تازہ ترین

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کیخلاف صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش

کوئٹہ(آئی این پی)بلوچستان کے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی، عدم اعتماد قرار داد کی تحریک پیش کرنے کیلئے33ارکان نے حمایت کی۔تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والے سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ آج اکثریت کے بل بوتے پر یہ قرارداد آ گئی ہے اور اس ایوان نے فیصلہ کردیا ہے،ہمارے5 اراکین اسمبلی مسنگ پرسن میں آ گئے ہیں، کسی کا گلا دباؤ کر کوئی اقتدار میں نہیں رہ سکتا، اگر لاپتا ارکان کو بازیاب نہ کرایا گیا تو یہ ایوان اور پورا بلوچستان احتجاج کرے گا، جام کمال خان استعفیٰ دے دیں، اقتدار سے چپکے رہنے کا فائدہ نہیں، آج5 لاپتا ہیں، کل مزید 5 لاپتا کر لیں گے، شاید ان کی کرسی بچ جائے لیکن اب یہ ایوان نہیں چلے گا۔اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے5 اراکین صوبائی اسمبلی لاپتا ہونے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح سے ایوان نہیں چلے گا، اگر پانچ اراکین اسمبلی کو اپنا جمہوری حق استعمال نہ کرنے دیا جائے تو کیا یہ ایوان اور وزیر اعلیٰ اس طرح سے چل سکتے ہیں، یہ ناممکن ہے،اسپیکر اراکین اسمبلی کی بازیابی کا حکم دیں، اگر ایسا نہ ہوا تو ہم گھر نہیں جائیں گے، یہیں بیٹھ کر سڑکیں بند کریں گے اور اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک یہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر جمہوری عمل ختم نہیں ہوتا۔بدھ کواسپیکر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔تحریک عدم اعتماد سردار عبدالرحمن کھیتران نے پیش کی اور اسپیکر نے رولنگ دی کہ تحریک عدم اعتماد کو مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے اور 33ارکان نے قرارداد کی حمایت کر دی ہے۔بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان سردار عبدالرحمن کھیتران نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ 65 کا ایوان ہے، جام کمال خان ہمارے لیے قابل احترام شخصیت ہیں، یہ ایک قبیلے کے سردار ہیں، ان کو قائد ایوان بھی اکثریت کے بل بوتے پر منتخب کیا گیا تھا اور آج بھی اکثریت کے بل بوتے پر یہ قرارداد آ گئی ہے اور اس ایوان نے فیصلہ کردیا ہے حالانکہ ہمارے اراکین اسمبلی مسنگ پرسن میں آ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی کا گلا دباؤ کر کوئی اقتدار میں نہیں رہ سکتا، یہ بلوچستان کی روایت نہیں ہے کہ کسی کو آپ مسنگ اور اغوا کریں اور ایوان کے تقدس کو پامال کریں، کسی کو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سردار عبدالرحمن نے لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر لاپتا افراد کو بازیاب نہ کرایا گیا تو یہ ایوان اور پورا بلوچستان احتجاج کرے گا، ہم اس سطح پر نہیں جانا چاہتے، ہمارے لیے ہر ادارہ قابل اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ایوان کا ایک شخص سے اعتماد اٹھ گیا ہے تو بہتر یہی ہو گا کہ جام کمال خان استعفی دے دیں، اقتدار سے چپکے رہنے کا فائدہ نہیں ہے، آج پانچ لاپتا ہیں، کل مزید پانچ لاپتا کر لیں گے، شاید ان کی کرسی بچ جائے لیکن اب یہ ایوان نہیں چلے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اخلاقیات اور بلوچستان کی روایت کا تقاضا ہے کہ فوری طور پر جام کمال خان مستعفی ہو جائیں کیونکہ ہم تاریخ میں یہ نہیں لکھوانا چاہتے کہ انہیں وزیراعلی کے منصب سے ہٹایا گیا۔اس موقع پر قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ نے ایوان سے خطاب میں پانچ اراکین صوبائی اسمبلی لاپتا ہونے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح سے ایوان نہیں چلے گا اور اس طرح سے آج جو بھی لوگ اپنا آئینی اور جمہوری حق استعمال کررہے ہیں، انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پانچ اراکین اسمبلی کو اپنا جمہوری حق استعمال نہ کرنے دیا جائے تو کیا یہ ایوان اور وزیر اعلی اس طرح سے چل سکتے ہیں، یہ ناممکن ہے لہذا اسپیکر اراکین اسمبلی کی بازیابی کا حکم دیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم گھر نہیں جائیں گے، یہیں بیٹھ کر سڑکیں بند کریں گے اور اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک یہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر جمہوری عمل ختم نہیں ہوتا۔اس سے قبل بدھ کو بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین اور متحدہ اپوزیشن نے حکومت اور وزیراعلی کو مزید دو اراکین کی حمایت سے محروم کردیا ہے۔ناراض اراکین اور متحدہ اپوزیشن نے ایم پی اے ہاسٹل میں بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے رہنما احسان شاہ سے ملاقات کی۔بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ پاکستان عوامی پارٹی کے رہنما احسان شاہ بھی ہمارے قافلے میں شامل ہوگئے ہیں جبکہ نور محمد دمڑ بھی ہمارے کاروان میں شامل ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرادر اختر مینگل سے بھی بات ہوئی ہیں اور انہوں نے بھی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے جس کے بعد آج ہمارے حمایتی اراکین کی تعداد 42تک پہنچ گئی ہے۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بلوچستان اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے روز سے کہہ رہا ہوں کہ اتحادی ہمارے ساتھ ہیں اور ہم پر امید ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ اپوزیشن حکمراں جماعت کے ساتھ مل کر کھیل رہی ہے، سیاست میں سب پر اعتماد ہوتے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومتی اراکین اپوزیشن کے ساتھ مل کر تحریک لے کر آئیں،اگر تحریک عدم اعتماد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آتی تو بات بنتی تھی، اپوزیشن نے اتحاد کو نقصان پہنچانے کے لیے ماحول پیدا کیا۔جام کمال خان نے کہا کہ ہم بلوچ اور پشتون ہیں اور کسی کو دعوتوں میں جانے سے نہیں روکتے، احسان شاہ ہمارے ساتھ ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ثنااللہ زہری بھی ہمارا ساتھ دیں گے، 26 اراکین ہمارے ساتھ ہیں جبکہ یار محمد رند بھی ہمارے ساتھ مشاورت میں تھے۔اجلاس سے قبل وزیراعلی جام کمال خان کی جانب سے بلوچستان عوامی پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے صوبائی وزرا، سینیٹرز، اراکین اسمبلی اور پارلیمنٹرینز کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا، جس میں ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی، صوبائی وزرا میر سلیم احمد کھوسہ،عارف محمد حسنی، محمد خان طور، مٹھا خان کاکڑ، عبدالخالق ہزارہ، زمرک خان اچکزئی، صوبائی مشیران نوابزادہ گہرام خان بگٹی اور سردار سرفراز خان ڈومکی سمیت سینیٹر آغا عمر احمد زئی، سینیٹر دنیش کمار اور دیگر نے شرکت کی۔اس موقع پر جام کمال نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر پراعتماد ہوں، ہم بلوچ ہیں کسی کو دعوتوں سے نہیں روک سکتے، تحریک عدم اعتماد پوری اپوزیشن کی طرف سے نہیں آئی، ساڑھے 3 سال میں اپوزیشن سے تعلقات بہت مضبوط ہوئے ہیں، ہماری اتحادی جماعتیں ہمارے ساتھ رہیں گی، یہ کیسے ممکن ہے حکومتی ارکان اپوزیشن سے مل کر تحریک عدم اعتماد لائیں؟، دیکھتے ہیں ووٹنگ 3 روز میں ہوتی ہے 7 روز میں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*