تازہ ترین

وزیراعظم، وزرا، ترجمان معیشت پر بیان بازی کر رہے ہیں،بلاول بھٹو

اسلام آباد(آئی ا ین پی )چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مشکل وقت وزیر اعظم کی اے ٹی ایمز کے لیے ختم ہوا ہوگا ،حکومت کو عام آدمی کا احساس ہی نہیں ہے، عام پاکستانی دکھ اور مشکلات سے گزر رہا ہے، غربت اور بے روزگاری تاریخ کی انتہا کو پہنچ چکی ہے، ہمارے وزیراعظم کہتے ہیں ملک ترقی کر رہا ہے، ان کے اے ٹی ایمز کیلئے مشکل وقت ضرور ختم ہوا ہوگا، وزیراعظم، وزرا، ترجمان معیشت پر بیان بازی کر رہے ہیں، ہمارے وزیراعظم ترقی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں، آپ کشکول لے کر ہر ملک کیوں جا رہے ہیں، آپ عرب ممالک جا کر بھیک کیوں مانگ رہے ہیں ؟ بجٹ پیش ہوگا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، امید ہے بجٹ کے بعد آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکل جائیں گے، ان لوگوں کو پتہ ہی نہیں پاکستان کے کیا حالات ہیں،رائیونڈ کے وزیراعظم کو سزا کے باوجود باہر بھیج دیا گیا، یہ احتساب نہیں، پولیٹیکل انجینئرنگ اور سیاسی انتقام ہے، وزیراعظم کی بہن پر الزام لگے تو کچھ نہ ہو، یہ کس قسم کا ایک پاکستان ہے؟ وزیراعظم کے دوستوں پر الزام لگے تو وہ جیل نہیں جاتے۔جمعہ کو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشی شرح نمو کے وعدے حقیقت کے برعکس ہیں، عوام پریشان حال ہیں اور وزیراعظم ،وزرائ، ترجمان معیشت پر بیان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا عام آدمی سے کوئی تعلق نہیں ہے، احساس تک نہیں ہے اور غریب، عام آدمی، دیہاڑی دار ، تاجر کی مشکلات کا حکومت کو پتہ ہی نہیں ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ مشکل وقت ختم ہوا، حقیقت میں ان کے اے ٹی ایمز کےلئے مشکل وقت ضرور ختم ہوا ہو گا لیکن عام آدمی کا نیا دن شروع ہوتا ہے تو پچھلے دن سے زیادہ برا ہوتا ہے،غربت اور بے روزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، پورے خطے میں مہنگائی کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جبکہ وزیراعظم ترقی اور خوشحالی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے مطابق اگر معیشت ترقی کر رہی ہے تو پھر آپ آئی ایم ایف اور عرب ممالک سے بھیک کیوں مانگ رہے ہیں، ان کے وزیر خزانہ نے خود مانا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل غلط ہے۔ بلاول زرداری نے کہا کہ امید کرتے ہیں کہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں 100فیصد اضافہ کریں گے اور یہ ھی امید کریں گے کہ آئی ایم ایف سے ہم نکلنے والے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ پاکستان کے حالات کیا ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ اس نئے پاکستان میں این آر او نہیں دیا جاتا ہے لیکن رائیونڈ کا وزیراعظم سزا کے باوجود باہر بھیج دیا اور وہ لندن میں بیٹھا ہے، وزیراعظم کے دوستوں پر الزام لگے تو وہ جیل نہیں جاتے، وزیراعظم پر خود الزام لگے تو کچھ نہیں ہوتا ہے، یہ کس قسم کا مذاق اور دوغلا نظام ہے، قانون و آئین کے ساتھ مذاق ہے، پاکستان کے ساتھ مذاق ہے، اس ملک میں احتساب کے نام پر مذاق کیا جا رہا ہے، عمران خان نے خود کہا تھا کہ دو نہیں ایک پاکستان ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی دھمکیوں ، کیسز، احتساب کے نعروں سے نہیں ڈرتی ہے، ملک میں انصاف نہیں انتقام ہے، پولیٹیکل انجینئرنگ ہے، سابق صدر آصف زرداری کو تین سال سے جیل میں رکھا لیکن آپ فیصلہ عوام کریں گے۔ بلاول زرداری نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق نہیں ہے تو پیپلز پارٹی الیکشن کا انتظار کرے گی، عوام الیکشن میں تحریک انصاف کی تبدیلی کو لات مار کر باہر نکالیں گے جبکہ حکومت یاد رکھے کہ پیپلز پارٹی کہیں نہیں جا رہی، ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات آرڈیننس کے ذریعے لانا چاہتی ہے اور جبکہ پیپلز پارٹی اس اقدام کی مخالفت کرتی ہے، پیپلز پارٹی میڈیا آرڈیننس کو بھی مسترد کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ حکومت میڈیا کو آمر جنرل ضیاءالحق کے دور کے تحت چلانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے حوالے سے واضح موقف ہے اور جن کو استعفوں کی سیاست ہی کرنی تھی تو اب تک استعفے دے دینے چاہیے تھے، سمجھتے ہیں کہ حکومت کے اصل سہولت کار وہ لوگ ہیں جنہوں نے استعفوں کو لانگ مارچ سے نتھی کیا، پنجاب میں سینیٹ انتخابات میں مک مکا کیا، تین سال سے استعفوں کا نعرہ لگا رہے ہیں لیکن عدم اعتماد اور استعفے نہ دے کر حکومت حکومت کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ بجٹ کی حد تک اپنے تمام ایم این اے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے والے کرتا ہوں، شہباز شریف اپنا کام کر یں اور بجٹ کو روکیں۔ بلاول زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ پاکستان کےلئے ایک قانون ہو، چاہے وہ رائیونڈ سے تعلق رکھتا ہوں یا نواب شاہ سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ نیب ایک پولیٹیکل انجینئرنگ کا ادارہ بن کر رہ گیا ہے، اس کا کام کسی کو دھمکی دینا اور جھوٹے کیسز بنانا رہ گیا ہے، پیپلز پارٹی کے صوبائی وزراءاور لوگوں کو بلاوجہ نیب میں پیشی کےلئے بلایا جاتا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ اس وقت عثمان بزدار کے رحم و کرم پر پنجاب کو چھوڑ دیا گیا ہے اور بچہ بچہ جانتا ہے کہ اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک لا کر عثمان بزدار کو ہٹا سکتی ہے لیکن جب خود کو عوام کا نمائندہ کہنے والے ایسا نہیں کرتے تو دال میں کچھ کالا لگتا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*