تازہ ترین

وزیراعظم عمران خان پریشان؟؟؟`

محمد اکرم چودھری
قارئینِ کرام آپ جانتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان جب بھی عوام سے مخاطب ہوتے ہیں کسی جلسے میں تقریر کر رہے ہوں اسمبلی میں ہوں یا پھر کسی اور تقریب میں عوام سے بات کر رہے ہوں وہ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ میرے پاکستانیوں گھبرانا نہیں ہے۔ وزیراعظم کے اس جملے پر ان کا مذاق بھی بنتا ہے لوگ اسے حوالے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا ٹرینڈز بنتے ہیں، پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نون کے ووٹرز ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم کے اس جملے سے قومی سطح کی بحث کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس میں پی ٹی آئی سپورٹرز کو دفاعی پوزیشن ہی اختیار کرنا پڑتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان عوام کو تو نہ گھبرانے کی تلقین کرتے رہے ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ کنٹونمنٹ انتخابات نتائج نے ناصرف پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان بلکہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو بھی گھبرانے پر مجبور کر دیا ہے۔
خبر ہے کہ کنٹونمنٹ انتخابات کے نتائج کو پارٹی کی سطح پر سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ شاید نتائج پی ٹی آئی کی توقعات کے خلاف ہیں یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں کنٹونمنٹ انتخابات میں تحریک انصاف کی کارکردگی پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان پنجاب میں کنٹونمنٹ انتخابات کے نتائج پر خوش نہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس حوالے تفصیلی رپورٹ کے احکامات جاری کیے جبکہ جنوبی، وسطی اور شمالی پنجاب کی الگ الگ رپورٹس کے احکامات بھی جاری کیے۔ امکان ہے کہ وزیراعظم آج لاہور میں بھی اس حوالے سے اجلاس کی صدارت کریں گے۔صوبہ پنجاب کے مختلف کنٹونمنٹ بورڈ کے تمام ایک سو تیرہ وارڈز کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ اکاون نشستوں کے ساتھ سب سے آگے رہی۔آزاد امیدوار بتیس،پی ٹی آئی اٹھائیس ، جماعت اسلامی دو وارڈز میں کامیاب ہوئی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک بھی نشست حاصل نہ کر سکی۔
مجھے یقین ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز انتخابات نتائج کی رپورٹ تیار کرنے والے کبھی حقائق وزیراعظم عمران خان کے سامنے نہیں رکھیں گے۔ جنہیں رپورٹس تیار کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی وہ زمینی حقائق لکھنے کے بجائے ان چیزوں پر زور دیں گے۔ یہی کچھ گذشتہ تین برسوں میں ہوتا آیا ہے۔ کنٹونمنٹ انتخابات میں ناکامی یا اس کے نتائج غیر متوقع نہیں ہیں۔ چونکہ عوام کی کوئی سنتا نہیں ان کے مسائل پر وزراءاور مشیران کرام توجہ نہیں دیتے، سرکاری اداروں کا برا حال ہے، عام آدمی ہر جگہ خوار ہو رہا ہے۔ ہسپتال ہو یا لاری اڈہ، ریلوے سٹیشن ہو یا ائیر پورٹ شہریوں کے لیے مسائل ہر جگہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں اور کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر جو حالات روزگار کے ہیں، مہنگائی نے جس بری طرح معمولات زندگی کو متاثر کیا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی جو سفر ایک سو روپے میں ہوتا تھا وہ دو سو روپے میں ہو رہا ہے۔ جو ادویات کا بل پانچ سو روپے بنتا تھا وہ پندرہ سو روپے بن رہا ہے۔ یوٹیلیٹی بلز ماہانہ دس سے بڑھ کر تیس ہزار ہو گئے ہیں، گراسری کا بل پانچ ہزار سے پندرہ ہزار پر جا پہنچا ہے۔ یہی حال بچوں کے تعلیمی اخراجات کا ہے۔ وزراءکی فوج ظفر موج کو اس کا ادراک ہے۔ یقیناً نہیں ہے کیونکہ وہ مافیاز اور مصنوعی مہنگائی کے بیانات دے کر خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں تو پھر جہاں عوام کو موقع ملے گا وہ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کریں گے۔ اگر حقیقی طور پر دیکھا جائے تو کنٹونمنٹ بورڈز انتخابات نتائج پر کسی تحقیق و تفتیش کی ضرورت نہیں ہے یہ صرف اور صرف مہنگائی کا ردعمل ہے۔ جہاں جہاں لوگوں کو مہنگائی نے زیادہ متاثر کیا ہے وہاں وہاں نتائج پی ٹی آئی کے حق میں نہیں آئے۔
درحقیقت کنٹونمنٹ بورڈز انتخابات نتائج حکمراں جماعت کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ یہ نتائج پی ٹی آئی کی پالیسیوں پر عوام کا عدم اعتماد ہے۔ حکومت مسلسل عام آدمی کے مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے اور عوام کے پاس حکومت کو نظر انداز کرنے کا واحد ذریعہ انتخابات ہیں سو عوام نے بھی پی ٹی آئی سے بدلہ لیا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈز انتخابات نتائج کو عوام کا مہنگائی کے خلاف فیصلہ سمجھا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے فیصلہ سازوں کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی ورنہ آئندہ عام انتخابات میں عوام نے بدلہ لیا تو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن بدلنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ مہنگائی کے طوفان سے متاثرہ عوام نے پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف ووٹ کے ذریعے فیصلہ سنایا ہے۔صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کے حلقے کلفٹن میں پی ٹی آئی کی شکست، لاہور اور راولپنڈی میں تحریک انصاف کی ناکامی، ملتان کینٹ کی دس میں سے نو نشستوں پر آزاد امیدواروں کی کامیابی،چکلالہ کینٹ، واہ کینٹ میں تحریک انصاف کو بڑے دھچکے عام آدمی کو نظر انداز کرنے والوں کو جگانے کے لیے کافی ہیں۔ اگر اب بھی پاکستان تحریک انصاف نے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہ کی تو یہ رجحان عام انتخابات تک بہت کچھ بہا کر لے جائے گا۔ حکمراں جماعت کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے عوامی مسائل حل کیے بغیر ووٹرز کی حمایت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ پی ٹی آئی کا حکومت میں یہ حال ہے کہ جماعت میں اندرونی طور پر برداشت کی شدید کمی ہے اگر آئندہ عام انتخابات ہار گئے تو جماعت کا شیرازہ بکھرنے میں دیر نہیں لگے گی کیونکہ پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے شروع ہو کر عمران خان پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جو لوگ وزیراعظم کے اردگرد ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے حق اور سچ بات کی تو بچانے والا کوئی نہیں ہو گا اور کم از کم چند سال تک تو انکی سیاست بیانات کی حد تک ہی محروم رہ جائے گی۔ اپنی کرسی بچانے کے لیے وہ حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں لیکن وقتی فائدے کے لیے یہ بھول رہے ہیں کہ عام آدمی کو نظر انداز کرنے پر کم سے کم مانتیں ضبط ہوں گی۔ پاکستان تحریکِ انصاف کو گھبرانے اور پریشان ہونے کے بجائے بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر آج بھی مہنگائی میں اضافے کو روکنے یعنی قیمتوں میں استحکام اور عام آدمی کے ذرائع آمدن بڑھانے پر کام کیا جائے تو عوامی حمایت حاصل کی جا سکتی ہے لیکن شاید یہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان بھلے سارے ملک میں اجلاس کر لیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا جب تک ووٹر کا مسئلہ حل نہیں ہو گا یہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھنے اور جھوٹی رپورٹس تیار کرنے والے کچھ نہیں کر سکتے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*