تازہ ترین

وزیراعلیٰ سے ملاقات کرکے،بی اے پی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانے کی تجویز دونگا، جان جمالی

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان عوامی پارٹی کے چیف آرگنائزر رکن صوبائی اسمبلی میر جان محمد جمالی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سے ملاقات کر کے انہیں تجویز دونگا کہ جلداز جلد بلوچستان عوامی پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلائیں اجلاس میں جس کے پاس بھی اکثریت ہو اسے پارٹی کا پارلیمانی لیڈر نامزد کردیا جائے مخلوط حکومت میں شامل اتحادیوں کے ساتھ ملکر چلیں گے بلوچستان میں دفتری کام ٹھپ ہوئے پڑے ہیں کوشش ہے چیزیں بہتری کی طرف جائیں سعید احمد ہاشمی اور میری نیت یہی ہے کہ پارٹی چلے ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہم دونوں گروپوں کو منانے کی کوشش کریں گے تاکہ پارٹی میں اختلافات ختم کئے جاسکیں ۔ یہ بات انہوں نے صوبائی وزیر نوابزاد ہ طارق مگسی کے ہمراہ منگل کو اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان کی طرف سے گزشتہ روز وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی کچھ عرصے سے پارٹی میں رسہ کشی چل رہی ہے پانچ ہفتوں سے پارلیمانی گروپ میں تفرقہ آیا اور بی اے پی دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے پارٹی کے سینئر رکن اور مرکزی آرگنائزر کی حیثیت سے وزیراعلیٰ کو روبر کہونگا کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلائیں جس میں 24ارکان صوبائی اسمبلی شریک ہوں اور اندرون خانہ فیصلہ کریں کہ ہم کیا چاہتے ہیں تاکہ پارٹی میں رسہ کشی ختم ہو انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے کہ اس میں جسے بھی قربانی دینی ہے و ہ دیں اور جسے بھی پارٹی پارلیمانی لیڈر بنائیں ہم سب کو اکثریت کا فیصلہ تسلیم کرنا چاہےے انہوں نے کہا کہ نومبر کے دوسرے ہفتے تک پارٹی صدر ،جنرل سیکرٹری کا انتخاب مکمل کرلیں گے جس کے بعد صوبائی کابینہ تشکیل دی جائیں گی انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں تمام لوگ اکھٹے ہوئے اگر کوئی وزیراعلیٰ ہاﺅس نہیں جا نا چاہتا تو پارٹی دفتر میں دوست اکھٹے ہوں انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں دفتری کام ٹھپ ہوئے پڑے ہیں چیزیں بہتری کی طرف جائیں گی سعید احمد ہاشمی اور میری نیت یہی ہے کہ پارٹی چلے ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہم منانے کی کوشش کریں گے تاکہ پارٹی میں اختلافات ختم کئے جاسکیں انہوں نے کہا کہ میری سوچ یہی ہے کہ سب کو اکھٹا کریں اور مشاورت سے چلیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہمیشہ مخلوط حکومتیں بنی ہیں اور مخلوط حکومتیں ہمیشہ کمزور ہوتی ہیں سوائے 1985کے انتخابات کے تمام حکومتیں مخلوط رہی ہیں انہوں نے کہا کہ پارٹی کے پارلیمانی لیڈر وزیر اعلیٰ جام کمال خان ہیں جب تک 24ارکان طے نہیں کرتے پارلیمانی لیڈر تبدیل نہیں ہوسکتا انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اگر روز اول سے کھلا دل رکھتے تو آج جو مسائل پیدا ہوئے وہ نہیں ہوتے خدا کرے ملاقاتوں کا سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کو منا لیں گے سیاسی مخالفت ہے جسے ختم کرلیں گے ناراض گروپ اور وزیراعلیٰ کے پاس برابر کے ارکان ہیں بلوچستان عوامی پارٹی اپنا پارلیمانی لیڈر منتخب کرنے کا اختیار رکھتی ہے ہم مخلوط حکومت میں شامل اتحادیوں کو ساتھ لیکر چلیں گے ۔انہوں نے کہا کہ گورنر بلوچستان نئے نئے گورنر بنے ہیں انہیں اپنی جماعت سے مشاورت کی ضرورت ہے ہماری جماعت کے ارکان سینیٹ اور قومی اسمبلی ہیں ہماری جماعت کے لوگ ان سے بھی مشاورت کرنے جا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ چار ڈویژنل آرگنائزر نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا دو روز بعد پارٹی انتخابات کے حوالے سے دوبارہ اجلاس کریں گے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کی اکثریت کا ساتھ دیگی میں عہدوں سے مبرا ہوں آزاد پنچھی ہوں خوش رہنا چاہتا ہوں اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نوابزدہ طارق مگسی نے کہا کہ ہم وزیراعلیٰ جام کمال خان کے ساتھ ہیں۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*