تازہ ترین

پی پی پی کا مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا اعلان

جام شورو (اے این این )پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام(ف) کے اسلام آباد لاک ڈان میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔جمعیت علمائے اسلام(ف)کے امیر مولانا فضل الرحمان نے اکتوبر میں حکومت گرانے کیلئے وفاقی دارالحکومت کے لاک ڈاو¿ن کا اعلان کررکھا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے کیے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی بھی اس دھرنے میں شریک ہوں۔ لیکن اب پیپلزپارٹی نے اسلام آباد لاک ڈان میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں احتجاج کیلئے خود پہل کی اور اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کی سیاست اور ایشوز کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتے ہیں تاہم پیپلزپارٹی پہلے بھی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے دھرنا سیاست میں شریک نہیں ہوئی۔بلاول کے مطابق مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں ہوں گے اور میں پورے پاکستان کا دورہ کروں گا، دونوں کا بیانیہ ایک ہی ہوگاکہ کٹھ پتلی حکومت کو برداشت نہیں کرسکتے۔پی پی چیئرمین نے وزیراعظم کی کراچی سے متعلق بنائی گئی کمیٹی کو غیر آئینی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس اور متحدہ قومی مومنٹ سندھ کو توڑنے اور کراچی کو الگ کرنے کی سوچ رکھتے ہیں جس کی اجازت نہیں دیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم نے کشمیریوں کی آواز بننے کی کوشش نہیں کی، وزیراعظم جو بھی اعلان کرتے ہیں اس پر یوٹرن لیتے ہیں، مسئلہ کشمیر پر حکومت کی نااہلی برداشت نہیں کرسکتے اور نہ اس معاملے پر کوئی بھی پاکستانی کسی قسم کی کوتاہی برداشت کرے گا۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو جیل میں بدل دیا، یہ تاریخی حملہ ہے، ذوالفقار بھٹو شہید نے کہا تھا کہ نیند میں بھی کشمیر پر غلطی نہیں کرسکتا لیکن سلیکٹڈ نمائندےغلطی پرغلطی کررہے ہیں، ہماری حکومت ہوتی تو وزیر اعظم پورے ملک کا وزیراعظم ہوتا، ہماراوزیراعظم کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچاتا۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ حکومت غیرجمہوری رویہ اپنارہی ہے،پیپلز پارٹی نے ہر دور میں آمروں کا مقابلہ کیا، سلیکٹڈ حکومت میں یہ اہلیت نہیں کہ وہ ملکی معیشت سنبھال سکے جب کہ کلین کراچی مہم میں کچرا ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیا گیا، ہمارے صوبے اور عوام کا معاشی قتل کیا جارہا ہے، پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ وفاق این ایف سی کی مد میں صوبے کا حصہ دے، پہلے دن کہا تھا جیل میں بند کرنا ہے تو کردیں پیپلز پارٹی ہرظلم برداشت کرنے کے لئے تیار ہے۔یاد رہے کہ 19 اگست کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی اسلام آباد میں ہوئی تھی جس میں مسلم لیگ(ن) پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے تھے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کمر کے درد اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی دورے کے باعث اے پی سی میں شریک نہیں ہوئے تھے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*