تازہ ترین

پٹرولیم قیمت میں نو روپے فی لیٹر تک اضافہ کی خبروں پر تشویش ہے،نیشنل بزنس گروپ

کراچی(کامرس ڈیسک) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں چھ سے نوروپے فی لیٹر تک اضافہ کی خبروں پرتشویش ہے۔ پٹرول ڈیزل اوردیگرمصنوعات کی قیمت میں ہوشربا اضافہ سے مہنگائی میں اضافہ کی رفتارتیزہوجائے گی اوراس سے عوام اورکاروبار بری طرح متاثر ہونگے۔حکومت موجودہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ نہ کرے ورنہ ملک مہنگائی کے سونامی میں ڈوب جائے گا۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روپے کی گرتی ہوئی قدرکی وجہ سے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پرٹیکس کم کردئیے تھے مگر اب بعض حلقے قیمت بڑھا کر نقصان پورا کرنے کی تجویز دے رہے ہیں جو آئی ایم ایف کی ڈیمانڈ کے مطابق مگرملکی مفادات کےخلاف ہے۔ اس نقصان کوڈائریکٹ ٹیکس کے زریعے پورا کیا جائے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی اورایک ارب ڈالر کے قرضے کے لئے تیل کی قیمت میں زبردست اضافے کے علاوہ بجلی کی قیمت بھی بڑھانے پرتیار ہوگئی ہے جوافسوسناک ہے۔ حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں چھ سودس ارب روپے یا 1.67 ارب روپے روزانہ کمانے کا ہدف مقرر کیا تھا مگرموجودہ حالات میں 50.83 ارب روپے ماہانہ کے بجائے چالیس ارب روپے ماہانہ کمائے جا رہے ہیں جس سے حکومتی اہداف متاثر ہورہے ہیں جو آئی ایم ایف کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ حکومت نے سال رواں کی ابتداءمیں سارے سال کے دوران بجلی کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کی یقین دیانی کروائی تھی مگر اس میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے اوراب پاورڈویژن نے اگلے ماہ سے بجلی کے ٹیرف میں ایک روپے اڑسٹھ پیسے کےاضافے کی سمری منظوری کے لئے وفاقی کابینہ کوبھجوا دی ہے جوتشویشناک ہے۔ اس فیصلے پرٹیرف سترہ روپے تیراسی پیسے تک بڑھ جائے گا اوربجلی بیس روپے فی یونٹ ہو جائے گی جبکہ عوام پر 139 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا تاہم بجلی کی چوری بھی بڑھ جائے گی جو پہلے ہی ڈھائی سو ارب روپے سالانہ ہے۔ 22-2021 کے بجٹ میں اس شعبہ کے لئے تین سوتیس ارب روپے کی سبسڈی منظور کی گئی تھی جو ناکافی تھی مگر حکومت اپنی مالی مشکلات کی وجہ سے ناکافی سبسڈی کا بوجھ اٹھانے سے بھی قاصر ہے اس لئے بجلی کے شعبہ میں چوری اور لائن لاسز ختم کرنے کے بجائے عوام پربوجھ لادنے کا شارٹ کٹ استعمال کیا جا رہا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*