تازہ ترین

وزیراعظم کٹہرے میں۔۔۔

ڈاکٹر رزاق شاہد
گذشتہ روز اس وقت الیکٹرانک میڈیا پر بریکنگ نیوز کے نام پر شورو غوغا سننے کو ملا جب ملک کی بڑی عدالت نے وزیرِ اعظم کوہنگامی طور پرطلب کیا عدالت میں31منٹ کے وزیرِ اعظم اور ججز کے مکالمے میں اہم سوالات نے دلچسپ صورتحال پیدا کر دی۔ جسے حسبِ معمول ایک نجی چینل نے خوب مرچ مسالا لگا کرکچھ کا کچھ بنانے کی پوری کوشش کی۔ اس سے قطع نظر کہ اس طلبی کی نوعیت کیا تھی؟ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ شائد وزیرِ اعظم کسی نا اہلی کیلیے طلب کئے گئے ہیں۔ عدالت سے نکلنے کے بعد وہ وزیر اعظم نہیں ہوں گے۔اس پیشی کاپس منظر بہت ہی حساس معاملہ تھا۔ یہ پیشی سانحہ اے پی ایس پر آنے والی تحقیقاتی رپورٹ پر عمل درآمد پر پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ اس کا اندازہ اس وقت ہواجب سانحہ اے پی ایس کے ساتھ کالعدم ٹی ٹی پی کا ذکرآیا، جس سے حکومت مذاکرات کے عمل میں ہے اور اسے قومی دھارے میں لانے کیلئے ’عام معافی‘ کی شنید ہے۔ یہی کالعدم ٹی ٹی پی تو دراصل سانحہ اے پی ایس میں ملوث ہے اور اسی ہزار معصوم پاکستانیوں کی شہادت کی ذمہ دار ہے۔ دہشت گردوں سے صلح کی حکومتی پالیسی پر شدید تنقید سامنے آچکی ہے۔اس سے بھی زیادہ حساس وہ مرحلہ تھا جب اے پی ایس سانحہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں جن دس معتبر شخصیات پر اخلاقی ذمہ داری ڈالی گئی ان کے خلاف کاروائی نہ کرنے پر وزیر اعظم کی سرزنش کی گئی۔ یہ ساری گفتگو تو بظاہر عدالت میں ہوئی جہاں ایک طرف معزز ججز تھے جن کے سامنے ’کٹہرے‘میں وقت کا وزیرِ اعظم موجود تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ اچانک یا ایک دم ہوا؟ نہیں، بلکہ یہ کھچڑی لمبے عرصے سے پک رہی تھی۔اگر ملکی سیاست کے گذشتہ چند دنوں کے واقعات کو پیشِ نظر رکھیں تو بات سمجھ آ جاتی ہے۔ سیاست میں ٹائمنگ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے گذشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے مختلف واقعات اہم ہیں۔ پیٹرول کی قیمت میں یکے بعد دیگرے بڑا اضافہ سے مہنگائی بڑھنا متوقع تھالیکن وہی شوگر مافیا جو گذشتہ سال ہی بے نقاب ہوا اس نے موقع غنیمت جانتے ہوئے ایک بار پھر چینی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، کرشنگ سیزن میں ملیں بند رکھ کر چینی کی قلت کو بڑھا یا گیا، ساتھ ہی پی ایم ڈی نے مہنگائی کوجواز بنا کر ایک بار پھرعوام کو سڑکوں پر لانے کا عندیہ دیاحالانکہ اس سے پہلے کئی بار وہ اس ایشو پر سیاست کر چکی تھی جس کا نتیجہ صفر نکلا۔ ایک بار پھر سے اسی ایشو کو لے کر عوام کو باہر نکالنے کی کوشش کو بھی کسی اشارے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ عین اس وقت طویل خاموشی کے بعد تحریکِ لبیک کا دھرنے کا اعلان بھی معنی خیز ہے۔ جسے پنجاب حکومت نے حسبِ معمول مِس ہینڈل کیا اور جان بوجھ کر انہیں سب کچھ کرنے کا موقع دیا جو وہ کرنا چاہتے تھے۔ یہاں ایک بات ذہن میں رہے کہ پنجاب حکومت میں بڑی اتحادی جماعت ق لیگ ہے، پنجاب کے وزیرِ قانون کا تعلق اسی جماعت سے ہے۔ ایسے موقعوں پر قانوں نافذ کرنے والوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے، جو پچھلی رجیم کی ہی باقیات ہیں،جس کے ماتھے پر ماڈل ٹاﺅن اور ساہیوال سانحہ کا داغ بھی ہے، اس کی کوشش ہے کہ ان سانحات کا ایکشن ری پلے نہ ہو۔ اس احتیاط کی وجہ سے مظاہرین کو کسی مرحلے میں بھی روکا نہیں گیا۔حتیٰ کہ مظاہرین کی طرف سے متشددانہ کاروائیوں اور پولیس والوں کی شہادت کے باوجود ان سے بظاہر دباﺅ میں معاہدے نے کئی سوالوں کو جنم دیا۔
اس معاہدے میں تحریک کو کالعد م قرار دینے کے فیصلے کی واپسی نے ایم کیو ایم کو بھی موقع فراہم کیا۔ ایم کیو ایم کا ماضی کڑے وقت میںاتحادی حکومت سے ناراضی اور پھر اپنے مطالبات کی فہرست کو طویل کر کے، ایک طرف حکومت کو دباﺅ میں لانا دوسرا مخالفین کو دباﺅ بڑھانے کا موقع دینا رہا ہے۔ق لیگ اور ایم کیوایم کا اس تاثر کو بنیاد بنا کر حکومتی بل کی مخالفت کا عندیہ دینااور اتحادی ہونے کے باوجود مخالفت کرنا ایک طرف حکومت پراپنا دباﺅ بڑھانا تو دوسری طرف اپوزیشن کاساتھ دینے کے مترادف اور اس سے بھی بڑھ کر عالمی ایجنڈے کو تقویت دیناہے۔اپریل تک ایف ٹی ایف اے کی تلوار پاکستان پر لٹکائی گئی ہے پاکستان کو بلیک لسٹ میں رکھنے کا جواز فراہم کرنا بنیادی مقصدہے، پاکستان کا مفاد نہیں۔انٹر نیشنل اسٹبلشمنٹ اس وقت ہاتھ دھو کر پاکستان کے سیاسی استحکام کے در پے ہے کیونکہ سیاسی طور پر مستحکم پاکستان اسے کسی طور برداشت
نہیں۔اس موقعے پر اپوزیشن، اتحادی جماعتوں،حکمرانوں خاص کر وزیرِ اعظم کو ہوش کے ناخن لینے کی ضروت ہے۔ دیکھتے ہیں دباﺅ میں بہتر کھیلنے کا دعویٰ کرنے والا کپتان ان مشکل حالات میں کیسا کھیلتا ہے؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*