تازہ ترین

نقلی مچھیرے

جاوید اقبال
اکبر خان نے اپنی بکری کو پہاڑی سے پھسلتے دیکھا تو تیزی سے پتھروں کو پھلانگتا ہوا ڈھلوان پہ بھاگا۔بکری تو گرنے سے بچ گئی،مگر اکبر خان خود کو نہ سنبھال سکا۔اس کا پا¶ں ایک جھاڑی سے اُلجھا اور وہ ڈھلوان پر پھسلتا ہوا دلدلی کیچڑ کی طرف لڑھکتا چلا گیا۔
گرتے گرتے اکبر خان کا ہاتھ ایک جھکے ہوئے درخت کی ڈال پہ پڑ گیا یوں وہ دلدل میں گرنے سے بچ گیا وہ درخت کی شاخ کو مضبوطی سے تھامے ڈھلوان کی طرف کھسکنے لگا ڈھلوان پہ پہنچ کر اس نے شکر کا لمبا سانس لیا۔خوش قسمتی سے اسے چند معمولی خراشوں کے سوا کوئی اور چوٹ نہیں آئی۔
اس نے کھڑے ہو کر چاروں طرف نگاہ دوڑائی،تاکہ اپنی بکریوں کو دیکھ سکے۔اسی وقت اس کی نظر ان دو آدمیوں پر پڑی جو لکڑی کا ایک بکس اُٹھائے جھاڑیوں میں چھپتے ہوئے پہاڑی غار میں داخل ہو رہے تھے،دونوں نے شہری لباس پہنا ہوا تھا۔

 

”یہ کون لوگ ہیں؟یہ تو گا¶ں کے نہیں لگتے۔“اکبر خان نے حیرانی سے زیر لب کہا۔وہ اپنی بکریوں کو بھول کر غار کی طرف چل پڑا اور اندھیرے غار میں داخل ہو گیا۔جب اس کی نظریں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو اس نے دیکھا کہ غار خالی تھا۔
غار میں گھسنے والے شہریوں اور اس لکڑی کے بکس کا وہاں نام و نشان تک نہ تھا۔
”یہ لوگ کہاں چلے گئے؟غار تو پیچھے سے بند ہے۔“اکبر خان نے خود سے کہا۔اس نے غار کا کونا کونا چھان مارا،مگر کچھ نظر نہ آیا۔اکبر خان اپنی بکریاں لے کر گھر لوٹنے لگا تو اس کی نظر دریا میں ایک کشتی پر پڑی،تین مچھیرے مچھلیوں سے بھری کشتی کھینچتے ہوئے دریا کی دوسری سمت جا رہے تھے۔
دوسرے دن اکبر خان نے پھر ان دو آدمیوں کو غار میں داخل ہوتے دیکھا۔اکبر خان جلدی جلدی پہاڑی سے اُترا اور ان کے پیچھے غار میں داخل ہو گیا،مگر پہلے دن کی طرح آج بھی غار خالی تھا۔کسی ذی روح کا وہاں وجود نہ تھا۔
”یا اللہ!یہ انسان ہیں یا بھوت کہاں غائب ہو جاتے ہیں؟“اکبر خان سوچتا ہوا اپنی بکریاں لے کے گا¶ں آگیا۔
ساری رات وہ یہ واقعہ نہ بھلا سکا۔اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ یہ راز جان کر ہی چھوڑے گا۔
دوسرے دن اس نے اپنی بکریاں گا¶ں کے ایک ساتھی کی نگرانی میں چھوڑیں اور غار میں آکے چھپ گیا۔دوپہر کے قریب اس نے دونوں کو غار میں داخل ہوتے دیکھا اکبر خان جلدی سے ایک بڑے پتھر کی اوٹ میں ہو گیا اور جھری سے دیکھنے لگا وہ لوگ ٹارچ لیے غار کے ایک کونے کی طرف گئے اور ایک خفیہ بٹن دبا دیا گھڑگھڑاہٹ کی آواز کے ساتھ غار کے فرش سے ایک پتھر سرک گیا اور نیچے شگاف نظر آنے لگا۔
انھوں نے رسے کی مدد سے بکس شگاف سے نیچے لٹکا دیا۔نیچے سے کسی نے بکس پکڑ کر کھول لیا۔پھر ان دونوں نے کپڑے تبدیل کیے۔ اب وہ دونوں مچھیرے لگ رہے تھے۔پھر وہ بھی رسے کی مدد سے نیچے اُتر گئے۔
اکبر خان نے پتھر کو پھر اپنی جگہ واپس آتے دیکھا۔
شاید کسی نے نیچے سے بٹن دبا دیا تھا۔اکبر خان کچھ دیر وہیں چھپا رہا۔اسے یقین ہو گیا کہ اب وہ لوگ چلے گئے ہوں گے تو وہ اپنی پناہ گاہ سے نکلا اور غار کے کونے میں جا کر بٹن دبا دیا۔گڑگڑاہٹ کی آواز سے پتھر اپنی جگہ سے سرک گیا۔
اکبر خان نے شگاف سے جھانکا تو نیچے دریا کا دھارا نظر آیا۔اب ساری صورت حال اکبر خان کے سامنے روز روشن کی واضح ہو چکی تھی۔یہ لوگ غیر قانونی طور پر کوئی چیز بکس میں چھپا کر لاتے تھے۔ان کا تیسرا ساتھی جو شگاف کے نیچے کشتی لیے کھڑا ہوتا تھا وہ بکس وصول کر لیتا اور پھر تینوں مچھیروں کے روپ میں دریا پار اُتر جاتے۔
اس
سہ پہر اکبر خان قریبی پولیس چوکی میں بیٹھا پولیس کے افسروں کو ساری صورتحال بتا رہا تھا۔اگلے دن دونوں ملزم بکس لیے غار میں داخل ہوئے تو پولیس کا ایک دستہ ان کے استقبال کے لئے غار میں موجود تھا۔تھوڑی مزاحمت کے بعد دونوں مجرموں کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے دوسرے دستے نے ملزموں کے تیسرے ساتھی کو بھی دریا کے کنارے سے گرفتار کر لیا۔
پولیس کی تفتیش سے پتا چلا کہ مجرم ہمسائے ملک کے تخریب کار تھے جو ملک میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور دھماکا خیز مواد اور اسلحہ اپنے مقامی ساتھیوں کو غار کے شگاف کے راستے مچھیروں کے روپ میں پہنچا رہے تھے۔
ملکی سکوریٹی اداروں نے مجرموں کے مقامی سہولت کاروں کو بھی گرفتار کرکے تخریب کاری کا خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیا۔قانون کی مدد کرنے اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر تخریب کاروں کو پکڑوانے پر اکبر خان کو بہادری کے اعلیٰ اعزاز سے نوازا گیا اور نقد انعام بھی دیا گیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*