پٹر ولیم مصنو عا ت کی قیمتوں میں کمی

حکومت نے پٹر ول کی قیمت میں ایک رو پے 50 پیسے اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 رو پے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا یہ اعلان وفا قی وزیر خزانہ حما د اظہر نے نیو ز کا نفر نس میں کیا انہوں نے اس عزم کا اظہا ر کیا کہ پا رلیمنٹ میں عوامی نما ئند گان سے را بطہ رہے گا انہوں نے چینی کی قلت دور کرنے کے لیے ہندوستان سے 5 لاکھ ٹن تک پر ائیو یٹ سیکٹر کیلئے چینی کی در آمد کو کھو لنے کافیصلہ کیا ہے۔
وفا قی حکومت کی جا نب سے پٹر ول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرنے کا اعلان قا بل تعر یف ہے کیو نکہ اس وقت ملک میں پٹر ولیم مصنو عا ت کی قیمتیں بہت ہی زیا دہ ہے جس کی وجہ حکومت کی جا نب سے لگا ئے گئے مبینہ ٹیکس بھی بتا ئی جا تی ہے پٹر ولیم مصنو عا ت ایک ایسی بنیا دی شے ہے جس کی قیمتوں میں اضا فے کا اثر زند گی میں استعما ل ہونے والی ہر شے پر پڑ تا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہو تا ہے اس وقت ملک میں مو جو دہ حکومت کے بر سر اقتدا رآنے کے بعد مہنگائی میں کئی گنا اضافہ نہ صر ف ہواہے بلکہ ہورہا ہے ما ہ رمضان کی آمد آمد ہے اور ہو نا یہ ہے کہ ہما رے ہاں اس ما ہ میں زیا دہ مہنگائی کی جا تی ہے جوکہ ایک مسلمان کا شیوہ نہیں ہو نا چا ہیئے غیر مما لک میں ایسے مو اقع پر حکومت اپنی عوا م کو ریلیف دیتی ہیں لیکن ہما رے ہاں اس کے با لکل بر عکس ہوتا ہے جو کہ ایک بڑ ا لمحہ فکر یہ ہے۔
جیسا کہ یہ دعو یٰ کیا جا رہا ہے کہ سا بق وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کو مہنگائی کی وجہ سے فا رغ کیا گیا ہے اور حما د اظہر کو مہنگائی کو کنٹر ول کرنے کے لیے وزا رت خزانہ کا چا رج دیا گیا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر واقعی یہ صحیح ہے تو پھرا س سے اور اچھی با ت اور کیا ہو سکتی ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کوئی تو لگا م دینے والا ہو کیو نکہ اس سے قبل یہ دو ر دو ر تک نظر نہیں آرہا تھا کہ آخر اس مہنگائی کو کو ن لگا م دے گا جہاں تک پٹر ولیم مصنو عا ت کی قیمتوں میں مو جو دہ کمی کا تعلق ہے تو اس میں مز ید اور کمی ہونے کی اشد ضرور ت ہے کیو نکہ اعد اد وشما ر کرنے والے بتا تے ہیں کہ حکومت پٹر ولیم مصنو عا ت پر بہت زیا دہ ٹیکسز لگا تی ہے حالا نکہ یہ حکومت کو سستا پڑ تا ہے ان مجو زہ ٹیکسز کی وجہ سے یہ مہنگا ہو رہا ہے۔
اس لیے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کوکم کرنے کے اقد اما ت کرنے چاہئیں تا کہ عو ام کو ریلیف مل سکے جو اس وقت شد ید مالی بحران سے دو چا ر ہے خصو صاً رمضان میں آنے والے مہنگائی کے طو فا ن کو روکنا چا ہیئے جو کہ اس سے قبل نہیں روکا جا سکا اور اس میں ما فیا ز کو عو ام کو دونوں ہاتھوں سے لو ٹنے کے لیے کھلی چھٹی دی گئی اور انہوں نے دید ہ دلیر ی سے یہ کام کیا کیو نکہ ان پر کسی بھی قسم کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں تھا اب حکومت کو ایسا نہیں کرنا چا ہیئے بلکہ ان لو گو ں پر چیک اینڈ بیلنس کانظام فعا ل کرنا چا ہیئے اور یہ کام صر ف رمضان المبا رک تک محد و د نہ کیا جا ئے کیو نکہ یہاں ایسا ہو تا رہا ہے کہ یہ ادا رے صر ف رمضان المبا رک کے ما ہ میں کچھ فعا ل ہو تے ہیں اور اس ما ہ میں ایک آدھ دن ایکشن لیتے ہوئے چھا پے ما رتے ہیں لیکن جیسے ہی رمضان المبا رک ختم ہو تا ہے تو پھر یہ ادا رے اور ان میں کام کرنے والے اگلے 11 ما ہ کی طو ل چھٹی پر چلے جا تے ہیں اور عو ام کو ظالم ما فیاز کے رحم و کرم پرچھو ڑ جا تے ہیں جو کہ کسی بھی صو ر ت اچھا اقد ام نہیں۔
جہاں تک چینی کی قلت کامعا ملہ ہے تو حکومت کو اس معا ملے کو فو ری طو ر پر حل کرنے کے لیے اقد اما ت کر نے چاہئیں جو کہ اب وقت تا ریخ کی بلند تر ین سطح پر فر و خت ہورہی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*