پھولوں کی سیاست کے منتظر عوام!!!!!

محمد اکرم چودھری
کسی بھی گھر میں رہنے والے اس گھر کی پہچان ہوتے ہیں قومی اسمبلی کی پہچان اس کے اراکین ہیں۔ اسمبلی کو اچھے لفظوں میں یاد کیا جائے یا پھر اسے منڈی کہا جائے، اسے مفاد پرستوں کی جائے پناہ کہا جائے یا پھر اسے محب وطن، اسلام کے خدمت گاروں یا قوم کے خادموں کی جگہ کہا جائے اس کا تعین اراکین قومی اسمبلی کے رویے سے ہو گا۔ اگر اراکین قومی اسمبلی حلف اٹھانے کے بعد اس پر عمل کریں، ملک و قوم کے مفادات کا تحفظ کریں، عوام کی خدمت کریں، وسائل قوم پر خرچ کریں، ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، آئین و قانون پر عمل کریں، ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت میں ہر اول دستے کا کردار ادا کریں، قوم کی رہنمائی کریں، اسمبلی سے اتحاد، اتفاق اور ایمان کا پیغام دیں تو یقیناً پارلیمنٹ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو گا، قوم کا اپنے نمائندوں پر اعتماد بڑھے گا اور پارلیمنٹ کو مسائل حل کرنے والے ادارے کے طور پر سمجھا جائے گا لیکن جب پارلیمینٹ میں ایک سابق وزیراعظم قومی اسمبلی کے سپیکر کو جوتے مارنے کی باتیں کرے، پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر نفرت پھیلائے، انتشار پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کرے، جب پارلیمنٹ میں بیٹھے سیاست دان اپنے اپنے وقتوں میں اقتدار اور اختیار کو ذاتی فائدے اور مال و دولت میں اضافے کے لیے استعمال کرتے رہیں گے تو پھر پارلیمنٹ کو بھی برا بھلا کہا جائے گا، اراکین پارلیمنٹ کو بھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جائے گا۔ عوامی سطح پر اس بداعتمادی کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ اراکینِ پارلیمنٹ ہیں۔ پارلیمنٹ سیاست دانوں کا گھر ہے اس گھر کی عزت پارلیمنٹیرینز کی عزت سے جڑی ہے، پارلیمنٹیرینز کی عزت ان کے کام سے جڑی ہے اگر انہوں نے اچھے کام نہیں کیے تو اس کا الزام کسی دوسرے کے اوپر نہیں ڈالا جا سکتا۔ جو کچھ گذشتہ بیس برسوں میں پارلیمنٹ میں ہوا ہے کیا اس سے ملک و قوم کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ بالخصوص گذشتہ دو ادوار میں جب پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت رہی ہے اس دوران ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے ۔
کیا اس نقصان کے بعد پارلیمنٹ کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ یقیناً نہیں آج ملک کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس کی وجہ ان دو حکومتوں کی غلط پالیسیاں ہیں۔ اس دوران ہی پارلیمنٹ کو مچھلی منڈی بھی کہا گیا، اراکینِ پارلیمنٹ دست و گریباں بھی ہوئے، نہایت غلط زبان بھی استعمال کی گئی، غیر پارلیمانی روایات کو ہوا ملی اور اب یہ حالات ہیں کہ ملک کا سابق وزیراعظم سپیکر قومی اسمبلی کو جوتا مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ یہ ہماری قومی اسمبلی کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے۔ اگر ہمارے سیاستدان اپنے رویوں پر نظر ثانی نہیں کریں گے تو آنے والے دنوں میں لوگ اس نظام سے اکتا جائیں گے۔
کیونکہ پاکستان کے عوام جب قومی اسمبلی کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں تو انہیں یہاں سے مثبت چیزوں کی توقع ہوتی ہے۔ عوام یہاں اپنے مسائل کا حل دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اسمبلیاں مسائل حل کرنے کے بجائے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر شاہد خاقان عباسی کو خط لکھ کر کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم سات دن میں معذرت کریں اور اپنی پوزیشن واضح کریں۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کے طرز عمل سے اسمبلی کارروائی چلانے میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ انہوں نے اپنے طرز عمل سے قومی اسمبلی کی کارروائی میں خلل پیدا کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بھی شاہد خاقان عباسی کی اس بات پر ردعمل دیا ہے جب کہ شاہد خاقان عباسی نے بعد میں اعتراف کیا کہ ایسی بات نہیں کرنا چاہیے تھی البتہ انہوں نے یہ بھی کہا سپیکر صاحب بولنے کاموقع دیے بغیر قرارداد کو بلڈوز کرنا چاہتے تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پارلیمان کی روایات کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کو کچھ سمجھتے ہیں۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چودھری کہتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی کے رویے کی مذمت کرتے ہیں ہماری بد قسمتی ہے کہ ایسے لوگ بھی وزیراعظم رہے۔ ان سب کا مسئلہ اسلام نہیں بلکہ اسلام آباد ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے معذرت کی ہے تو سپیکر قومی اسمبلی کو دل بڑا کرتے ہوئے ضابطے کی کارروائی کے بجائے افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے کی طرف بڑھنا چاہیے۔ بعض اوقات باہمی تعلقات ضابطے کی کارروائی پر حاوی ہوتے ہیں شاہد خاقان عباسی کے ردعمل میں فواد چودھری نے بھی روایتی ردعمل دیا ہے۔ ہمیں کہیں نہ کہیں تو اس سلسلے کو روکنا ہے۔
ہر بیان کا ردعمل دینے کی بری روایت کون توڑے گا۔ یقیناً پی ٹی آئی سو سے زیادہ جوتے نکال سکتی ہے اڑھائی پونے تین سال میں ملکی سیاست میں جوتے ہی چل رہے ہیں قوم تو پھولوں کی سیاست کا انتظار کر رہی ہے پھولوں کی سیاست کا انتظام کون کرے گا یہ لاکھوں ڈالرز کا سوال ہے۔
جہاں تک تعلق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا ہے انہیں بھی چاہیے کہ وہ ایوان کو اس کی حقیقی روح کے مطابق چلائیں اپوزیشن کو اس کا جایز حق دیں وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سپیکر نہیں ہیں بلکہ وہ اس ایوان کے سپیکر ہیں جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے ملک کے مختلف حصوں سے الیکشن جیت کر اپنے اپنے حلقوں کے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ حکومتی بنچوں پر ہیں یا پھر اپوزیشن میں بیٹھے ہیں اسد قیصر کو سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہیے بلکہ انہیں اپوزیشن کو زیادہ موقع دینا چاہیے تاکہ وہ کھل کر حکومتی خامیوں کی نشاندھی کریں اور حکومت کو اصلاح کا موقع ملے۔ کاش کہ اس اسمبلی سے ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملیں جب یہاں ترقیاتی منصوبوں کی خوبیوں، خامیوں پر بات ہو، اہم عوامی مسائل پر گھنٹوں بحث ہو، اس اسمبلی سے نیب، تھانے، اور کچہریوں کے معاملات کے بجائے ملک و قوم کو اندرونی و بیرونی طور پر جن مسائل کا سامنا ہے وہ زیر بحث آئیں، کاش کہ ایسا ہو تاکہ پارلیمنٹ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*