تازہ ترین

پاک ایران سرحد امن اور دوستی کی سرحد ہے ،عمران خان

Prime Minister of Pakistan Imran Khan

راولپنڈی+اسلام آباد (آئی این پی ) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ نے کہاہے کہ پاکستان اور ایران دو برادر ملک ہیں ، علاقائی امن اور استحکام کے لیے دونوں کا قریبی تعاون بہت ضروری ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بدھ کو اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف (سی جی ایس )میجر جنرل محمد باقری نے ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ جی ایچ کیو کا دورہ کیا۔ ایرانی چیف آف جنرل سٹاف کو یہاں آمد پر پاک فوج کے چاق وچوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ مہمان خصوصی نے جی ایچ کیو میں یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہدائے پاکستان کے لیے دعا کی۔بعد ازاں ایرانی چیف آف آرمی سٹاف نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران افغانستان کی صورتحال ، علاقائی سلامتی اور سرحدی انتظام خاص طور پر پاک ایران سرحد پر باڑ لگانے سمیت کئی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں نے دفاعی تعاون کو مزید بڑھانے اور علاقائی امن کے لیے مل کر کام کرنے اور دہشت گردی جو مشترکہ دشمن ہے ، کا مل کر جواب دینے پر اتفاق کیا ۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے کہا کہ پاکستان اور ایران دو برادر ملک ہیں اور علاقائی امن اور استحکام کے لیے ہمارا قریبی تعاون بہت ضروری ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق وفد کی سطح کی ملاقات کے دوران ، ایرانی وفد کو ایک جامع علاقائی سلامتی اور آپریشنل صورتحال کے علاوہ پاک فوج کے تربیتی نظام بشمول دوست ممالک کے ساتھ تعاون اور مختلف مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف نے فوج سے فوج کے تعلقات خاص طور پر انسداد دہشت گردی اور تربیتی حدود کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔دریں اثناءوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک ایران سرحد امن اور دوستی کی سرحد ہے، افغانستان کے پڑوسیوں کی حیثیت سے پاکستان اور ایران کا امن اور استحکام سے براہ راست تعلق ہے۔وزیراعظم عمران خان سے ایران کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد باقری کی ملاقات ہوئی، ملاقات کے دوران پاک ایران دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران عمران خان نے تجارتی، معاشی اور توانائی کے شعبہ میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں اطراف کی سیکورٹی بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ملاقات کے دوران سرحد پر مارکیٹس کے قیام کے معاہدے پر بھی بات چیت کی گئی۔ جبکہ اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھاکہ ان مارکیٹوں سے خطے میں روزی روٹی میں آسانی ہوگی۔وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کے تنازع پر ایران کی مثبت کردارکو سراہا جبکہ افغانستان میں تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے قومی مفاہمت اور جامع سیاسی تصفیے کی اہمیت پر زور دیا جبکہ پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی ہم آہنگی پر بھی زور دیا گیا۔ملاقات کے دوران عمران خان نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے لیے نیک تمناں کا اظہار کیا اور ایرانی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت کو دہرایا۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاک ایران سرحد امن اور دوستی کی سرحد ہے، افغانستان کے پڑوسیوں کی حیثیت سے پاکستان اور ایران کا امن اور استحکام سے براہ راست تعلق ہے، پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان اور پائیدار معیشت اور کا خواہشمند ہے، افغانستان میں بین الاقوامی برادری مثبت طور پر اپنا کردار ادا کرے، افغانستان میں معاشی تباہی کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا چاہیے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*