تازہ ترین

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر کے خطاب کے دوران اپوزیشن کا احتجاج

اسلام آباد(آئی این پی) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں ہنگامہ آ رائی ہوئی ، اپوزیشن ارکان سپیکر کے ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور وزیر اعظم عمران خان اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی،ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دی ، گرفتار ارکان اسمبلی کی تصاویر لہرائیں، اپوزیشن اور حکومت کے ارکان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی ، اپوزیشن ارکان نے ©’ گو نیازی گو‘ ’کشمیر کا سودا نامنظور ‘،’غنڈہ گردی کی سرکار نہیں چلے گی‘ ،’گلی گلی میں شور ہے عمران کی باجی چور ہے ‘،’مودی کا جو یار ہے غدار ہے‘ ،’ٹرمپ کا جو یار ہے غدار ہے ‘، ’اسرائیل نامنظور‘ ،’ ووٹ کو عزت دو‘ ،’سلیکٹڈ وزیراعظم نامنظور‘ ،’چینی مہنگی ،آٹا مہنگا ،بجلی ،گیس مہنگی ہائے ہائے ‘،’ نیازی سستا ہائے ہائے‘ ’،میڈیا کوآزاد کرو‘،’شرم کرو حیاءکرو اسیروں کو رہا کرو‘،’ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے ‘،’گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو ‘ کے نعرے لگائے، اپوزیشن ارکان نے بینرز لہرائے جن پر ’نیب کا کالا قانون نامنظور‘ ،’ احتساب کے نام پر انتقام نامنظور‘، ’ صدر آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں‘ ،’ مہنگائی نا منظور‘ کے نعرے درج تھے۔جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا ۔ڈاکٹر عارف علوی نے جونہی خطاب شروع کیا تو اس دوران قائد حزب اختلاف شہبازشریف ایوان میں داخل ہوئے ،ان کےلئے اپوزیشن ارکان نے دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا کے نعرے لگائے،صدر مملک کا خطاب شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا ۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف سپیکر سے بات کرنے کےلئے فلور مانگا ،اس دوران اپوزیشن ارکان نے ایوان میں شور شرابا شروع کردیا ،ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں ، اپوزیشن ارکان نے گو نیازی گو کے نعرے لگانے شروع کئے اور گرفتار ارکان اسمبلی شاہد خاقان عباسی ،آصف زرداری ،رانا ثناءاللہ ، خواجہ سعد رفیق کی تصاویر لہرانا شروع کردیں ، اپوزیشن ارکان سپیکر کے ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور احتجاج جاری رکھا اور سپیکر کو تصاویر دیکھا تے رہے ، بعض ارکان نے صدر کے ڈائس کے سامنے آکر احتجاج کی کوشش کی تو اسمبلی کے سیکیورٹی سٹاف نے ان کو روکا ،اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر عمران خان کی طرف بھی پھینکنے کی کوشش کی،اپوزیشن کے بعض ارکان اپنے احتجاج کی ویڈیو بھی بناتے رہے ۔وزیراعظم عمران خان کےلئے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے حفاظتی دیوار بنا لی ، اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی ، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما رفیع اللہ اور پاکستان تحریک انصاف کے کراچی کے ارکان اسمبلی کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جس کو اسمبلی کے سیکیورٹی کے عملے نے روکا ،اسمبلی کی سیکیورٹی نے حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان لائن بنا لی تا کہ کسی قسم کے تصادم کو روکا جا سکے ۔وزیراعظم عمران خان ہیڈ فون لگا کر صدر مملکت کا خطاب سنتے رہے اور اپوزیشن کے احتجاج کو نظر انداز کرتے رہے ، بعض موقعوں پراپوزیشن کے احتجاج کو دیکھ کر مسکراتے بھی رہے ،اپوزیشن ارکان گرفتار اراکین اسمبلی کی پورٹریٹ تصاویر لے کر اسمبلی میں ان کےلئے مختص نشستوں پر تصاویر رکھ دیں ۔اپوزیشن ارکان بینرز لے کر ایوان میں آئے ،بینرز پر لکھا تھا نیب کا کالا قانون نامنظور ، احتساب کے نام پر انتقام نامنظور، کشمیر کا سودا نامنظور، صدر آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ، مہنگائی نا منظور، صدر کے خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان مسلسل نعرے بازی کرتے رہے جبکہ حکومتی ارکان ڈیسک بجا کر صدر مملکت کو خطاب پر داد دیتے رہے ،گیلری میں موجود مسلح افواج کے سربراہان ، غیر ملکی سفیر ،صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور گورنرزآخر تک صدر مملکت کا خطاب سنتے رہے اور احتجاج کو دیکھتے رہے ۔اپوزیشن ارکان نے اس موقع پر گو نیازی گو ،کشمیر کا سودا نامنظور ،غنڈہ گردی کی سرکار نہیں چلے گی ،گلی گلی میں شور ہے عمران کی باجی چور ہے ،لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی ،سلیکٹڈ حکومت نامنظور ،مودی کا جو یار ہے غدار ہے ،ٹرمپ کا جو یار ہے غدار ہے ، اسرائیل نامنظور ، ووٹ کو عزت دو ،سلیکٹڈ وزیراعظم نامنظور ،چینی مہنگی ،آٹا مہنگا ،بجلی ،گیس مہنگی ہائے ہائے ، نیازی سستا ہائے ہائے ،میڈیا کوآزاد کرو،شرم کرو حیاءکرو اسیروں کو رہا کرو،ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے ،گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*