تازہ ترین

پاکستان کی خصوصی ایلچی او آئی سی کو مقبوضہ کشمیر بارے مختلف تجاویز پیش

اسلام آباد(آئی این پی)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے خصوصی ایلچی برائے جموں و کشمیر یوسف الدوبے کو مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری دہلی سرکار سے آج جتنا متنفر ہے وپہلے کبھی نہیں تھا،اوآئی سی کے نمائندے کو جس طرح یہاں آزادی سے مظفر آباد جارہے ہیں اور لوگوں سے مل رہے ہیں، کاش سری نگر میں بھی اسی طرح آزادانہ انداز میں ملنے کا موقع مل سکے، پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم کے خلاف جو ڈوزئر پیش کیا گیا تھا وہ صرف اخباری ترشے اور مفروضے نہیں تھے، اس میں باقاعدہ شواہد منسلک کئے گئے تھے، جن ویڈیوز اور آڈیوز کلپس شامل تھیں جو آزادذرائع سے حاصل کی گئی تھیں۔ او آئی سی کے نمائندہ خصوصی یوسف الدوبے نے کہا کہ او آئی سی وفد کے دورے کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو جاننا تھا اور وفد کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے جو کچھ دیکھا اس کی رپورٹ مرتب کریں گے اور او آئی سی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔جمعرات کواسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم کے خصوصی ایلچی برائے جموں و کشمیر یوسف الدوبے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مارچ 2022میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوگا، اوآئی سی کے خصوصی ایلچی کو صورت حال سے آگاہ کیا ہے، کووڈ کے دوران مقبوضہ کشمیر میں لوگ مشکل تھے، اس سے بھی آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر جس مالیاتی بحران سے گزر رہا ہے وہ بھی ابتر ہے اور وہاں کی سیاحت بھی تباہ ہوچکی ہے،5اگست 2019کو کیے گئے اقدامات کو بھارت بڑی کامیابی سمجھتا ہے لیکن جو انہوں نے کیا اور موقع پر جو ہوا وہ بالکل برعکس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موقع پر آج کشمیری جس مشکل کا شکار ہے وہ پہلے کبھی ایسا نہیں تھا، کشمیری دہلی سرکار سے جتنا متنفر آج ہے، بھارتی وزیراعظم کے الفاظ ہیں کہ سری نگر نہ صرف دہلی دور ہے بلکہ دل بھی دور ہیں اور ان اقدامات نے ان دوریوں میں اضافہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے کچھ تجاویر بھی پیش کی ہیں، اوآئی سی کے نمائندے کو جس طرح یہاں آزادی سے مظفر آباد جارہے ہیں اور لوگوں سے مل رہے ہیں، کاش سری نگر میں بھی اسی طرح آزادانہ انداز میں ملنے کا موقع مل سکے۔انہوں نے کہا کہ کاش!جس طرح یہاں میڈیا سے ملنے کا موقع مل رہا ہے اسی طرح سری نگر میں بھی میں آزاد میڈیا ملنے کا موقع مل جائے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کی آمد سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہوں گے اور ان کی رپورٹ کے منتظر رہیں گے۔او آئی سی کے نمائندے یوسف الدوبے نے اس موقع پر میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے او آئی سی کانمائندہ یہاں آیا ہوا ہے اس سے آگاہ کرنے کے لیے میڈا موجود ہے۔ان کاکہنا تھا کہ ہمارے اس دورے کا مقصد ہے کہ رابطہ گروپ کے اجلاس کی وجہ ہوا تاکہ ہمارا دورہ کارآمد ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ نیویارک میں 2020 میں جو اجلاس ہوا تھا اس میں یہ ساری باتیں اس وقت نمایاں کی گئی تھیں، اس دورے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ ہمارے سیکریٹری جنرل اور وزرائے خارجہ نے مجھے خصوصی ایلچی اور ہمارے انسانی حقوق کے طارق کو یہ دورہ کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ تمام پہلو کو دیکھا جائے۔یوسف الدوبے نے کہا کہ کشمیر میں صورت حال کو عملی طور پر دیکھیں کہ کیا ہورہا ہےاس کا جائزہ لیں تاکہ یہ طے ہو کہ وہاں کے لوگوں کے کیا نقصانات ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم مارچ میں اسلام آبادمیں وزرائے خارجہ کی رابطہ کے اجلاس میں اپنی مفصل رپورٹ پیش کریں گے، جس میں ہمارا دورہ، جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی اور جو نتائج ملے ہیں اس کی بنیاد پر تجاویز اور وزیرخارجہ نے جو کہا ہے سب کو شامل کریں گے۔یوسف الدوبے نے کہا کہ ہمارا دورہ سود مند رہا اور ہمارے لوگوں نے بہت کچھ سیکھا اور اپنی رپورٹ میں شامل کرلیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*