وفا قی حکومت کا سینکڑ و ں آسا میا ں ختم کر نے کا فیصلہ

ایک خبر کے مطا بق وفا قی حکومت نے گر یڈ 1 تا 16 کی سینکڑ وں آسا میوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ آسا میاں ختم ہونے سے تنخو اہوں اور پنشن کی مد میں ار بو ں روپے کی بچت ہو گی ختم کی جانے والی آسا میوں میں ٹر انسفر پو سٹنگ اور تر قی کے باعث خالی آسا میاں شا مل نہیں ہونگی کا بینہ کمیٹی کی وز ا ر توں کو ایک ما ہ میں خالی آسا میوں کی رپورٹ پیش کرنے کی ہد ایت کی گئی ہے صحت تعلیم اور پولیس کی گر یڈ ایک تا 16 کی آسامیاں ختم نہیں کی جا ئینگی ذر ائع نے بتایا ہے کہ کا بینہ کمیٹی نے اخر اجا ت میں کمی اور وسائل کے بہتر استعما ل کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں سٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کا بینہ کمیٹی کا فیصلہ تما م وزارتوں اور ڈو یژنز کو ار سا ل کردیا ہے ۔
اگر یہ خبر صحیح ہے تو وفا قی حکومت کا مذکو رہ اقد ام کسی بھی طر ح ٹھیک نہیں ہے کیو نکہ اس وقت پہلے سے ملک میں بے رو ز گا ر ی عر وج پر ہے جس کی وجہ سے عو ام کی ایک بڑی تعد اد معا شی بحران سے دو چا ر ہے نو جو ان ہا تھوں میں ڈگر یاں لیے در در کی ٹھو کریں کھا رہے ہیں اور ان میں اکثر اوور ایج بھی ہو رہے ہیں حکومت کو ان بے رو ز گا ر و ں کو رو ز گا ر دینے کی بجا ئے پہلے سے مو جو د آسامیوں کو ختم کرنے کا مذکو رہ فیصلہ عو ام کے لیے بڑی مشکلا ت پید ا کر سکتا ہے جیسا کہ اوپر خبر میں بتا یا گیا ہے کہ اس مد میں حکومت کو تنخو اہوں اور پنشن میںا ر بوں روپے کی بچت ہو گی تو ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کے پا س مذکو رہ اقد ام کے علا وہ بھی بڑے ذر ائع ہیں جن میں بچت کی جا سکتی ہے عو ام کے منہ سے نو الہ چھین کر بچت کرنا کسی طرح بھی صحیح اقد ام نہیں ہے کیو نکہ ایسے کئی اور ذر ائع بھی ہیں جن سے بچت کی جا سکتی ہے۔
مو جو دہ حکومت جب سے بر سر اقتدار آئی ہے اس نے کچھ ایسے اقد اما ت کئے ہیں جو عو ام کے لیے تکلیف دہ ہیں جن میں سب سے بڑ ا مسئلہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے جس کی وجہ سے عو ام شد ید معا شی بحران سے دو چا ر ہے لیکن دوسر ی جا نب مہنگائی میں کمی کے امکا نا ت دو ر دو ر تک نظر نہیں آرہے بلکہ یہ مز ید بڑھ رہی ہے حکومت اپنے اڑھائی سا لہ دو ر میں عو ام کو خا طر خواہ ریلیف نہیں دے سکی حالا نکہ اس نے بر سر اقتدار آنے سے قبل اور بعد میں اس حوالے سے بے شما ر بیانا ت دیئے ہیں کہ عو ام کو ریلیف دیں گے مگر مہنگائی کے عر و ج کے بعد مذکو رہ آسا میاں ختم کرنے کے فیصلے کے بعد عو ام کی بے چینی میں مز ید اضافہ ہو گا۔
اس لیے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ وفا قی حکومت کو عو ام کی آسا میاں ختم کر کے ار بوں روپے کی بچت کرنے کی بجائے دیگر ذر ائع سے یہ آ مد ن حاصل کر نی چاہیئے جن میں وزر اءکی تعد اد کم اور ان کے لیے بے تحا شا اخر ا جا ت پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا چا ہیئے ان کے اخراجا ت کم کر کے کا فی بچت کی جا سکتی ہے اور اس کے سا تھ سا تھ حکومت کو ملک میں کر پشن کے خاتمے کے لیے اقد اما ت کر نے چاہئیں اور جن جن کے ذمے ملک کے پیسے ہیں ان سے فو ر ی طو ر پر وصول کر نے چاہئیں ان کے اثا ثو ں کو ضبط کر کے وصولی کر نی چاہیئے جس کا مو جو دہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد میں کئی با ر دعو ے کئے ہیں مگر افسو س کی با ت یہ ہے کہ وہ اس سلسلے میں اب تک خا طر خواہ کا میا بی حا صل نہیں کر سکی جو اس کی کا ر کر د گی پر ایک سو الیہ نشا ن ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*