تازہ ترین

پانی پر جنگیں

فیصل ادریس بٹ
کچھ عرصہ پہلے جب کوئی یہ بات کرتا تھا کہ آنے والے وقت میں جنگیں پانی کے مسئلے پرہونگی۔ غور کریں تو یہ بات بہت عجیب سی لگتی تھی مگر اس بات کو کوئی اتنا لمبا عرصہ بھی نہیں گزرا کہ پانی پر جنگوں کی نوبت آن پہنچی ہے۔اس حوالے سے کرغیزستان اور تاجکستان میں پہلی جنگ رواں ماہ کے شروع میں ہوچکی ہے۔اس لڑائی میں ۴۴ افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو زخمی ہوئے۔مزید تباہی یہ ملک انکے سربراہان کی ہوشمندی سے بچ گئے۔کرغزستان کے صدر صدیر جپاروف اور ان کے تاجک ہم منصب امام علی رحما نوف نے اس واقعے پر ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں دونوں رہنماﺅں نے بالمشافہ ملاقات پر اتفاق کیا۔ پوری دنیا کو اس وقت اس وقت پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ پاکستان آبی قلت کے شکار نمایاں ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ پاک بھارت آبی تنازعہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اس مسئلہ پر کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے جبکہ اندرون ملک صو بے بھی اسی مسئلے پر باہم دست و گریباں ہونے کو نظر آتے ہیں۔ اس مسئلہ کو سیاسی رُخ بھی دیا جا رہا ہے اور ہو بھی سکتا ہے کہ اس سے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت ہم شدید آبی قلت کا شکار ہیں۔ پاکستان کی زراعت ہمارے دریاﺅں میں آنیوالے پانی پر انحصار کرتی ہے جب بھی ان دریاﺅں میں آنیوالے پانی میں قلت ہوتی ہے تو صوبے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ صوبوں کے درمیان آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم کیلئے ارسا کے نام سے ایک آئینی ادارہ موجود ہے جس میں تمام صوبوں کے نمائندے ہوتے ہیں جبکہ وفاق کی نمائندگی بھی ہوتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس بار دریاﺅں میں آنیوالے پانی میں 30 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے پہاڑوں پر بارشوں میں کمی اور درجہ حرارت میں تاخیر سے کے باعث پانی کا بہاﺅ انتہائی کم ہے پاکستان کے آبی ذخائر ہر سال گلیشئرز کے پگھلنے اور پہاڑوں پر ہونے والی بارش سے ہی بھرتے اس وقت ہمارے آبی ذخائر منگلا تربیلا ڈیم خالی ہونے کو ہیں اب جبکہ سندھ اور پنجاب میں چاول اور کپاس کی فصل کاشت ہونے کا سیزن ہے دونوں صوبوں میں پانی کی اشد ضرورت ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق کوٹری بیراج پانی کی 50 فیصد کمی کا شکار ہے۔ پنجاب کی درخواست پر تونسا پنجند لنک کینال کو خصوصی طور پر کھولا گیا تھا کہ جنوبی پنجاب میں کپاس کی فصل کاشت کرنے کیلئے پانی لیا جا سکے۔ اسی طرح سندھ کو منگلا ڈیم سے سات لاکھ ایکڑ پانی خصوصی طور پر فراہم کیا گیا۔ سندھ حکومت نے پانی کی کمی کو سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے اور اس سے سیاسی اسکورنگ کی جا رہی ہے۔ سندھ حکومت الزام لگا رہی ہے کہ تین صوبوں کی مخالفت کے باوجود تونسہ پنجند لنک کینال کھولی گئی اور سندھ کے پانی کو پنجاب کی طرف منتقل کیا گیا دوسری طرف پنجاب کے وزیر آبپاشی محسن لغاری جو ایک پڑھے لکھے اور آبی حکمت عملی کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھتے ہیں نے سندھ کے موقف کو پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ اس وقت سندھ کو سترہ پنجابکوکو 22 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ پنجاب نے سندھ اور پنجاب کے بیراجوں پر نیوٹرل امپائر تعینات کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سندھ کی نہروں سے 27 فیصد پانی ضائع ہوتا ہے جبکہ پنجاب کے اعداد و شمار کے مطابق 9 فیصد پانی ضائع ہوتا ہے، یہ اعداد و شمار کسی نہ کسی گڑبڑ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سندھ کی نہروں سے 27 فیصد پانی کا ضائع ہونا اسکے اعداد و شمار کو مشکوک بناتا ہے اس کی دوسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان اعداد و شمار کی بھی غیر جانبدارانہ انکوائری ہونی چاہیے۔ پنجاب اور سندھ پاکستان کے ہی دو صوبے ہیں ہمارے مطالبات کا مطلب کسی صوبے کی حق تلفی یا اسکی نیت پر شکوک و شبہات ظاہر کرنا نہیںبلکہ اسکی اصلاح کیلئے راستہ دکھانا ہے۔ پنجاب کے وزیر آبپاشی محسن لغاری اور سیکرٹری کیپٹن ریٹائرڈ سیف انجم اپنے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں اپنے صوبے کے عوام کے حقوق کا بھرپور دفاع کر رہے ہیں۔ محسن لغاری اور سیکرٹری ریٹائرڈ سیف انجم نے بڑی محنت سے تمام اعداد و شمار مرتب کر رکھے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ارسا کے اجلاس میں وہ اپنے موقف کا بھرپور دفاع کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونیوالے اعلیٰ سطح کے ارسا اجلاس میں ان کی طرف سے پیش کیے جانیوالے اعداد و شمار پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا ہمیں امید رکھنی چاہیے سندھ کی طرف سے بھی باہمی تعاون کی فضا کو قائم رکھا جائیگا۔ ہمیں یہ بھی امید رکھنی چاہئے کہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر وسیع تر قومی مفاد میں اس مسئلے کا حل نکالا جائیگا۔ رواں سیزن میں اب تک 44 ہزار ایکڑ فٹ سے زائد پانی سمندر برد ہو چکا ہے۔ صوبوں کے درمیان آبی تنازع کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے نئے ڈیم بنانے کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ نئے آبی ذخائر بنانے ہیں تاکہ ہر سال لاکھوں ایکڑ فٹ پانی سمندر برد ہونے کی بجائے پنجاب سندھ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی زمینوں کو سیراب کرے۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*