پالک۔کئی امراض میں محافظ

حکیم راحت نسیم سوہدروی
ہمارے ہاں سبزی خوری کا رجحان کم ہو رہا ہے۔مصر کے رہنے والے تو روزانہ ایک کلو سبزی کھا جاتے ہیں۔ان کے مقابلے میں ہمارے ہاں صرف 80۔85 گرام کی مقدار میں سبزی کھائی جاتی ہے۔ماہرین غذا کے مطابق ہر فرد کو روزانہ کم از کم 300 سے352 گرام کی مقدار میں سبزیاں کھانی چاہییں۔دیہات میں سبزی خوری کا رجحان پایا جاتا ہے،لیکن شہروں میں یہ رجحان بہت کم ہے۔
یاد رکھیے،متوازن غذا میں سبزیوں کا شمار لازمی ہوتا ہے اور متوازن غذا ہی صحت اور توانائی کے لئے ضروری ہے۔جسم کو روزانہ لحمیات(پروٹینز)، نمکیات(منرلز)،نشاستے(کاربوہائیڈریٹ)اور چکنائی کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ مفید صحت اجزاءآنے،چاول،دال،گوشت،دودھ اور دہی سے مل جاتے ہیں،لیکن حیاتین(وٹامنز)اور معدنیات کم مقدار میں ملتی ہے۔
یہ اجزاءسبزیوں میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔
سبزیوں میں حیاتین الف،ب،ج(وٹامنز اے،بی،سی)کے علاوہ کیلسیئم،پوٹاشیم،آیوڈین اور فولاد بھی ہوتا ہے۔سبزیوں سے جو اہم جزو حاصل ہوتا ہے،وہ ریشہ(فائبر)ہے،جو آنتوں میں پہنچ کر مضر صحت رطوبتوں کو جذب کرنے کے علاوہ آنتوں کو حرکت دیتا اور فضلے کے اخراج میں اہم کردار ادا کرتا ہے،اسی لئے سبزی خور قبض اور آنتوں کی بیماریوں میں مبتلا نہیں ہوتے۔
انھی سبزیوں میں سے ایک اہم و مفید سبزی پالک ہے،جس میں کئی مفید اجزاءہوتے ہیں۔یہ نشوونما کی خصوصیات سے بھرپور سبزی ہے۔یہ مانع تکسید (Antioxidant) ہے۔اگر اسے بھاپ میں پکا کر یا اُبال کر کھایا جائے تو اس میں موجود حیاتین الف،ب،ج اور ھ(ای) ضائع نہیں ہوتیں۔پالک میں میگنیزیئم اور اومیگا۔3 فیٹی ایسڈز بھی ہوتے ہیں،جو صحت کے لئے ضروری ہیں۔پالک کا اصل وطن مشرق وسطیٰ بتایا جاتا ہے،لیکن زیادہ تر اتفاق افغانستان پر ہے۔
عرب تاجروں کے ذریعے یہ ہندوستان اور چین میں آئی۔اب تو یہ ساری دنیا میں کاشت کی جاتی ہے۔پالک ان افراد کے لئے بھی مفید ہے،جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں،اس لئے کہ اس میں حرارے(کیلوریز)کم ہوتے ہیں،جب کہ کیلسیئم،حیاتین اور فولاد زیادہ ہوتا ہے۔اس میں فلیوونائڈز(Flavonoids) بھی زیادہ ہوتے ہیں،جو مانع سرطان و سوزش ہیں۔دیگر سبزیوں،مثلاً گاجر،حلوا کدو،پھول گوبھی اور شاخ گوبھی (بروکولی)کے مقابلے میں پالک غذہ قدامیہ(پروسٹیٹ گلینڈ) کی روک تھام میں زیادہ مو?ثر و معاون ہے۔
آج کل ایسی غذائیں زیادہ کھائی جا رہی ہیں،جو تیزابیت پیدا کرتی ہیں،مثلاً تیز مرچ مسالے والے کھانے،بازار کی تیار شدہ غذائیں، جن میں روغن زیادہ ہوتا ہے۔پالک میں پائی جانے والی معدنیات تیزاب کو کم کر دیتی ہیں۔اس میں فولک ایسڈ بھی ہوتا ہے،جو شریانوں کو نقصان پہنچانے والے جزو کی سطح کو کم کر دیتا ہے۔پالک میں حیاتین”ک“(وٹامن K) بھی ہوتی ہے،جو صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔
پالک کھانے سے اعصاب اور ذہن پر اچھے اثرات پڑتے ہیں۔پالک رگوں میں چربی جمع ہونے سے روکتی ہے۔پالک میں پائی جانے والی حیاتین الف جلد کو مناسب نمی بخشتی ہے اور جلد کو کیل مہاسوں،جھریوں اور مختلف قسم کی جلدی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ پالک آسانی سے دستیاب ہونے والی سبزی ہے۔اسے سلاد اور سینڈوچز میں ڈال کر بھی کھایا جا سکتا ہے۔پالک کو مختلف پکوانوں اور سوپ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ہمارے ہاں لوگ پالک کے پکوڑے بھی کھاتے ہیں۔مغرب میں رہنے والے افراد اُبلے اور سینکے ہوئے آلو¶ں پر پالک اور ادرک کی لگدی(پیسٹ)ڈال کر کھاتے ہیں۔یہ اہل مغرب کی پسندیدہ غذا ہے۔پالک میں کم پانی ڈال کر ہمیشہ ہلکی آنچ پر پکانا چاہیے،تاکہ اس کے مفید صحت غذائی اجزاءضائع نہ ہوں۔
پالک میں موجود ترشک کا تیزاب (Oxalic Acid) ہماری آنتوں کی صفائی کرتا ہے اور فولاد وکیلسیئم کو جسم میں جذب ہونے میں مدد دیتا ہے۔
کچی پالک کو اگر ایسی غذا کے ساتھ کھایا جائے،جس میں حیاتین ج ہو تو جسم میں فولاد آسانی سے جذب ہو جاتا ہے۔پالک ہمیشہ تازہ استعمال کرنی چاہیے۔اگر اسے ریفریجریٹر میں زیادہ دن رکھا جائے تو اس کی غذائی افادیت کم ہو جاتی ہے،تاہم محفوظ طریقے سے ریفریجریٹر میں رکھنے سے یہ کئی روز تک خراب نہیں ہوتی۔پالک میں ایک ایسا کیمیائی مادہ بھی پایا جاتا ہے،جو غدہ درقیہ (تھائرائڈ گلینڈ) کے لئے مضر ہے،اس لئے وہ افراد جنھیں غدہ درقیہ کا مسئلہ درپیش ہو،وہ پالک کھانے میں بہت احتیاط برتیں۔وہ افراد جو جوڑوں کے درد میں مبتلا ہوں،وہ بھی احتیاط کریں۔اس کے علاوہ گردے میں پتھری کے مریض بھی پالک نہ کھائیں۔اگر ان افراد کا پالک کھانے کو بہت دل چاہے تو اپنے معالج سے پہلے مشورہ کر لیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*