تازہ ترین

پنڈوراباکس سے چیئرمین نیب تک

محمد اکرام چودھری
پاناما پیپرز کے بعد پنڈورا پیپرز منظر عام پر آ چکے ہیں ان پر بھی پاناما پیپرز کی طرح بہت شور ہو رہا ہے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں لگ رہی ہیں لیکن طاقتور طبقے اسے بھی بے نتیجہ رکھیں گے لیکن یہ اٹل حقیقت ہے کہ اس کا ملک کی معیشت پر منفی اثر پڑے گا دنیا میں پاکستان کا معاشی تاثرمزید خراب ہو گا ملک میں بیرونی سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہوںگے۔پاکستان پر انٹرنیشنل ایجنسیز مانیٹرنگ سخت کریں گی موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کے دشمن پاکستان کے بارے میں پروپیگنڈا کریں گے۔معزز قارئین میں آپ کے سامنے اپنے تجزیئے میں بینکر،اقتصادی ماہرین بزنس کمیونٹی کے اس مسلئے پر ردعمل پیش کروں گا اور آخر میں بطور سیاستدان اپنا تجزیہ پیش کروں گا۔پاکستان انسٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا ہے کہ ماضی میں پاناما پیپرز کے تجربے کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے کہ مختلف غلط کاریوں میں ملوث افراد موجودہ حکومت کی کابینہ میں شامل ہیں تو ایسا نظر آتا ہے کہ پنڈورا پیپرز کے معاملے میں بھی الزام تراشیاں ہوں گی اور ایک دوسرے پر کیچڑاچھالا جائے گا اور تحقیقات کے وعدے ہونگے مگر عملی نتیجہ نہیں نکلے گا طاقت ور طبقے ایک مرتبہ پھر بچ نکلیں گے انہوں نے کہا کہ پنڈورا پیپرز کے سلسلے میں مندرجہ ذیل اقدام کئے جانے چاہییں نمبر ایک لوٹی ہوئی دولت پر ملک کے مروجہ قوانین کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے۔نمبر دو ان قوانین کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے جن کے ذریعے سرمائے کا فرار ہوتا ہے۔نمبر تین پاناما پیپرز اور پنڈورا پیپرز کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔اس کے علاوہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 111کے سب سیکشن (4)کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔اوپن مارکیٹ سے خریدے ہوئے فائلرز کے بیرونی کرنسی کے کھاتوں میں موجود رقم کو تعلیم اور علاج کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے ملک سے باہر منتقل کرنے کی ممانعت ہو۔غیر منقولہ جائیدادوں کی مالیت کو مارکیٹ کے نرخوں پر مقرر کیا جائے اور ایف بی آر کے ریٹس کا سلسلہ بند کیا جائے۔معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ پاناما پیپرز کی طرح پنڈورا پیپرز کا معاملہ مس مینج نہیں ہونا چاہئیے۔ملک کی ساری لیڈر شپ پاور گیم کی بجائے ملک کی بہتری کا سوچے ہم بہت کچھ گنوا چکے ہیں اب جو باقی بچ گیا ہے اسے سنبھالنا چاہیئے۔پنڈورا پیپرز میں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان سے شفاف تحقیقات کی جائیں اگر وہ قصوروار ہیں تو قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔اس قسم کے معاملات سے سرمایہ کاری پر سخت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں پاکستان کی معاشی حالت پہلے ہی اتنی اچھی نہیں ہے۔معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر میاں محمد اکرم نے کہا کہ واضح ہے کہ بلیک اکانومی کے تحت پیسہ کمایا گیا ہے اور ٹیکس چوری کیا گیا ہے۔اگر یہ پیسہ ملک میں ہوتا تو یہاں سرمایہ کاری ہوتی۔انہوں نے کہا کہ جن افراد کا پنڈورا پیپرز میں ذکر ہوا ہے انہوں نے ملک میں سرمایہ کاری نہیں کی تو بیرون ملک سے سرمایہ کاری کیسے آئے گی۔انہوں نے کہا کہ قوانین ایسے بنائے جائیں جس سے ملک سے سرمائے کا فرار رکے اگر یہ سلسلہ نہیں رکے گا تو ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹکتی رہے گی اور پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا۔۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر الماس حیدر نے کہا پے کہ میرا نہیں خیال کہ اس کا ملک کی معیشت پر کوئی منفی اثر پڑے گا دیگر افراد پر اس کا کوئی اثر ہو تو ہو۔بزنس مین اگر باہر بزنس کر رہے ہیں تو ان کی رہائش بھی باہر ہوتی ہے اور اگر وہ ملک میں بزنس کر رہے ہیں اور سنجیدہ بزنس مین ہیں تو وہ اپنے اثاثے ڈکلیئر کر دیتے ہیں جو پاکستان اور بیرون ملک میں ہیں کیونکہ سب کو پتا ہے کہ اگر آپ نے بڑا بننا یے تو آپ ڈکلیئر کئے بغیر ایسا نہیں کر سکتے ہیں لیکن اگر کوئی چھوٹا موٹا عام بندہ ہو گا جو ایسا نہیں کرے گا تو اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا ہماری اس وقت پرابلم کرنسی کی قدر میں کمی کی پرابلم ہے امپورٹ مہنگی ہوتی جا رہی ہے لوہا پلاسٹک مہنگا ہو رہا ہے ٹرانسپوٹیشن اور لاجسٹک مہنگی ہوتی جا رہی ہے اس کا اثر ضرور ہے ہمارے کرنٹ اکاونٹ پر۔باقی پنڈورا پیپرز کا ملک کے کرنٹ اکاونٹ اور بجٹ پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا ملک کی معیشت ویسے ہی رہے گی جیسے چل رہی ہے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کا ایجنڈا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو پھلنے پھولنے نہیں دینا چاہیے پاکستان قرضوں میں جکڑا رہے۔یہ ادارے پاکستان کی خود انحصار کی راہ میں ایک رکاوٹ ہیں۔پنڈورا پیپرز سے ایک طرف تو ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کو ضرب لگے گی اور دوسری جانب لوکل سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متاثر ہو گا۔انہوں نے کہا پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے لگ بھگ 26 پوائنٹس کا کمپلائنس کر لیا ہے اس کے باوجود گرے لسٹ سے نہیں نکالا گیا جبکہ کچھ ملکوں نے 21پوائنٹس کا کمپلائنس کیا وہ وائٹ لسٹ میں آ گئے اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ ادارے ہماری معیشت کو آزاد نہیں ہونے دینا چاہتے اور اپنی گرفت میں رکھنا چاہتے ہیں۔شیخوپورہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے گروپ ہیڈ منظور ملک نے کہا کہ ہم حکومت سے درخواست کریں گے کہ حکومت اداروں کے ایسے طریقہ کار وضح کرے کہ جو بندہ غلط کام کرے پہلے ہی دن پکڑا جائے ہم کب تک مختلف لیکس کا انتظار کرتے رہیں گے انہوں نے کہا پاکستان میں آج بھی معاشی پوٹینشل آف کرائم بہت ذیادہ ہے اس کی بنیادی وجہ صوابدیدی اختیارات ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن افراد کے پنڈورا پیپرز میں نام آئے ہیں ان کی شفاف تحقیقات کی جائیں ملکی معیشت پہلے ہی انحطاط کا شکار ہے اور اس قسم کے واقعات سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری رکے گی انٹرنیشل انجسیز پہلے سے ذیادہ ایکٹو ہو جائیں گی۔پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ ایز آف ڈوئنگ بزنس اور پیداواری لاگت کم کرنے پر توجہ دی جائے تاکہ ملک کی معیشت بہتر ہو سکے۔
اب بات کرتے ہیں چیئرمین نیب کی ایکسٹنشن پر جس طرح حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں تقسیمِ ہیں اور 1999 کے بعد جس طرح کا آرڈیننس آیا ہے اس سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ احتساب کا یہ ادارہ بھی اب متنازعہ ہو جائے گا، حکومت اور اپوزیشن کی ملی بھگت سے یہ احتسابی ادارہ اپنے انجام تک پہنچے گا،یاد رہے گزشتہ چند سالوں سے نیب کے ادارے پر تحفظات کا اظہار کیا جارہا تھا لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ سیاسی انتقام کا ادارہ بن چکا ہے بدقسمتی سے پاکستان میں احتساب اور انصاف کا کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے جو چوروں ڈاکوﺅں کو قابو کر سکے. ہمارے ہاں پانامہ آیا، پنڈوراباکس کھلا لیکن سب کا سب ڈبوں میں بند ہو گیا ہمیں ان باتوں پر اب غور کرنے کی ضرورت ہے اور ملکی مفاد میں اگر نیب کی خدمات کو تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کے متنازعہ حصوں کا ہذف کر دیا جائے اور ترمیم بغیر اپوزیشن کے اور تمام مکتب فکر کی نمائندگی کے بغیر کرنے کا کوئی جواز نہیں ہو گا ورنہ یہ ادارہ قابل قبول نہیں ہو گا اور جس ادارے کو زیادہ تر لوگ قبولیت کا شرف نہ بخشیں وہ ادارے ختم ہو جاتے ہیں اگر ہمارے سیاست دانوں سمیت تما م سٹیک ہولڈرز اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں احتساب کا ایک بہترین ادارہ ہونا چاہیے اور احتساب کو قابل قبول سمجھا جانا چاہیے تو ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*