تازہ ترین

وی۔ آئی۔پی کلچر کبھی ختم ہوگا؟

ڈاکٹر احمد سلیم
گزشتہ کئی دہائیوں سے تمام سیاسی پارٹیاں عوام کو جو سبز باغ دکھاتی ہیں ان میں سے ایک اور سب سے اہم یہ وعدہ ہوتا ہے کہ ہم وی۔آئی۔پی کلچر کا خاتمہ کر دیں گے۔ معیشت کی بہتری، کشکول توڑ دینے، کشمیر کی آزادی اور پاکستان کو دنیا کا لیڈر بنا دینے جیسے بہت سے وعدے ایسے ہوتے ہیں جن پر عمل کسی پارٹی کے بس میں نہیں کیونکہ ان سب چیزوںکے تانے بانے عالمی معیشت، سیاست اور حالات سے جڑے ہیں۔ لیکن ملک کے اندر موجود وی۔آئی۔پی کلچر بہر صورت پاکستان کااندرونی معاملہ ہے جس کا تعلق صرف ہمارے رویوں سے ہے۔
اس لیے اس کو ختم کرنے کے لیے صرف سچی کوشش اور ارادے کی ضرورت ہے۔ ہمارا آئین کہتا ہے کہ پاکستان کے تمام شہری برابر اور ایک جیسے حقوق اور سہولیات کے حقدار ہیں۔ ہمارا قانون کہتا ہے کہ گورنمٹ ملازم ”پبلک سرونٹ“ یعنی ”عوام کے ملازم“ ہیں۔ اور ہمارے سیاستدان خود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ عوامی خدمتگار ہیں اور انکی زندگی کا واحد مقصد عوام کی خدمت ہے۔ پھر یہ کیسا کمال ہے کہ عوام کے ”ملازمین“ اور خدمتگاروں کو تو ہر قسم کی سہولت اور تحفظ حاصل ہے۔ ان کو نہ کبھی کسی لائن میں کھڑا ہونا پڑتا ہے اور نہ ٹریفک سگنل پر۔ کثیر تنخواہوں اور مشاہروں کے باوجود انکو روٹی، کپڑا، بجلی گاڑی اور بنگلہ ہر شے مفت ملتی ہے۔ اور وہ عوام جس کی خدمت انکا ”فرض“ ہے، کو صاف پانی میسر ہے نہ روٹی نہ دوا۔ دو کلو چینی سرکاری نرخ پر خریدنے کے لیے عوام کوروزے کی حالت میںشناختی کارڈ ہاتھ میں پکڑ ے کئی کئی گھنٹے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتاہے۔ یہی حال دیگر ضروریات زندگی کا ہے۔ شاید اس سب کی وجہ یہ ہے۔
کہ ہمارا معاشرہ آج تک یہ تشریح ہی نہیں کر سکا کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں اور ہمارے اصل VIP درحقیقت ہیںکون؟ کیا وہ سرکاری کارندہ VIP ہے جو ”عوام کا ملازم“ ہے اور ائیر کنڈیشنڈ سرکاری دفتر میں عوام کے پیسے سے خریدی گئی بجلی میں بیٹھ کر، عوام کو بجلی اور دیگر سہولیات مہیا کرنے کی منصوبہ بندی کے لیے میٹینگز کرتا ہے؟ اور اس کے بعد عوام کے پیسے سے بنائے گئے GOR میں آرام کرتا ہے؟ یا پھر کیا کسی غریب متوسط گھرانے کا وہ بچہ VIP ہے جو تعلیم حاصل کر رہا ہے اور ہمارا مستقبل ہے۔
”عوام کے ملازمین“ ان VIPs یعنی ”خاص بندوں“ کو تمام سہولیات (تنخواہ کے علاوہ) مفت ملتی ہیں اور دوسری جانب سکولوں میں بجلی ہے نہ پینے کا پانی۔ ہسپتالوں میں دوا ہے نہ علاج۔ کیا ”عوام کے ان ملازمین“ کو بجلی، دوا اور سہولیات دینا زیادہ بہتر ہے یا ہسپتالوںمیں پڑے لاچار بیماروں کو؟ کیا سکولوں کالجوں میں پڑھنے والے ہمارے مستقبل کو یہ سب ملناچاہئیے یا پھر ان سفید ہاتھیوں کو جن سے آج تک پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میرے لیے تو VIP وہ بچہ ہے جو ان حالات میں بھی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ وہ استاد حقیقی VIP ہے جو پاکستان کے مستقبل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہا ہے۔
کیا یہ شرم کا مقام نہیں کہ اس حقیقی VIP سے ہم کہیں مردم شماری اور کہیں پولیو کے قطرے پلوا رہے ہوتے ہیں۔ کئی کئی مہینوں سے رکی تنخواہوں کے حصول کے لیے ان اساتذہ کو سڑکوں پر آنا پڑتا ہے۔ دنیا میں کوئی اور ملک ایسا ہے جہاں استاد سے تعلیم کی بجائے اس طرح کے کام لیے جاتے ہیں؟ کیا وہ ڈاکٹر VIP نہیں ہے جو خراب مشینوں اور ٹیسٹوں اور ادویات کی کمیابی کے باوجود، آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کی قلیل تنخواہ لے کر بھی چوبیس چوبیس اور چھتیس چھتیس گھنٹے لگا تار ڈیوٹی دے رہا ہے؟
اگر ہمارا ملک ایک ”ویلفئیر سٹیٹ“ ہے تو صرف ان VIPs کے لیے کیوں؟ سب کے لیے کیوں نہیں؟ جب کہ یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ ملک میں بجلی، خوراک، پٹرول، علاج معالجہ کی کمی سمیت کوئی بھی بحران ہو، اسکے ذمہ دار متعلقہ محکمہ اور خاص طور پر متعلقہ محکموں کے بڑے افسران یعنی یہ ”VIP“ ہوتے ہیں۔
کیونکہ انہوں نے ان مسائل سے نبٹنے کے لیے بروقت منصوبہ بندی نہیں کی اور اس طرح یہ اپنے کام اور اپنی ”جاب“ میں ناکام ہو گئے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود بجائے اس کے کہ ان ناکام لوگوں سے پوچھ گچھ ہو اور انہیں سزا دی جائے، یہ لوگ اپنے آپ کو VIP کا درجہ دے کر ہمارے سروں پر بیٹھے رہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ انہیں ایک محکمے سے اٹھا کر دوسرے محکمے میں بھیج دیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ VIP کی سب سے خاص قسم وہ ہے جن کا انتخاب ہم خود کرتے ہیں۔ یہ لوگ دوران الیکشن گلی گلی پھر کر، جھوٹے سچے وعدے کر کے اور پاکستان کے سنہرے مستقبل کے دعویٰ کر کر کے ووٹ کی بھیک مانگتے ہیں۔ پھر جیسے ہی الیکشن ہو جائیں گے ان میں سے ہارنے والے پانچ سال کے لیے غائب ہو جاتے ہیں اور جو جیت جائیں وہ VIP بن کر ہمارے سروں پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ہے جس نے ملک کے لیے یا اپنے محکمے کے لیے کوئی بے مثال پالیسی دی ہو، کوئی ایجاد کی ہو؟ کوئی دوا بنائی ہو؟ معاشرے کے لیے کوئی ایسابڑا کام کیا ہو جسے دنیا مانتی ہو؟ اگر ٹریفک روک کر راستہ دینا ہی ہے توکیوں نہ اس استاد کے لیے ٹریفک بلاک کی جائے جو کلاس لینے جا رہا ہو۔ اس ڈاکٹر کے لیے راستہ خالی کیا جائے جو کو ئی آپریشن کرنے جا رہا ہو اور جس کا ایک ایک لمحہ کسی مرتے مریض کے لیے اہم ہے۔
کیوں نہ کسی سائنسدان، کسی مصنف یا موجد کے لیے ٹریفک بلاک کرنے کی روایت ڈالی جائے؟ ہمارے خود ساختہ VIP حضرات میںسے کون ایسا ہے جس کے کہیں دیر سے پہنچنے سے ملک کا کوئی نقصان ہو جائے گا؟ ان لوگوں نے زیادہ سے زیادہ کسی تقریب میں کوئی افتتاح کرنے جانا ہوتا ہے اور وہاں تو یہ جان بوجھ کر لیٹ جاتے ہیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ یہ VIP ہیں۔
کیا ہر کام کی مانند اس کے لیے بھی ہمیںکسی عدالت میں ایک درخواست دائر کرنی ہو گی کہ برائے مہربانی بتایا جائے کہ ”VIP“ کی تعریف کیا ہے اور کون اصل VIP ہے؟ تلخ لیکن حقیقت صرف اتنی ہے کہ ہمارے ملک میں” There is a Class above the Class” اور ہمارے ملک کا موجودہ نظام صرف ان چند ہزار لوگوں کو ہر سہولت دینے کے لیے بنا ہے۔ ان لوگوں کو پاکستان پیارا ہو یا نہ ہو، ہمارے پیارے پاکستان کی ہر نعمت اور سہولت صرف ان کے لیے ہے۔ باقی عوام کے لیے صرف وعدے اور سبز باغ۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*