تازہ ترین

پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو رکھے!!!!

محمد اکرم چودھری
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سات برس سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی یہ نہیں فرمایا یہ کام کیوں کیا یہ کیوں نہیں کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک بکری زمین پر ذبح کرنے کے لیے لٹائی اس کے بعد چھری کو تیز کرنا شروع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہِ وآلہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ تم اس کو دو بار مارنا چاہتے ہو اس کو لٹانے سے پہلے تم نے چھری تیز کیوں نہ کر لی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو جانوروں کو چارہ پانی دینے کی ہدایت فرمائی اور ان کو پریشان کرنے اور ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے کی ممانعت کی اور جانوروں کی تکلیف دور کرنے اور ان کو آرام پہنچانے کے باعث اجر و ثواب اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ قرار دیا اور اس کے فضائل بیان فرمائے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ایک شخص کہیں سفر پر تھا راستہ میں اس کو سخت پیاس لگی سامنے ایک کنواں نظر آیا وہ اس میں اتر گیا۔ جب باہر آیا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا ہے اس نے اپنے دل میں کہا کہ پیاس سے جو میرا حال ہو رہا تھا یہی اس کا بھی ہے۔ پھر وہ کنویں میں اترا اپنے چمڑے کے موزے پانی سے بھرے۔ پھر اپنے دانتوں سے ان کو دبایا اور اوپر آ کر کتے کو پلایا اللہ تعالی نے اس کے اس عمل کو قبول فرمایا اور اس کی مغفرت فرما دی۔ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہائم جانوروں کے معاملے میں بھی اجر ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر اس مخلوق میں جو تر و تازہ جگر رکھتی ہے اجر ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک عورت کو صرف اس بات پر عذاب دیا گیا کہ اس نے اپنی بلی کو کھانا پانی نہیں دیا کیا اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ حشرات الارض ہی سے اپنا پیٹ بھر لے۔ سہیل بن عمرو روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گذر ایک ایسے اونٹ پر ہوا جس کی پیٹھ لاغری کی وجہ سے اس کے پیٹ سے لگ گئی تھی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان بے زبان جانوروں کے معاملہ میں اللہ سے خوف کرو ان پر سواری کرو تو اچھی طرح،ان کو ذبح کرکے ان کا استعمال کرو تو اس حالت میں کہ اچھی حالت میں ہوں۔
عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری کے احاطہ میں داخل ہوئے اس میں ایک اونٹ تھا اس نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے قریب تشریف لائے اور اس کے کوہان اور کنپٹیوں پر اپنا دست مبارک پھیرا اس سے اس کو سکون ہوگیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نے پوچھا اس کا مالک کون ہے ایک انصاری نوجوان آیا اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ میرا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس جانور کے معاملے میں جس کا مالک اللہ تعالی نے تم کو بنایا ہے اللہ سے نہیں ڈرتے، وہ مجھ سے شکایت کر رہا تھا کہ تم اس کو تکلیف دیتے ہو اور ہر وقت کام میں لگائے رکھتے ہو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم کسی سرسبز جگہ جاو? تو اونٹوں کو زمین پر ان کے حق سے محروم نہ کرو اور اگر خشک زمین میں جاو? تو وہاں تیز چلو رات کو پڑاو? ڈالنا ہوں تو راستہ پر نہ ڈالو اس لئے کہ وہاں جانوروں کی آمدورفت رہتی ہے اور کیڑے مکوڑے وہاں پناہ لیتے ہیں۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے مجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ضرورت کے لئے وہاں سے تھوڑی دیر کے لئے تشریف لے گئے اس درمیان میں ہم نے ایک چھوٹی چڑیا دیکھی اس کے ساتھ دو بچے تھے ہم نے دونوں بچے لے لیے وہ یہ دیکھ کر اپنے پروں کو پھڑپھڑانے لگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا کہ کس نے اس کے بچے چھین کر اس کو تکلیف پہنچائی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا اس کے بچے اس کو واپس کرو۔ یہاں ہم نے چیونٹیوں کی سیک آبادی دیکھی اور اس کو جلا دیا آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا اس کو کس نے جلایا ہے ہم نے عرض کیا ہم لوگوں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آگ سے عذاب دینے کا حق صرف صرف آگے رب کو ہے۔
سیدنا حبیب خدا صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو لوگوں کو کشتی میں پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ عبداللہ اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنے نوکر کو کو ایک دن میں کتنی مرتبہ معاف کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ستر مرتبہ، وہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو۔ شداد بن اوس اس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے ہر چیز کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے اور نرم برتاو? کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بار بار یار یہ التجا کی کہ اسے کوئی نصیحت فرمائی جائے اس کے جواب میں سیدنا رسول رحمت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کر!!!!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*