تازہ ترین

پاکستان بدستورFATFکے گرے لسٹ میں رہے گا، عالمی ادارے کا فیصلہ

پیرس (آئی این پی) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف)نے ایک با ر پھر پاکستان کو اگلے سیشن تک گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے خاطر خواہ پیش رفت کی ہے، اس حوالے سے پاکستان نے 6 میں سے 4 شرائط کو پورا کر لیا ہے۔ مجموعی طور پر حکومتِ پاکستان نے 27 میں سے 26 شرائط پوری کر رکھی ہیں،پاکستان کو اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے گئے گروپوں کے سرگردہ افراد کے خلاف تحقیقات اور عدالتی کارروائی کرنا ہو گی۔ان تمام اقدمات کا مقصد کرپشن اور منظم جرائم پیشہ لوگوں کو اپنے جرائم سے فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے، امید ہے پاکستان کی حکومت اس عمل سے متعلق اپنی مضبوط کمٹمنٹ کو جاری رکھے گا۔ تفصیلات کے مطابق پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا 3 روزہ اجلاس ختم ہوگیا، فیٹف اجلاس میں حکومتِ پاکستان کی27 ویں شرط پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی سزاوں سے متعلق پاکستان کی کارکردگی کو بھی جانچا گیا۔فیٹف کے مطابق پاکستان نے منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے خاطر خواہ پیش رفت کی ہے، اس حوالے سے پاکستان نے 6 میں سے 4 شرائط کو پورا کر لیا ہے۔ مجموعی طور پر حکومتِ پاکستان نے 27 میں سے 26 شرائط پوری کر رکھی ہیں۔ فیٹف نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق اب تک کے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کو آئندہ سال فروری تک گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیٹف کا کہنا ہے کہ بھرپور تعاون پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ایک بار پھر پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعرات کو ایف اے ٹی ایف کے تین روزہ اجلاس کے بعدپریس کانفرنس میں ٹاسک فورس کے صدر ڈاکٹر مارکوس پلیئر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دو ایکشن پلان کے 34 آئٹم میں سے 30 پر عملدرآمد کر لیا ہے۔اس وقت پاکستان کو ایک ساتھ علمدرآمد کے لیے دو ایکشن پلان دیے گئے ہیں جن کے ٹوٹل 34 نکات ہیں۔ ڈاکٹر مارکوس نے کہا پاکستان بدستور مانیٹرنگ کے تحت رہے گا۔ پاکستان کی حکومت نے 34 نکات میں سے 30 پر بڑے پیمانے پر عمل کیا ہے۔پاکستان کی جانب سے جون میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کیے گئے۔ مجموعی طور پر پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان سے متعلق اچھی پیش رفت کا مظاہرہ کیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے رواں سال جون میں دیے گئے ایکشن پلان کے سات میں سے چار ایکشن پلانز پر بڑے پیمانے پر پیش رفت کی ہے جس میں معالی معاملات کی اندرونی و بیرونی نگرانی، نان فناشل سیکٹر بزنس، عالمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے قانون سازی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے 2018 میں دیے گئے پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر بڑے پیمانے پر پیش رفت کی ہے۔ پاکستان نے چند اہم اقدامات کیے لیکن پاکستان کو اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے گئے گروپوں کے سرگردہ افراد کے خلاف تحقیقات اور عدالتی کارروائی کرنا ہو گی۔ان تمام اقدمات کا مقصد کرپشن اور منظم جرائم پیشہ لوگوں کو اپنے جرائم سے فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے۔صدر ایف اے ٹی ایف کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ پاکستان کی حکومت اس عمل سے متعلق اپنی مضبوط کمٹمنٹ کو جاری رکھے گا۔خیال رہے کہ اس سال جون میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اپنے اجلاس کے بعد کہا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے آخری نکتے پر بھی عمل درآمد کرنا ہو گا اور اس کے ساتھ ہی سات نکاتی نیا ایکشن پلان بھی دیا تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*