باوجود جمیعت علمائ اسلام(ف) کراچی شہر میں پی ڈ ی ایم کا ایک متاثر کن جلسہ منعقد کرانے میں کامیاب تو ہو گئی ہے مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اب اسلام آباد بھی عوام کا لاوا لشکر لیکر پہنچ جائینگے، پی ڈی ایم کے اس گٹھ جوڑ نے اتحاد کے قیام سے لیکر اب تک پاکستان کے مختلف شہروں میں لگ بھگ سترہ جلسے کیے جبکہ اتوار کو کراچی میں ہونے والا جلسہ اتحاد اکا اٹھارواں جلسہ تھا۔کراچی میں پی ڈی ایم کی جانب سے اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ حکومت کے لیئے کوئی خطرہ نہیں بنے گا کیونکہ جہاں ن لیگ قیادت کے جھگڑوں میں گھری ہوئی ہے وہاں پیپلزپارٹی کے بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں کیونکہ نہ تو حالات اس کے لیئے سازگار ہیں اور نہ ہی پی ڈی ایم اس کے لیئے سنجیدہ ہے، یہ اعلان محض سیاسی شعبدہ بازی ہے اس سے حکومت کے لیئے کوئی خطرہ دکھائی نہیں دیتا پی ڈی ایم کی قیادت اندرون خانہ کسی ن کسی لحاظ سے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہے اور وہ اپنے معمولی ذاتی مفادات کسی اہم قومی مقصد کے لیئے قربان کرنے پر آمادہ نہیں، ایسے میں کوئی اسلام آباد مارچ کیسے نتیجہ خیز ہو سکتا ہے اس طرح پی ڈی ایم میں موجود سیاسی جماعتوں کے آپس میں سیاسی اختلافات بھی ہیں پیپلز پارٹی سندھ کا اقتدار چھوڑنے پر تیار نہیں اور وہ اسی لیئے پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کر چکی ہے جبکہ دیگر جماعتوں کے قائدین میں بھی اتحاد اور اتفاق کا شدید فقدان ہے، جبکہ اسوقت عوام کو کرونا کی صورتحال سے پریشان ہیں اور اپنے ذاتی معاشی مسائل میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں وہ اس قسم کے سیاسی تماشے کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہوگی پھر سب سے اہم یہ کہ پی ڈی ایم کی قیادت میں شدید نوعیت کے اختلافات ہیں اور ان اختلافات کی وجہ سے بھی پی ڈی ایم کی اسلام آباد مارچ کی کال پر کسی جاندار عوامی ردعمل اور تعاون کی امید نہیں رکھی جاسکتی، مسلم لیگ ن کے اندر بھی حکومت کے خلاف کسی تحریک کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں ان سب باتوں کے باوجود اگر پی ڈی ایم اپنے اعلان کے مطابق اسلام آباد کی جانب مارچ کرتی ہے تو اس کی کامیابی یا حکومت کے لئے کوئی خطرہ بننے کا امکان نظر نہیں آتا، چھوٹے بھائی کی نافرمانیوں سے بے خبر بڑے بھائی میاں نواز شریف لندن سے بیٹھ کر کبھی کبھار من پسند مقامی قائدین سے بات کر کہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے سیاسی مشاورت کر لی ہے جبکہ مسلسل ملک سے باہر رہنے کیوجہ سے ان کے ووٹر بھی اب ان سے اکتا گئے ہیں،دوسری جانب ن لیگ اور پی پی میں الزام تراشی کی بوچھاڑ نے ایسا رخ اختیار کیا ہے کہ عمران خان کو سیلیکٹڈ کہنے والے ایک دوسرے کو ہی سیلیکٹڈ کے طعنے دینے لگے ہیں، اسمبلیوں سے استعفے دینے کی بات کی تو پیپلز پارٹی کو اپنی سندھ میں حکومت نظر ا?نے لگی جس سے اس نے اپنی راہیں جد ا کر لیں یہ سوچتے ہوئے کہ کہیں انہیں ایک صوبے کی حکومت سے بھی نہ ہاتھ دھونے پڑ جائیں کیونکہ پیپلز پارٹی کے پاس کھونے کے لیئے صوبہ سندھ ہے جبکہ ن لیگ کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*