تازہ ترین

پرکھ

طہ انوشے
انسان کی پرکھ میں ہے سو بھول کا اندیشہ
اپنوں کو عجلت میں اپنا نہ کہا جائے
دیتی ہے قتیل اکثر چہروں کی چمک دھوکا
ہر کانچ کے ٹکڑے کو ہیرا نہ کہا جائے
کبھی کبھی دل کرتا ہے ساری دنیا سے دور کہیں دور چلی جا¶ں پر لڑکی ذات ہوں ناں کہاں جا سکتی ہوں آخر، سوچتی ہوں کہ سب کے ساتھ اتنا اچھا رہنے کے باوجود آ خر لوگ اتنے سنگ دل کیوں ہو جاتے ہیں اللہ جی کہ جینا ہی مشکل کر دیں۔
زندگی تپتے صحرا کی مانند لگنے لگتی ہے اور یوں لگتا ہے پیروں میں خاردار جھاڑیاں چبھنے سے اذیت روح کو زخمی کر رہی ہے۔ کہاں جا¶ں کس کو بتا¶ں یہاں سب مطلب پرست ہیں کوئی کسی کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔
ایک تعلیمی ادارہ، کام کی جگہ اور اور تیسرا چائے کا ہوٹل یہ تین جگہیں ایسی ہیں جہاں آپ کو مختلف قسم کے لوگ ملتے ہیں۔
میں جس یونیورسٹی سے دو سالہ گرافکس کی ڈگری کر رہی تھی اس میں میرا دوسرا سال شروع تھا۔
اس ایک سال کے عرصے میں مجھے جو دوستیں ملی وہ ہر لحاظ سے کہہ لیں کہ پرفیکٹ تھیں ان میں سے ایک ٹاپر تھی اور اسے بھی میری طرح ہی گرافکس میں عبور حاصل تھا پر وہ صرف کتابوں کی حد تک رہتی تھی۔میں چونکہ پڑھائی کے معاملے میں کتابی کیڑا ٹائپ نہیں تھی کیونکہ میں آ لریڈی پارٹ ٹائم جاب کرتی تھی اونلائن ایڈز وغیرہ بنانا تو پڑھائی کا زیادہ ٹائم نہیں تھا ملتا لیکن پھر بھی پڑھائی میں گریڈز اچھے آ جاتے تھے۔
میرا رکھ رکھا¶ ایسا تھا کہ کہ بات چیت بھی گنے چنے لوگوں سے کرتی تھی کہ میں ہمیشہ پائیدار بات کرتی ہوں تو کسی بھی ایرے غیرے سے کر کے وقت کا ضیاع نہیں کرنا۔سکول کالج کی طرح یونیورسٹی میں بھی میں نے سوشل سوسائٹی اور مختلف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینا شروع کر دیا۔
ایک دن یوں ہی میں دوستوں کے ساتھ یونیورسٹی گرا¶نڈ میں بیٹھی موبائل پہ سٹوڈنٹس پورٹل میں سب کے مسائل پڑھ رہی تھی دراصل میں اپنی پہچان چھپا کے اس پیچ کی ایڈمن تھی کیونکہ سٹوڈنٹس کے ایشو وغیرہ حل کرنے جیسے کام کو یونیورسٹی انتظامیہ نے غیر قانونی قرار دینا تھا چونکہ اب بہت سے نجی ادارے صرف طلبا سے فیس کے نام پہ پیسے بٹورتے ہیں ایسا ہی کچھ وہاں بھی تھا۔
باتوں ہی باتوں میں مجھے لگا میرے دوست کچھ کھنچے کھنچے سے ہیں میں نے اس بات کو ہلکا سا لیا کیونکہ میرے حلقہ احباب میں بہت کم لوگ تھے اور میں ان پہ بہت اعتبار اور محبت کرتی تھی بہت خالص سا تعلق تھا میرا ان سے پر وہی بات آ تی ہے کہ شاید بعض اوقات لوگوں کو پہچاننے میں ہم سے غلطی ہو جاتی ہے جو لوگ پہلے ہماری بس خوبیاں ہی خوبیاں دیکھ کر ہمارے قریب آتے ہیں پھر اچانک انہیں ہماری کوئی خامی دکھنے لگے تو وہ دوری اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
ایسے ہی چھے مہینے گزر گئے اور دوسرے سال کے بھی فائنل ائیر امتحانات ہونے والے تھے میری دوستیں ان چھ مہینوں میں پتہ نہیں لیکچرز کے بعد کہاں غائب ہو جاتی تھیں۔ میری کالز وغیرہ کا جواب نہ دینا میسج دیکھ کے ریپلائے نہ کرنا اور کلاس میں میرے دریافت کرنے پہ کھوکھلی ہسی ہس دینا یہ سب مجھے اب بہت دکھ دے رہا تھا۔ایک دن کلاس میں پروفیسر صاحب کو کوئی ای میل ریسیو ہوئی وہ کوئی پوسٹ تھی جو سٹوڈنٹس موومنٹ کے بارے میں تھی اور ایسی سرگرمیاں ہمارے ذاتی گروپ کی حد تک رہتی تھیں۔
وہ پوسٹ دیکھ کے پروفیسر صاحب غصے سے آ گ بگولا ہو گئے اور سب سے دریافت کرنے لگے کہ اس گروپ کا ایڈمن کون کون ہے۔ اب میں ششد سی بیٹھی تھی کہ یہ کیا ہو گیا ابھی سنبھلی نہیں تھی کہ میرے ساتھ والی نشست سے آواز ابھری کہ” سر یہ حمائل رضوی اور ان کے ساتھ کچھ اور ڈیپارٹمنٹس کے لوگ چلا رہےہیں گروپ۔۔اور سر میں نے انہیں منع بھی کیا تھا یہ پھر بھی ٹیچرز کے خلاف جانے سے باز نہیں آ ئے ”
میں اپنی بیسٹ فرینڈ علیشہ جو کہ ٹاپر بھی تھی اس کو دیکھتی رہ گئی۔
اس کے انداز میں مجھے اس لمحے جو حسد اور بغض کا اظہار نظر آ رہا تھا میرے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا اور وہ بولے جا رہی تھی سر کو پتہ نہیں کیا کیا بتائے جا رہی تھی اور سر مجھے گھورے جارہے تھے مجھے نہیں پتہ میں کیسے اپنا بیگ لے کے وہاں سے اٹھی اور بس اتنا کہہ پائی کہ ”ہم جو کر رہے تھے انسانیت کے ناطے غریب طلبا کے حق کیلئے آواز اٹھا رہے تھے، مگر تم سب کیا جانو جو اپنے گھروں میں عیش کر رہے ہو۔
۔” یہ کہہ کر میں وہاں رکی نہیں کیونکہ ابھی مینجمنٹ نے باقی گروپ ممبرز پہ انکوائری شروع کرنی تھی۔
ہاسٹل واپس آ کر میں نے باتھ روم لاک کر لیا اور زندگی میں پہلی بار روئی اتنا روئی کہ یوں لگ رہا تھا دوستی کے جس رشتے نے آج مجھے دھوکہ دیا ہے اس کے ٹوٹنے کی کرچیاں میری آ نکھوں میں چبھ رہی ہیں۔ میں اٹھی وضو کیا اور باہر آئی تو مغرب ہوچکی تھی نماز پڑھ کے کتنی ہی دیر سجدے میں روتی رہی کہ اللہ کیا برا کیا ہے میں نے لوگوں کے ساتھ جو آج رشتوں کا سب سے بھیانک چہرہ دیکھنے کو ملا ہے، دعا کرتی رہی کہ بس اللہ ہمت دے دیں مجھے کہ اس حقیقت کو تسلیم کر پا¶ں۔
۔۔۔ کچھ دل ہلکا ہوا تو یوں لگا کہیں میرے اندر سے آواز آ رہی ہے کہ او پاگل کیا آزمائشیں انسان کو اس کے نصب العین پر مضبوط کرنے کے لئے نہیں آتی؟ کیا یہ اچھا نہیں کہ اب تمہیں سیکھ ملی ہے کہ انسان کیسے ہو سکتے ہیں؟ اپنے اندر اٹھتے ان سوالوں سے کافی دیرمیری جنگ سی چھڑی رہی اور میرے دل کو کچھ سکون ملا۔
لیکن اگلی صبح جب میری آنکھ کھلی تو جسم بخار سے تپ رہا تھا، ایک دوست کو کال کر کے اطلاع دی تو اس نے کہا تم گھر جا¶ ہم لوگ یونی میں سارے معاملات سے نپٹ لیں گے۔
پھر میں بھائی کے ساتھ گھر آ گئی اور بہت بیمار رہنے لگی۔موبائل گیلری کھولتی تھی تو تین ہنستے مسکراتے چہرے ہر تصویر میں مختلف انداز میں نظر آ تے۔ ناجانے کتنی دیر سکرین پہ انگلیاں پھیرتی اور بس دل کے کرب کو اور آنسو¶ں کو ضبط کرتے کرتے تھک جاتی۔
ایک مہینہ بعد فائنل امتحانات شروع ہو گئے اورمیں ہاسٹل آ گئی۔یونیورسٹی میں سب لوگ زور و شور سے تیاریوں میں لگے ہوئے تھے کسی کا دھیان میری طرف نہیں تھا۔
آ خری پرچے والے دن جونہی میرے قدم یونیورسٹی کے اندرونی احاطے کی جانب بڑھے سٹوڈنٹس کے گروہ میرے ارد گرد اکٹھے ہو گئے۔ حمائل کہاں چلی گئیں تھیں آ پ؟ حمائل یونی کیوں چھوڑ دی تھی تمہیں پتہ ہے مینجمنٹ نے سٹوڈنٹس پورٹل پہ تفتیش کے بعد اسے کتنا ایپری شیٹ کیا ہے۔۔۔۔ انہوں نے لیگلی اجازت بھی دے دی ہے۔۔ سب لوگ بہت خوش تھے اور مجھے ان لوگوں کی خوشی اور پیار دیکھ کر اطمینان سا محسوس ہو رہا تھا۔
بہت سے لوگوں کو اس دن میں نے دور سے دیکھا تھا جو اپنی انا اور شرمندگی کو اجنبیت کے لبادے میں اوڑھے ہوئے کیمپس سے آ خری پیپر دے کے جا رہے تھے اور میں ‘حمائل رضوی’ جس کو زندگی نے بہت کچھ سکھا دیا تھا ایک روحانی اطمینان اور انسانیت سے پیار بخشا گیا تھا مجھے۔ اس دن سے اللہ کا اور میرا تعلق اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ اس نے کبھی مجھے زندگی کے کسی امتحان میں اکیلا نہیں چھوڑا۔۔۔۔ میں یہ نہیں جانتی کہ لوگ میرے الفاظ کو کس کیٹیگری میں لیں گے پر میں یہی کہوں گی سب کو کہ یقین کا سفر اور انسانوں کی پرکھ اگر آسان نہیں ہوتی تو مشکل بھی نہیں ہوتی بس اپنی ترجیحات میں اللہ رب العزت کو پہلے رکھا کریں وہ آپ کو اتنا نوازے کا کہ آپ دنیا کے فانی رشتوں کے محتاج نہیں رہیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*