تازہ ترین

پاکستان کا سعودی عرب کے ایران سے اچھے تعلقات کے قیام کے بیان کا خیر مقدم

FO-spokesperson-Zahid-Hafeez-Chaudhri

اسلام آ باد ( آ ئی این پی ) ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ ہم سعودی عرب کی جانب سے ایران سے اچھے تعلقات کے قیام کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں،سعود ی عرب میں پاکستانی سفارت خانہ کے حوالے سے شکایات پر وزیر اعظم نے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر راجہ علی اعجاز کو پہلے ہی واپس بلایا جا چکا ہے،سعودی عرب میں پاکستانی سفارتی عملے کے چھ اہلکاروں کو بھی واپس طلب کیا گیا ہے،اس حوالے سے ایک اعلی سطح کی انکوائری شروع ہو رہی ہے، بھارت کو کورونا سے نمٹنے میں مدد کی جذبہ خیر سگالی کے طور پر پیش کش کی ہے ،ہم کورونا کی موجودہ لہر میں بھارتی عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہیں،پیشکش پر بھارتی حکومت کی جانب سے جواب کا ابھی انتظار ہے،کورونا وبا کے دوران زیر حراست حریت قیادت کی صحت پر تشویش ہے ،ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گرفتار کشمیری رہنماوں کو فوری رہا کرے ،امریکی فوج کا افغانستان سے ذمہ دارانہ انخلا ہونا چاہیے،پاکستان اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے فلسطینیوں پر مظالم کی مذمت کرتا ہے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ہمارے امریکہ میں موجود سفارت خانہ مسلسل رابطے میں ہے،سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں ہے، بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں موجودہ رویہ اور ماحول پاک بھارت مذاکرات کے لیے سازگار نہیں ہے، بامعنی و نتیجہ خیز مزاکرات کے لیے سازگار ماحول کا ہونا ضروری ہے، وزیر اعظم آئندہ ماہ کے شروع میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے، امریکہ کے کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں حکومت پاکستان کی جانب سے مذہبی آزادی کے فروغ اور اقلیتوں کے حقو ق کے تحفظ کے لئے کوششوں کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے، پاکستان کے حوالے سے رپورٹ حقائق کے برعکس ہے اور غیر مصدقہ باتیں شامل کی گئیں ہیں،معاملہ پر امریکی حکام سے ساتھ اٹھائیں گے۔جمعرا ت کو ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جرمن ہم منصب سے ملاقات کی ہے ، وزیر خارجہ نے افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کے کردار سے آگاہ کیا،وزیر خارجہ نے اپنے جرمن ہم منصب کا استقبال کیا،شاہ محمود قریشی نے جرمن وزیر خارجہ کا افغانستان میں قیام امن اور پاکستان کے مثبت کردار سے آگاہ کیا،وزیر اعظم نے اقوام متحدہ اقتصادی و معاشرتی کمیشن کے 77ویں اجلاس سے ورچوئلی خطاب کیا،وزیر اعظم نے علاقائی و باہمی تعاون کو اہم قرار دیا، انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو زیر قبضہ رہنے والوں کو خصوصی ترجیح دینا چاہیے،ترک وزیر خارجہ کی دعوت پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ترکی کا دورہ کیا،انہوں نے ترکی میں افغانستان پر سہہ فریقی اجلاس میں شرکت کی،افغان وزیر خارجہ سے ملاقات میں فریقین نے افغانستان کی تازہ صورتحال اور امن عمل پر تبادلہ خیال کیا، وزیر خارجہ نے اپنے کینیڈین ہم منصب سے ٹیلیفون رابطہ کیا، وزیر خارجہ نے کورونا پرمشترکہ جواب کے حوالے سے شش فریقی اجلاس میں شرکت کی، وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ سی پیک اس خطے میں تجارتی منبع اور باہمی منسلکی کے مرکز کے طور پر ابھرے گا، امریکی سیکرٹری دفاع نے مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے گذشتہ روز رابطہ کیا، امریکی سیکرٹری دفاع نے پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کی خواہش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھارت کو کورونا سے نمٹنے میں مدد کی پیش کش کی ،بھارت کو ڈیجیٹل ایکسرے وینٹی لیٹرز پی پی ایز فوری مہیا کرنے کیلئے تیار ہیں،ہم کورونا کی موجودہ لہر میں بھارتی عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہیں،یہ پیشکش سفارتی ذرائع کے ذریعہ کی گئی،اس پر بھارتی حکومت کی جانب سے جواب کا ابھی انتظار ہے، کورونا وبا کے دوران زیر حراست حریت قیادت کی صحت پر تسویش ہے ،بھارت میں زیادہ جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی رکھے گئے ہیں ،کچھ گرفتار کشمیری رہنماوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے ،بھارت کی جانب سے ان گرفتار کشمیری رہنماﺅں کو میڈیکل ٹریٹ منٹ نہیں دی گئی ،ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گرفتار کشمیری رہنماوں کو فوری رہا کرے، پاکستان افغانستان میں تشدد میں کمی چاہتا ہے ،ہم نہیں چاہتے کہ افغان امن عمل کو نقصان پہنچے ،امریکی فوج کا افغانستان سے ذمہ دارانہ انخلا ہونا چاہیے،پاکستان اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے فلسطینیوں پر مظالم کی مذمت کرتا ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ہمارے امریکہ میں موجود مشنز مسلسل رابطے میں ہیں،سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں ہے،ہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو صحت اور زندگی کی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا،افغان طالبان مکمل طور پر ہمارے قابو میں نہیں ہیں،پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے مثبت کردار جاری رکھے گا،پاکستان اپنی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت جاری رکھے گا،ہم بھارت کا افغان امن عمل میں کسی قسم کا مثبت کردار نہیں دیکھتے،پاکستان کا افغان امن عمل کے مراحل میں ایک تعمیری اور مثبت کردار رہا ہے،افغان امن عمل ایک طویل المدت عمل ہے جس میں تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا،افغان امن عمل میں پاکستان یا دوسرا کوئی بھی ملک سہولت کار کا کردار ہی ادا کرسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی بھارت کے ساتھ مذاکرات سے راہ فرار اختیار نہیں کی، مقبوضہ کشمیر میں ہم بھارتی آئین کے تحت آرٹیکلز کو تسلیم ہی نہیں کرتے ،دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل کے لیے پاکستان بات چیت پر یقین رکھتا ہے، بامعنی و نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے سازگار ماحول کا ہونا ضروری ہے، بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں موجودہ رویہ اور ماحول پاک بھارت مذاکرات کے لیے سازگار نہیں ہے، ہم سعودی عرب کی جانب سے ایران سے اچھے تعلقات کے قیام کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں ، سعودی ولی محمد عہد کا امن کا اقدام خطے میں امن و استحکام کا باعث ہو گا، ہم دونوں ممالک سعودی عرب ایران کے درمیان اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں ،ہماری مسلح افواج کے کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں ہیں ،تاہم کسی قسم کی مہم جوئی کی صورت میں پاکستانی مسلح افواج ہر خطرے کے جواب کو تیار ہیں، سعود ی عرب میں پاکستانی سفارت خانہ کے حوالے سے شکایات کے معاملہ پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر راجہ علی اعجاز کو پہلے سے ہی واپس بلایا جا چکا ہے،سعودی عرب میں پاکستانی سفارتی عملے کے چھ اہلکاروں کو بھی واپس طلب کیا گیا ہے،اس حوالے سے ایک اعلی سطح کی انکوائری شروع ہو رہی ہے، وزیر اعظم آئندہ ماہ کے شروع میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے،اس دورے کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی،پاکستانی حکومت بیرون ممالک پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کو اہمیت دیتی ہے ،پاکستان کے دنیا بھر میں مشنز کو پاکستانی برادری کی امداد کی ہدایات موجود ہیں ،وزیر اعظم کے حالیہ بیان پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے گا،اس حوالے سے ایک اعلی سطح کی انکوائری کمیٹی بنائی جا رہی ہے جو کہ تحقیقات کرے گی،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکہ کے کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی( یو ایس سی آئی آر ایف) کی سالانہ رپورٹ دیکھی ہے،پاکستان کے حوالے سے رپورٹ حقائق کے برعکس ہے اور غیر مصدقہ باتیں شامل کی گئیں ہیں، رپورٹ میں حکومت پاکستان کی جانب سے مذہبی آزادی کے فروغ اور اقلیتوں کے حقو ق کے تحفظ کے لئے کوششوں کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے، معاملہ پر امریکی حکام سے بات چیت کریں گے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*