تازہ ترین

نیب کو نشانہ بنانے کی وجہ کیا ہے؟؟؟

محمد اکرم چودھری
ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے نزدیک قومی احتساب بیورو اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اس حوالے گرما گرم تقاریر ہوتی ہیں، پریس کانفرنس میں نیب کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کوئی فورم ایسا نہیں ہے جہاں نیب کو معاف کیا جاتا ہو سیاست دانوں کی پوری کوشش ہے کہ قومی احتساب بیورو کو تالے لگ جائیں اور ملک میں لوٹ مار کرنے والوں کو پوچھنے والا کوئی نہ ہو۔
سیاست دان ملک میں قومی احتساب بیورو کو بند کرنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن وہ لوٹ مار بند کرنے یا لوٹ مار کا راستہ روکنے کے لیے کوئی کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جن لوگوں نے سرکاری سطح پر یا جن لوگوں نے حکومتی شخصیات کا سہارا لے کر یا عہدوں کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کروڑوں اربوں کی کرپشن کی ہے انہیں روکنے کے لیے سیاستدانوں کے پاس کوئی طریقہ نہیں ہے نہ ہی ان کی طرف سے ابھی تک کوئی ایسا راستہ اختیار کیا گیا ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ سیاست دانوں کی اکثریت ملک میں کرپشن روکنے میں سنجیدہ ہے۔
گذشتہ چند برس میں نیب کی ریکوری یا پھر پلی بارگین کے اعدادوشمار پر نظر دوڑائی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کو اس ملک کے عوام کس بے دردی سے لوٹا گیا ہے لیکن مختلف ادوار میں حکمرانوں نے عوام کو لوٹنے والوں کو روکنے کے بجائے آنکھیں بند کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس چشم پوشی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج معاشرہ خطرناک حد تک کرپٹ ہو چکا ہے۔
ہر کوئی مال بنانے کے چکر میں نظر آتا ہے، سب مال بنانے میں مصروف ہیں، لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ ہر جگہ فائلوں کو پہیے لگانے کا کام جاری ہے۔ جائز کام ناجائز طریقے سے کرنے کا رواج ایسے زور پکڑ رہا ہے کہ ”اوپر” کی کمائی کو شرمندگی کے بجائے ہنر کا درجہ مل چکا ہے۔ کیا حکمرانوں، سیاست دانوں کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ ناجائز ذرائع سے مال بنانے کے راستوں کو روکیں، وہ عوام کو لوٹنے والوں کا راستہ روکیں، کیا حکمرانوں کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائیں۔
بدقسمتی سے حکمرانوں نے اس پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے ناصرف خود نظر انداز کیا ہے بلکہ اب احتسابی عمل کے بھی مخالف بنے ہوئے ہیں۔ اگر حکمران طبقہ ہی لوٹ مار کرنے والوں کا ساتھی بن جائے اور عام آدمی لٹیروں کے رحم و کرم پر ہو تو تباہی کیسے رک سکتی ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ حقائق سامنے ہونے کے باوجود سیاست دان غلطی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ وہ مسلسل نیب کی مخالفت کر رہے ہیں نیب کی مخالفت کا مطلب لوٹ مار کرنے والوں کی حمایت ہے۔ جب میں مختلف شعبوں میں ہونے والی کرپشن اور پلی بارگین معاہدوں کو دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ گذشتہ روز نوائے وقت کے صفحہ اول پر ایک بڑی پلی بارگین ڈیل کی خبر شائع ہوئی ہے مجھ تک یہ معلومات پہنچیں اور میں نے یہ تفصیلات عوام کے سامنے رکھی ہیں آج یہی معلومات سائرن کے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
تفصیل کچھ یوں ہے کہ نیب اپنی تاریخ کی ایک بڑی پلی بارگین ڈیل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ قومی احتساب بیورو اور ایڈن ہاو?سنگ سوسائٹی کے اعلیٰ حکام کے مابین گیارہ ارب کی پلی بارگین کے لیے معاملات طے ہونے کے قریب ہیں۔ ایڈن ہاوگ سوسائٹی کی پلی بارگین درخواست پر ہونے والی بات چیت حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر امجد تیرہ ارب روپے کی پلی بارگین پر رضامندی کا اظہار کر چکے ہیں۔ وہ سیاستدان جو ہر وقت نیب کو بند کرنے کی باتیں کرتے ہیں کیا وہ نہیں جانتے کہ ایڈن ہاو?سنگ سوسائٹی کے متاثرین کی تعداد لگ بھگ گیارہ ہزار ہے اور یہ گیارہ ہزار پاکستانی گذشتہ آٹھ برس سے انصاف کی تلاش میں تھے ان کے دکھ درد کا احساس قوم کے حکمرانوں کو کیوں نہیں ہوا، کیوں ان کے ساتھ ہونے والے فراڈ اور دھوکے کو حکمران طبقے نے اپنے ساتھ دھوکہ یا فراڈ نہیں سمجھا۔ کسی کو ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی لٹنے کا احساس کیوں نہیں ہوا۔
اب نیب تیرہ ارب روپے کی ریکوری کرے گا اور یہ بڑی رقم متاثرین تک پہنچائے گا۔ امکان ہے کہ آئندہ ہفتے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال پلی بارگین کے اس معاہدے کی حتمی منظوری دے دیں گے۔
اس کیس کی براہ راست نگرانی ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کرتے رہے ہیں۔ نیب لاہور کی ٹیم اس بڑی کامیابی پر مبارکباد کی مستحق ہے۔
نیب کی اس کوشش کا کوئی فائدہ نیب افسران یا اہلکاروں کو تو یقیناً نہیں ہو گا انہوں نے تو اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے گیارہ ہزار متاثرین کی مدد کا قومی فریضہ انجام دیا ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں ایسے کئی اور کیسز بھی نیب کے پاس ہوں گے جن پر کام ہو رہا ہو گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن کا مال لوٹا گیا ہے کیا وہ پاکستانی نہیں ہیں، کیا وہ کسی سیاسی جماعت کے ووٹرز نہیں ہیں، وہ کس کے پاس جائیں، کس سے انصاف مانگیں۔
کیا کسی سیاست دان کو توفیق ہوئی کہ وہ نیب کو برا بھلا کہتے کہتے ایسے کیسز پر بھی خیالات کا اظہار کرے۔ یقیناً ایسا نہیں ہو گا کیونکہ نمایاں سیاست دانوں کی اکثریت اپنے بڑوں کو بچانے کے لیے آنکھیں بند کر کے نیب کی مخالفت میں مصروف ہے۔ ان کے لیے پاکستان کے سادہ لوح عوام نہیں بلکہ اپنے سیاسی قائدین اہم ہیں اور وہ اپنے ووٹرز کے مفادات کے بجائے سیاسی قائدین کے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو کی تاریخ میں پلی بارگین کے حوالے سے یہ ایک بڑی کارروائی ہے۔ چیئرمین مین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی منظوری کے بعد تین برس میں یہ رقم متاثرین کو ادا کر دی جائے گی۔
یہ کیس بھی ثابت کرتا ہے کہ ملک میں طاقتور طبقہ کس بے رحمی سے عوام کو لوٹتا ہے اور لوٹ مار کے بعد بھی پر سکون زندگی بسر کرتا نظر آتا ہے۔ سیاست دان نیب کو برا بھلا تو کہتے رہتے ہیں لیکن وہ اس طرف توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ قوم کے اربوں روپے لوٹنے والوں کو کیسے لگام ڈالنی ہے۔
بدقسمتی ہے قوم کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور ان کی پوری ٹیم کرپشن کرنے والوں کے خلاف شکنجہ تیار کرنے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لیے کام کرنے پر مبارکباد کے مستحق ہے۔
گیارہ ارب کی اس پلی بارگین اور گیارہ ہزار متاثرین تک ان کی امانت لوٹانے کے اس معاہدے کو عوام کے سامنے رکھنا چاہیے نیب کو چاہیے کہ جس دن یہ ڈیل فائنل ہو اس دن پریس کانفرنس کرے، تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھے اور قوم کو بتائے کہ کیسے لوٹ مار کی جاتی رہی ہے۔ نیب کا مقابلہ ملک و قوم کو لوٹنے والوں سے ہے۔ کوئی بھی چہرے اور مرتبے سے قطع نظر اسے عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ قوم کو بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ اس نے اپنے محافظوں کا ساتھ دینا ہے یا پھر لوٹ مار کرنے والوں کے نعرے لگانے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*