پانی: ضمانت حیات

تحریر: ڈاکٹر ساجد خاکوانی
(گذشتہ سے پیوستہ)تب اللہ تعالی اپنی خاص رحمت سے بادلوں کارخ میدانوں کی طرف موڑ دیتاہے اور اپنی قدرت کاملہ سے پیاسی میدانی فصلوں کو سیراب کردیتاہے اور انسانوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔بعض اوقات موسم کی شدت اس قدرزیادہ ہوجاتی ہے کہ انسان گرمی سے پگھلنے لگتے ہیں،ایسی صورت میں رحمت خداوندی ایک بار پھر جوش میں آتی ہے بارش کی بوندیں ہوامیں خنکی پیداکر کے موسم کو خوشگواربنادیتی ہیں۔اسی طرح جب کبھی بارش ہوئے ایک مدت گزرجاتی ہے تو زمین سے اٹھنے والا گردوغبارفضاکواس قدر آلودہ کردیتاہے کہ انسانوں کے گلے اس کی تاب نہیں لاسکتے اور بیماریاں پھیلناشروع ہو جاتی ہیں۔
اس صورتحال میں رب رحیم کی رحمت ایک بارپھرجوش میں آتی ہے اوربارش سے زمین کے اس حصے کی فضا پاک صاف ہوجاتی ہے،بارش کی بوندیں اپنے قدرتی دبا¶ سے سب میل کچیل کو زمین برد کردیتی ہیںاورانسان بیماریوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔آسمان سے برسنے والا پانی اپنی طبی تاثیرمیں زمینی پانی سے بہت مختلف ہوتاہے۔اطباءحضرات اس پانی کوجمع کرتے ہیں اور اسے دوائیوں میں ڈال کر اس کی افادیت سے فیض حاصل کرتے ہیں۔خاص طورپر جب بارش کے ساتھ اولے پڑتے ہیںتو ان برفانی اولوں کاپانی بھی بعض بیماریوں میں اکسیرکادرجہ رکھتاہے۔جولوگ سمندروں میں محوسفرہوتے ہیں ان کے لیے سمندرکاپانی پینے کے قابل نہیں ہوتااور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانابھی ایک مشکل ترمرحلہ ہوتاہے۔ایسے میں جب بارش ہوتی ہے توسمندری جہازوں میں اس برسنے والے پانی کو پینے کے لیے ذخیرہ کرلیاجاتاہے جو قدرت کا مفت تحفہ ہے۔زمین کے بھی چھوٹے بڑے گڑھے جب پانی سے خالی ہو جاتے ہیں تو قریب کے جانور دوردراز ایسے مقامات پر ہجرت کرجاتے ہیں جہاں انہیں پانی آسانی سے میسر ہوجائے۔اورجب بارش کے پانی سے سے وہ خالی گڑھے بڑھ جاتے ہیں تو جنگلی حیات و چرندوپرندمیں بھی خوشی کی لہردوڑجاتی ہے۔اللہ تعالی اس بارش سے مردہ زمین میں زندگی کی لہرپیداکردیتاہے اور گھاس کھانے والے جانور وںکے لیے رزق کے وسیع ذخائرمیسرآجاتے ہیں۔
اللہ تعالی کی سنت ہے کہ شکر کرنے سے نعمت باقی رہتی ہے اور کفرکرنے سے زوال نعمت ہو جاتاہے۔سیکولرازم نے اللہ تعالی کی پانی جیسی اس نعمت کی بری طرح ناقدری کی۔زیرزمین ایٹمی ڈھماکے کیے جس سے سینکڑوں مربع میل کے علاقے میں پانی کے تمام ذخیرے خشک ہوجاتے ہیں اور زیرزمین حیات جل کر مر جاتی ہے۔مسلمانوں نے اس دنیاپر ازشرق تا غرب کم و بیش ایک ہزارسال حکومت کی ہے۔اس کل دورحکومت میں کسی دوقوموں کے درمیان اسلحے کی دوڑ نہیں ہوئی۔مسلمان سائنسدانوں نے روم و یونان کی صدیوں سے جامد سائنسی تحقیق کی تاسیس نوکا حسین فریضہ سرانجام دیا اور ان قدرتی علوم عصریہ کو اوج کمال تک پہنچایا،لیکن کسی مسلمان ماہرعلوم نے آتشیں اسلحہ بناکر انسان دشمنی کا ثبوت نہیں دیااور نہ ہی مسلمان حکمرانوں نے انسانی بستیوں کوکسی طرح کی عالمی جنگ کے الا¶ میں جھونکا۔اس کے مقابلے میں سیکولرازم نے ایسے ایسے ہتھیار انسانی بستیوں پر آزمائے کہ ان کی گرمائش سے پانی کے بڑے بڑے ذخیرے ہوابن کر اڑگئے۔مغربی دنیامیں بے پناہ کارخانہ سازی سے زمین کادرجہ حرارت خطرناک حدتک بڑھ چکاہے جس کے باعث زیرزمین پانی خشک ہو کر ختم ہوتاچلارہاہے۔
ان کارخانوں سے اٹھنے والا دھواں فضاسے بھی آبی بخارات کی شرح کودن بدن کم سے کم کرتاچلاجارہاہے۔سیکولرازم کا یہ فطرت دشمن رویہ یورپ میں کارخانوں کوکم کرنے کی بجائے ایشیاکے درپے ہے کہ فضائی آلودگی اور آبی قلت کاشورمچاکر یہاں کارخانے لگانابندکروائے جائیں تاکہ یورپ کی ساختہ اشیاءیہاں فروخت ہوں اور ایشیائی عوام یورپی کارخانوں کی منڈی بنی رہیں۔یورپی قیادت کی سرتوڑ کوشش ہے کہ مشرقی دنیامیں کارخانے نہ لگنے پائیں اور کارخانے لگیں بھی توان پر آلودگی ختم کرنے والاایک اوربھاری بھرکم پرزہ لگاکر یہاں کی مصنوعات اتنی مہنگی کردی جائیں کہ عوام یورپ کی بنی ہوئی ارزاں ترچیزیں ہی خریدنے پر مجبورہوجائیں۔اوراس ساری مہم کے لیے آلودگی اورقلت آب کا شور مچایاجاتاہے جب کہ اس آبی کمی کااصل ذمہ دار یورپ خودہے۔پانی کادن منانے کاتقاضاہے یورپ کی سرزمین سے کارخانوں کے اختتام کی مہم شروع کی جائے تاکہ انسانیت کو کچھ سکون میسرآئے اور پانی کی بچت ہو۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*