تازہ ترین

نبی پاک کی سیرت پوری دنیا کیلئے مشعل راہ ہے،عمران خان

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں+ م ڈ)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مطالبہ کرنا ہر کسی کا حق ہے، مگر پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر فخر ہے، پرتشدد احتجاج کرکے ریاست کو دباﺅ میں نہیں لایا جا سکتا،جمعرات کو نجی ٹی وی کے مطابق حکومتی رہنماوں کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کی تعریف کی، انہوں نے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے جس جذبہ کے ساتھ امن قائم کیا وہ قابل تحسین ہے، مطالبہ کرنا ہر کسی کا حق ہے مگر پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی اداروں پر فخر ہے، پرتشدد احتجاج کر کے ریاست کو دباو میں نہیں لایا جا سکتا، عمران خان نے وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کو تحریک لبیک پر پابندی کے معاملے پر علمائے کرام کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی جماعتوں اور علما کا احترام کرتے ہیں لیکن مذہب کے نام شدت پسندی کی اجازت نہیں دی جا سکتی،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے اہم فیصلوں میں علما ومشائخ کو اعتماد میں لیا، ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتے رہیں گے،وزیراعظم کی ہدایت پر نور الحق قادری نے علمائے کرام اور مشائخ کو افطار پر مدعو کریں گے جس میں انھیں تحریک لبیک پر پابندی کے فیصلے پر اعتماد میں لیا جائے گا۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ہرسال 5.5 ارب روپے اسکالرشپس پر خرچ کرے گی ، کوشش ہے رحمت اللعالمین اسکالر شپ پروگرام ملک بھر میں شروع ہو، یہ اسکالر شپ صرف مسلمان بچوں کیلئے ہی نہیں، سب کیلئے ہیں،نبی پاک کی سیرت پوری دنیا کیلئے مشعل راہ ہے، آپ کی تعلیمات پر عمل کر کے فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، اسکالرشپ پروگرام میں وفاقی حکومت بھی تعاون کررہی ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے ساڑھے 3 لاکھ اسکالر شپس دیئے جائیں گے ، پنجاب اور خیبرپختونخوا سالانہ تقریبا 15 ہزار اسکالر شپس دینے کے لیے ایک ارب روپے کی رقم خرچ کرے گی۔ اسلام آباد میں رحمتہ اللعالمین اسکالر شپس پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسکالر شپس پروگرام رحمتہ اللعالمین اس لیے ہے کیوں کہ کہ نبی صرف مسلمانوں نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر آئے تھے اور یہ پروگرام بھی تمام پاکستانیوں کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی جیسا انسان دنیا میں نہ کبھی پیدا ہوا نہ ہوگا کیوں کہ کسی بھی انسان کی وہ کامیابیاں نہیں ہیں جو ان کی ہیں اور دنیا کی عظیم ترین ہستیوں میں انہیں سب سے عظیم انسان کہا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے ملک میں یہ کوشش ہوتے کبھی نہیں دیکھی کہ دنیا کی تاریخ کے عظیم انسان کو مسجد سے نکال کر اپنی روزمرہ کی زندگی میں شامل کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرآن پاک میں اللہ حکم دیتا ہے کہ ان کی زندگی سے سیکھو، ان کے سنت پر چلو کیوں کہ قرآن ہمارے لیے ہدایت کی کتاب ہے اس سے ہماری زندگی بہتر ہوگی اس سے ہمیں فائدہ ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم پانچوں وقت نماز پڑھتے ہیں اور اللہ سے وہ راستہ مانگتے ہیں جو ہمیں نعمتیں بخشے گا خوشیاں دے گا سکون دے گا لیکن جو سب سے عظیم انسان اس راستے پر تھے، میں نے دیکھا کہ ان کی زندگی کا ہماری زندگی سے تعلق ہی نہیں ہے۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسجد سے باہر اپنی زندگیاں ری ماڈل کرنا ہماری سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے کہا کہ جب بھی اسلامی معاشرہ اسلام کے ان اصولوں پر واپس گیا ہے جو ریاست مدینہ میں بنائے گئے تھے تو وہ معاشرہ اوپر آیا ہے یعنی وہ نبی کی سنت پر چل کر اوپر گئے۔ وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر یہ بات دہرائی کہ جس معاشرے میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہ تباہ ہوجاتے ہیں، کوئی قوم اس وقت تک عظیم نہیں بن سکتی جو طاقتور کو قانون کے نیچے نہ لے کر آئے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کا مقصد ہے کہ نبی کی زندگی کو عام لوگوں کی زندگیوں میں لے کر آئیں اور ان کی سنت پر چلنے کی کوشش کریں جو انہوں نے مدینہ کی ریاست میں قانون کی حکمرانی اور فلاحی ریاست قائم کی لیکن اس کے ساتھ تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب لوگ تھے اور جنگ بدر کے دوران سب کے پاس ہتھیار بھی نہیں تھے لیکن جب کفار کے قیدی پکڑے گئے تو ان سے رہائی کے بدلے پیسے لینے کے بجائے تعلیم کو ترجیح دی اور کہا کہ جو شخص 10 مسلمانوں کو پڑھا لکھا دے گا وہ آزاد ہوگا۔ عمران خان نے کہا کہ تعلیم کے حصول کو عبادت کا حصہ بنادیا گیا تو کئی صدیوں تک مسلمان سائنسدان ایسے ہی نہیں تھے اور خلیفہ مامون رشید نے دارالحکمت قائم کیا جہاں دنیا کی کتابیں ترجمہ کی گئیں، مسلمان رہنما تھے جس کی بنیاد مدینہ میں رکھی گئی۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس کے بعد پھر یہ بھی دیکھا کہ ہم نیچے کیسے گئے اور یورپ آگے کیسے گیا، انہوں نے تعلیم اور تحقیق پر زور دیا۔وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر یہ بات دہرائی کہ جس معاشرے میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہ تباہ ہوجاتے ہیں، کوئی قوم اس وقت تک عظیم نہیں بن سکتی جو طاقتور کو قانون کے نیچے نہ لے کر آئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*