تازہ ترین

وزیر اعظم نے مودی کے بیانیہ کو شکست دی، فردوس عاشق

اسلام آباد(آئی این پی )وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے دن رات ایک کر کے مودی کے بیانیہ کو شکست دی، جب تک کشمیریوں کو حق نہیں ملتا ہم کھڑے رہیں گے،وزیر اعظم مظلوم کشمیریوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کل یورپی یونین اور اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی)کی طرف سے ایک موثر آواز کشمیریوں کی حمایت میں سامنے آئی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 10 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جس میں سے 8 نکات کی منظوری دی گئی جبکہ 2 کو موخرکر دیا۔ منگل کووفاقی کابینہ کے فیصلوں بارے ۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی وزیر عمر ایوب اور ندیم بابر کے ہمراہ میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے دن رات ایک کر کے مودی کے بیانیہ کو شکست دی، جب تک کشمیریوں کو حق نہیں ملتا ہم کھڑے رہیں گے،وزیر اعظم مظلوم کشمیریوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کل یورپی یونین اور اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی)کی طرف سے ایک موثر آواز کشمیریوں کی حمایت میں سامنے آئی۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 10 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جس میں سے 8 نکات کی منظوری دی گئی جبکہ 2 کو موخرکر دیا۔وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ جی آئی ڈی سی کوئی نئی چیز نہیں ہے سال 2011 میں بھی اسے لگایا گیا تھا۔ وزیر اعظم چاہتے ہیں عوام پر گیس کی قیمتوں کا بوجھ کم ہو جبکہ سپریم کورٹ نے سال 2013 اور 14 میں اس کو جمع کرنے سے منع کر دیا تھا۔ ن لیگ بھی اس کو ایکٹ اور آرڈیننس کے تحت لائی تھی۔انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر کو رعایت دینے سے متعلق خبر بالکل غلط ہے، کسی کو بھی کسی سیکٹر میں رعایت نہیں دی گئی ہے۔عمر ایوب نے کہا کہ جی آئی ڈی سی کا مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے تاکہ عوام کو ریلیف ملے، جی آئی ڈی سی کے قانون میں درج ہے کہ پہلے فرٹیلائزر کمپنیوں کا آڈٹ ہو گا۔ جی آئی ڈی سی کی مد میں217 ارب روپے جمع ہوئے اور کھاد کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ جی آئی ڈی سی کے حوالے سے ابہام کو مکمل دور کیا جائے گا اور اس قانون کے تحت پہلے کھاد کمپنیوں کا آڈٹ کریں گے۔ اس قانون سے صارفین پر قیمتوں کا بوجھ کم ہو گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے سی این جی سیکٹر سے معاہدہ کر کے 50 فیصد معاف کیا تاہم ہماری کوشش ہے کہ پرانے معاملات ختم کر کے قیمتیں کم کی جائیں۔معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ کابینہ کا فیصلہ ہے فرٹیلائزرز کمپنیوں سے معاہدے سے پہلے آڈٹ کرنا ہے اور فرٹیلائزرز کمپنیاں جی آئی ڈی سی کے تحت اپنی قیمتیں فائنل کرتی ہیں۔کابینہ کافیصلہ ہے فرٹیلائزرزکمپنیوں سے معاہدے سے پہلے آڈٹ کرناہے ،ہماری کوشش ہے کہ پرانے معاملات ختم کرکے ریٹس کم کیے جائیں،پچھلی حکومت نے سی این جی سیکٹرسے معاہدہ کرکے50فیصدمعاف کیا۔ندیم بابر نے کہا کہ جی آئی ڈی سی کے حوالے سے ابہام کومکمل دورکیاجائےگا،آرڈیننس کے تحت پہلے کھادکمپنیوں کاآڈٹ کریں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*