تازہ ترین

وزیراعظم دن رات عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کررہے ہیں،فرخ حبیب

فیصل آباد(این این آئی)وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان دن رات عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کررہے ہیں اورآئندہ چند روز میں کم آمدنی والے افراد کیلئے بہت بڑے فوڈ سپورٹ پروگرام کا اعلان ہونیوالا ہے جس کے تحت ہیلتھ کارڈ، کسان کارڈ، سوشل سکیورٹی کارڈاور لیبر کارڈ کی طرح راشن کارڈ کے ذریعے غریب افراد کوفوڈ سپورٹ پروگرام کے تحت اربوں روپے کی ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی جس سے وہ روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش سستے داموں خرید سکیں گے۔وہ اتوار کی شام7کروڑ روپے کی لاگت سے اپنے حلقہ نیابت این اے108 فیصل آباد کے علاقہ فیکٹری ایریا و سرسید ٹان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح،گورنمنٹ سول ڈسپنسری فیکٹری ایریا کی دوبارہ تعمیر،سیوریج لائن گنیش مل روڈتا شفیع چوک اور گیان ملز،عزیز کالونی و لال ملز چوک کی سڑکات کی کارپٹنگ اور پی سی سی گلیوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر اظہار خیال کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو غریب آدمی خصوصا کرائے کے مکانات میں رہنے والوں کا بیحد خیال ہے جن کا نہ مکان اپنا نہ زمین اپنی نہ چھت اپنی ہے لہذا عمران خان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار بینکوں کو پابند کیا کہ جس طرح وہ بڑے بڑے بزنس مینوں، سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور دیگر شعبہ جات کو قرض دیتے ہیں اسی طرح وہ اپنے گھر کی تعمیر کیلئے کم آمدنی والے افراد کو بھی قرضے دیں جس پر تمام بینکوں نے قرضوں کی فراہمی شروع کردی ہے اور اس ضمن میں اب تک 200 ارب روپے کے قرضوں کیلئے 57 ہزار درخواستیں وصول ہوچکی ہیں جن میں سے 180 ارب روپے کے قرضے منظور اور 19 ارب روپے کے قرضے جاری بھی ہوچکے ہیں اس طرح اب لاکھوں بے گھر لوگوں کا اپنا گھر اپنی زمین اپنی چھت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دوسرا بڑا مسئلہ صحت کیلئے وسائل کی فراہمی کا ہے کیونکہ بہت سے غریب افراد علاج کی سکت نہ ہونے سے اللہ کو پیارے ہوجاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ جس طرح کے پی کے میں ہر گھرانے کو صحت کارڈ جاری ہوچکا ہے اسی طرح اگلے ماہ دسمبر کے آخر تک پنجاب کی تمام آبادی اور ہر گھرانے کو ہیلتھ کارڈ جاری کردیا جا ئے گا جس سے وہ سالانہ 10 لاکھ روپے تک اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پسند کے ہسپتال میں پسند کے ڈاکٹر سے علاج کرواسکے گا اور اب کسی کا پیارا بغیر علاج اللہ کو پیارا نہیں ہوگا۔فرخ حبیب نے کہا کہ حکومت کو مہنگائی کے حوالے سے عوام کی پریشانی کا بیحد احساس ہے مگر چونکہ عالمی سطح پر گزشتہ50 سالہ مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور پٹرول کی جو قیمت 40 ڈالر فی بیرل تھی وہ اب بڑھ کر 85 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے اسی طرح پہلے خوردنی تیل کا جو کنٹینر 500 ڈالر کا تھا وہ 1200 ڈالر کا ہوگیا ہے اسی طرح باقی امپورٹڈ اشیا کے ریٹ بھی کورونا کی وجہ سے طلب و رسد میں فرق کے باعث بڑھے مگر پھر بھی ہم نے کم سے کم بوجھ عوام پر پاس آن کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اسحاق ڈار کی طرح پٹرول پر 50 روپے فی لٹر ٹیکس نہیں لے رہے بلکہ ہم نے اپنے ریونیو اور ٹیکسز میں حتی الامکان کمی کرکے عوام کو ریلیف دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انشااللہ وزیراعظم کے فوڈ سپورٹ پروگرام کے اعلان سے کم آمدن والے گھرانوں اور غریب افراد کو زبردست ریلیف ملے گاکیونکہ انہیں سبسڈی کا حامل راشن کارڈ ملنے جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن حکومت پر تنقید کررہی ہے لیکن کل یہی لوگ ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل کر اور ڈیفالٹ کے قریب کرنے سمیت اس کی جڑیں کھوکھلی کرکے گئے تھے اسلئے ان کو چاہیے کہ اگر انہیں عوام کا اتنا ہی درد ہے تو یہ ملک و قوم کا لوٹا ہوا اربوں روپے کا سرمایہ غیر ممالک سے واپس پاکستان لائیں تاکہ یہاں کے عوام کو مناسب ریلیف مل سکے۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں پاکستان کے مانچسٹر اور ٹیکسٹائل حب فیصل آباد کو ٹیکسٹائل و پاورلومز کا قبرستان بنادیا گیا تھا لیکن ہماری حکومت کی حکمت عملی سے اب یہ دوبارہ ٹیکسٹائل کا گڑھ بن رہا ہے اور یہاں اندسٹری کا پہیہ چلنے سمیت ایکسپورٹ میں اضافہ اور ریکارڈ ٹیکس بھی جمع ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب ہماری کوششوں سے کسان خوشحال ہورہا ہے اور اسے رواں سال 1100 ارب روپے اضافی ملے ہیں نیز اس بار ہماری گنے کی فصل بھی انتہائی شاندار ہوئی ہے جس سے رواں ماہ نومبر میں شوگر ملز چلنے اور کرشنگ سیزن کے آغاز سے کئی گنا اضافی چینی پیدا ہوگی اور چینی کے نرخ بھی کم ہوں گے۔فرخ حبیب نے کہا کہ کاٹن کی فصل 6 ملین سے بڑھ کر ساڑھے 9 ملین گانٹھ تک پہنچ گئی ہے،مکئی کی پیداوار میں 18 فیصد، چاول کی پیداوار میں 19 فیصداضافہ ہوا ہے اسی طرح پہلی بار اولو آئل کیلئے درخت لگائے جارہے ہیں جس کیلئے ایک ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے جس میں مزید اضافہ بھی کیا جا ئے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بار نہ صرف گندم کی شاندار پیداوار لیکر خود کفیل ہوں گے بلکہ اس کی برآمد کے ذریعے زرمبادلہ بھی کمائیں گے۔انہوں نے کہا کہ 1967 کے بعد ملک میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا بلکہ سابق چور و لٹیرے حکمرانوں نے مہنگی ترین بجلی کے ایسے معاہدے کئے کہ بجلی بنے نہ بنے، عوام بجلی لیں یا نہ لیں ہم نے ان کو کپیسٹی پیمنٹ کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے سال تک ان مہنگے بجلی گھروں کی کپیسٹی پیمنٹ 1500 ارب روپے ہوجا ئے گی جو عوام پر بوجھ ہے لیکن اس کے برعکس ہماری حکومت تربیلا کے بعد پہلی بار دیامر بھا شا ڈیم، داسو ڈیم اورمہمند ڈیم سمیت 10 نئے ڈیم تعمیر کررہی ہے جن کی تکمیل سے 10 ہزار میگا واٹ سستی بجلی پیدا ہوگی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*