تازہ ترین

ٹر ینوں کا المنا ک حا دثہ

گذشتہ رو ز ڈ ھرکی کے قر یب دو ٹر ینوں کے المنا ک حا دثے میں 50 افر اد جا ں بحق اور سینکڑ و ں زخمی ہو گئے ہلا کتو ں میں اضا فے کا خد شہ ظا ہر کیا گیا ہے حادثہ را ت کی تا ریکی میں پیش آیا حادثے میں 14 بو گیاں متاثر جبکہ 3 مکمل طو ر پر تباہ ہو ئیں حادثے کے دو ران ملت ایکسپر یس کی کئی بو گیا ں پٹر ی سے اتر کر مخالف ٹر یک پر آگئی تھیںجس کے 2 منٹ بعد ہی سر سید ایکسپر یس گر نیوالی بو گیوں سے ٹکر ا گئی ریسکیو ور کر ز کے سا تھ سا تھ پا ک فو ج اور رینجر ز کے دستو ں نے بھی ریسکیو میں حصہ لیا آپر یشن میں پاک فو ج کے 2 ہیلی کا پٹر بھی شامل ہیں۔
ڈھر کی کے قر یب پیش آنیو الا دو ٹر ینو ں کا المنا ک حادثہ انتہائی قا بل افسو س ہے جس میں کئی افر اد جا ں بحق اور متعد زخمی ہو گئے عینی شا ہد ین کے مطا بق حادثہ را ت کے وقت پیش آیا جس کے باعث زخمیوں کو اپنی مد د آپ کے تحت چنگچی اور ٹر یکٹر ٹر الیوں میں ڈا ل کر اپنی مد د آپ کے تحت ہسپتا ل لے جا یا گیااند ھیر ے کی وجہ سے فو ری امد اد ی کا ر وائی شر وع ہو سکی اور امد اد ی ٹیموں کو پہنچنے میں تا خیر ہو گی۔
جا ئے حادثہ پر امد ادی ٹیمو ں کو بر وقت نہ پہنچنا بلا شبہ افسو س کی با ت ہے کہ اتنا بڑ ا حادثہ ہونے کے با وجو د امد ادی ٹیمیں بر وقت نہیں پہنچ پا تیں اور زخمیوں کو عو ام اپنی مد د آپ کے تحت ہسپتا لو ں میں پہنچا رہی ہے پاکستا ن میں ریلو ے کے اس طرح کے حادثا ت اکثر ہو تے رہتے ہیں مگرآج تک ان میں سے کسی کو قصور وا ر ٹھہر ا کر سز ا نہیں دی گئی کیونکہ ہما رے ملک میں جب بھی کوئی ایسا وا قعہ رہنما ہو تا ہے تو اعلیٰ حکام اس کا نو ٹس لیتے ہوئے ایک انکوائر ی کمیٹی بنا دیتے ہیں اور پھر اس طر ح یہ معا ملہ سر د خانوں کی نذ ر ہو جا تاہے کیونکہ یہ امر حقیقت پر مبنی ہے کہ اگر کسی بھی معا ملے کو سر د خانے میں ڈالنا ہو تو اس کے تحقیقا ت کے لیے کمیٹی بنا دی جائے یہ خو دہی سر د خانے کی نذر ہو جائے گا۔
اس لیے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں نو ٹس لینے اور تحقیقا ت کے لیے کمیٹی بنا نے کے عمل سے ذر ا آگے جانا چا ہیئے ایسے حادثات کی فو ری طور پر تحقیقات کر کے اس کے ذمہ دا رو ں کو کڑ ی سز ائیں دینی چاہئیں کیونکہ یہ حادثا ت کسی غفلت یا لا پر واہی کے بغیر رونما نہیں ہو تے ان میں غفلت اور لا پر واہی کا بڑ ا عنصر پایا جا تا ہے۔
ڈی ایس ریلو ے سکھر طا رق لطیف کے بیا ن کے مطا بق ہم نے ایک ماہ قبل تحر یر ی طو ر پر حکومت کو سکھر ڈویژن کے 13 مقا ما ت پر ٹر یک کی حا لت ٹھیک نہ ہونے کے با رے میں بتا دیا تھا ان ہی 13 مقا ما ت میں مو جو دہ حا دثے کا مقام بھی شا مل ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر مذکو رہ بیان کا جائزہ لیا جائے تومعاملہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ریلو ے کا مذکو رہ حادثہ بھی غفلت اور لا پر واہی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے اتنی قیمتی جا نو ں کا ضیا ع ہو ا جو کہ بڑے افسو س کی با ت ہے حکومت اور متعلقہ محکمے کو اس سلسلے میں معا ملے کی تہہ تک پہنچنے کے اقد اما ت کرنے چاہئیں تا کہ آئندہ ایسے حادثا ت کی رو ک تھام ہو سکے اس طرح ہر معا ملے کو حادثا ت کانام دے کر جان نہیں چھیڑ نی چا ہیئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*