پاکپتن تک

فضل حسین اعوان
سات آٹھ سال قبل میں اپنے آفس میں مصروف کار تھا۔ دائیں آنکھ سے نظر آنا کم ہونے لگا۔ دس منٹ میں آنکھ کی بینائی زیرو ہو گئی۔ بائیں آنکھ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونے کے اندیشے نے گھیر لیا۔ میں اندھا ہونے کے بھیانک خیال سے دوچار تھا مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ آنکھ کی بینائی دھیرے دھیرے بحال ہونے لگی اور کم و بیش اتنی ہی مدت یا لمحوں میں آنکھ روشن ہو گئی جتنے میں اندھیرے میں ڈوب گئی تھی۔ فوری طور پر آئی سپیشلسٹ کے پاس گیا تو اس نے کہا شاید شوگر کی کمی بیشی سے ایسا ہوا ہے۔ اس نے سمپل کے طور پرآئے ہوئے آئی ڈراپس دے کر رخصت کر دیا۔ اس کے بعد کبھی ایسا پھر نہیں ہوا۔
گزشتہ ہفتے چودھری محمد حنیف کی والدہ کے انتقال پر پاک پتن جانا تھا۔ رانا الیاس سمندری کے نواح میں کنجوانی کے نزدیک رہتے ہیں۔ ان سے بات ہوئی، انہوں نے کہا کہ لاہور سے موٹروے پر آ جائیں فاصلہ تھوڑا زیادہ ہے مگر سفر آسان رہے گا، مجھے بھی ساتھ لے لینا۔ ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے اپنی آنکھ کے بارے میں جو بتایا اس سے کچھ اندازہ ہوا کہ میری آنکھ کے ساتھ بھی غالباً وہی ہوا۔
رانا الیاس کہتے ہیں کہ چار سال قبل ان کی انجیو گرافی ہو رہی تھی۔ جہاں علاج ہور ہا تھا‘ وہ راولپنڈی میں دل کاپاکستان میں سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ دنیا کے بہترین ڈاکٹر اس ہسپتال کے ساتھ منسلک ہیں۔ انجیو گرافی کے ساتھ ہی انجیو پلاسٹی بھی ہونی تھی۔ مگر انجیو پلاسٹی کے عمل سے قبل ہی مجھے بائیں آنکھ سے نظر آنا بند ہو گیا۔ ڈاکٹر کو بتایا تو اس نے اپنی ٹیم کو انجیو پلاسٹی کا عمل مو?خر کرنے کا کہا تاہم انجیو گرافی مکمل کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کل آئی سپیشلسٹ کو دکھا لوں مگر میں انجیو گرافی کے بعد ہی آئی سپیشلسٹ کے پاس چلا گیا جس نے معائنہ کیا اور اگلے روز صبح آنے کو کہا۔ اگلے روز دوسرے ڈاکٹر صاحب تھے۔ انہوں نے چیک کیا ڈراپس تجویز کئے اور دو ہفتے کا وقت دیدیا۔ دو ہفتے بعد ہسپتال گیا تو تیسرا ڈاکٹر ڈیوٹی پر تھا۔ اس نے آنکھ کا معائنہ کیا، ہسٹری دریافت کی۔ وہ پوزیشن ہولڈر ڈاکٹر تھا۔ وہ سب جان کر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اس نے بڑی افسردگی اور ہمدردی سے بتایا: انجیوگرافی کے دوران کسی وین میں کلاٹ آ گیاتھا۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ ڈیڑھ گھنٹے میں لیزر لگائی جاتی، اب کچھ نہیں ہو سکتا۔“
رانا الیاس ایک آنکھ کی بینائی ضائع ہونے پرکبیدہ خاطر، رنجیدہ اور مایوس تھے۔ یقینا وہ سوچ رہے ہونگے کہ ذمہ دار کون ہے؟ قصور وار جو بھی ہو، سزا کس کو ملی؟ میں سوچ رہا تھا کہ میری آنکھ کی کسی وین میں بھی کلاٹ آیا ہو گا جو خود بخود ختم ہو گیا۔ رانا الیاس کہہ رہے تھے کہ ڈاکٹر کہتے ہیں اس کا کوئی اب تدارک نہیں تاہم اللہ کا کرم ہو سکتا ہے۔انہوںنے یہ یقین بھی ظاہر کیا کہ ان کی والدہ زندہ ہوتیں تو ان کی دعاﺅں سے بینائی لوٹ آتی۔ میں نے انہیں ”یااللہ یا سلام“ کا ورد معمول بنانے کی تاکید کی۔ موسم اس روز خوشگوار تھا۔ عارف والا سے ہمارے مشترکہ دوست ریاض احمد بھی آئے ہوئے تھے۔ تعزیت کے بعد دین اور دنیا کی باتیں ہوتی رہیں۔ سیاست اور ملکی حالات پر ایسی مجلس میں بات کا نہ ہونا، ممکن نہیں۔ مہنگائی کی بات ہوئی رانا الیاس کا کہنا تھاکہ مہنگائی کا تدارک آمدن میں اضافے کے سوا قطعاًکچھ اور نہیں ہے۔ امریکہ میں مہنگائی نہیں۔ پانچ سال بعد ہر چیز کی قیمت میں کچھ فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ امریکہ کی معیشت سے پوری دنیا کی معیشت کسی نہ کسی حوالے سے وابستہ ہے۔ وہاں پانچ سال قیمتوں میں اضافے کا اثر ہمارے جیسے ممالک پر پڑتا ہے۔ عمران خان سے توقع لوگوں کے وسائل بڑھانے کی ہو سکتی ہے۔ ہم چاروں متفق تھے کہ عمران خان بدنیت اور بددیانت نہیں، وہ طاقتور مافیاز سے نبردآزما ہے، کامیاب ہونے میں دیر ہو سکتی ہے اس شب ستم و جبر کی سویر ضرور ہو گی۔افغانستان سے امریکہ کی مکمل واپسی پربات بھی ہوئی‘ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں تو آسانی سے نکال سکتا ہے مگر ہزاروں لاکھوں ٹن اسلحہ اور آلات لے جانا مشکل ہے۔ اس کے لئے اسے طویل عرصہ درکار ہو گا۔ اس کی ہماری گیدرنگ میں نفی اس طرح سامنے آئی کہ پاکستان فضائیہ کے پاس سب سے بڑا کارگو جہاز سی 130 ہے۔ بہت بڑا جہاز ہے۔ اس میں تین بڑے ٹرک لوڈ ہو جاتے ہیں طاقتور ایسا کہ پورے جہاز میں لوہا بھر دیا جائے تو بھی فلائی کر سکتا ہے۔ محفوظ اس قدر کہ چاروں انجن بند ہو جائیں تو کافی فاصلہ تک گلائڈ کر سکتا ہے اور ویرانے میں بھی آسانی سے اتر سکتا ہے۔ امریکہ کے پاس سی 141بڑا جہاز ہے۔
یہ کتنا بڑا ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ سی 130 کا جتنا سائز ہے اتنا اس میں ایندھن آتا ہے۔ امریکہ کے پاس اب تک سب سے بڑا کارگو جہاز سی 5 ہے۔ اس میں سی 141 کے سائز جتنا پٹرول آتا ہے۔ ایسے جہازوں کی مدد سے امریکہ ایک لاکھ فوج 24 گھنٹے میں مع اس کی ضروریات اور اسلحہ، دنیا کے کسی بھی کونے میں پہنچا سکتا ہے۔ امریکہ جب چاہے گا افغانستان سے ایک دن میں تمام فوجیوں اسلحہ اور سازو سامان کو لے جائے گا۔ سفر کے دوران ساہیوال کے قرب و جوار میںدریائے راوی کے آر پار زرخیز زمین اپنے جلو میں سرسبز فصلیں لئے ہوئے تھی۔ معلوم ہوا مکئی اور آلو اس علاقے میں وافر مقدار میں ہوتا ہے۔ مکئی کا ریٹ کم و بیش گندم کے برابر ہے جبکہ فی ایکڑ پیداوار ایک سو دس من تک جاتی ہے۔ واپسی پر سمندری انٹرچینج سے لاہور آنے کے لئے ایک وارڈن نے لفٹ کا اشارہ کیا۔ ان کا تعلق تاندلیانوالہ سے تھا، نام شاہجہاں جوئیہ، وہ عمران خان کا متوالا تھا۔ اس کے بقول کسان تحریک انصاف کی حکومت سے بہت خوش ہیں۔ اس سال فصلوں کا اچھا ریٹ ملا ہے۔ سرسوں فی ایکڑ 15 سولہ من ہوتی ہے۔ فی من 5 ہزار میںبکی۔ سرسوں مکئی اور آلو یہ تین ماہ کی فصلیں ہیں۔ مکئی اور آلو سال میں دو مرتبہ اُگائے جا سکتے ہیں۔ اس سفر کے دوران چائے کے لئے ایک ویران سے اڈے کا انتخاب کیا۔ اس کے ساتھ ہی بجلی پر بیلنا چل رہا تھا وہاں 120 روپے کلو گڑ دستیاب تھا۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*