تازہ ترین

نابینا فقیر کی دانشمندی

لیاقت مظہر باقری
پیارے بچو!بہت سالوں کی بات ہے،ملک خراسان میں بخت شاہ کی حکومت تھی،جو بہت نیک اور رحم دل بادشاہ تھا۔اس کے برعکس،بخت شاہ کا وزیر،انتہائی مغرور اور بدمزاج شخص تھا۔وزیر بننے کے بعد قوت و اختیارات اور دولت کی ریل پیل نے اس کا دماغ خراب کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ ہر شخص کو حقیر سمجھتا تھا۔
ایک دن،بادشاہ بخت شاہ وزیر اور ان کا خاص ملازم سفر پر روانہ ہوئے۔وہ تینوں علیحدہ علیحدہ گھوڑوں پر سوار تھے۔جب وہ ایک صحرا سے گزرے تو اچانک انہیں ریت کے طوفان نے گھیر لیا۔گرد و غبار کی وجہ سے انہیں راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن ملازم نے بادشاہ کا ساتھ نہ چھوڑا اور اس کے ساتھ رہا جب کہ وزیر ان سے بچھڑ گیا۔
کچھ دیر بعد جب طوفان تھما تو وہ دونوں الگ الگ وزیر کو تلاش کرنے لگے۔
کافی دیر کی تلاش کے بعد ملازم کو ایک جھونپڑی نظر آئی۔جب وہ وہاں پہنچا تو اسے ایک اندھا فقیر بیٹھا دکھائی دیا۔ملازم نے اس سے انتہائی بدتمیزی سے پوچھا۔
”اندھے،کیا تو نے اس طرف سے کسی گھوڑ سوار کے گزرنے کی آواز سنی ہے“؟
فقیر نے جواب دیا:”نہیں بھائی،مجھے تو کچھ سنائی نہیں دیا۔“ملازم یہ سن کر آگے بڑھ گیا۔
تھوڑی دیر بعد وزیر بھی اپنے ساتھیوں کو تلاش کرتا ہوا اِدھر سے گزرا۔
جھونپڑی دیکھ کر وہ بھی رکا اور اس نے فقیر سے پوچھا:”او فقیر،کیا تم نے یہاں سے کسی آدمی کے گزرنے کی آوازیں سنی ہیں؟“۔اس نے وزیر کو بھی وہی جواب دیا جو ملازم کو دیا تھا،وزیر بھی وہاں سے آگے بڑھ گیا۔کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بخت شاہ بھی اسی جھونپڑی کے پاس سے گزرا۔
فقیر کو دیکھ کر گھوڑے سے نیچے اُترا پہلے فقیر کو سلام کیا۔اس کے بعد انتہائی ادب سے پوچھا۔
”شاہ صاحب’کیا آپ نے کسی گھوڑے کی آوازیں سنی ہیں“؟نابینا فقیر نے جواب دیا،”جی ہاں جہاں پناہ،پہلے حضور کا ملازم اِدھر سے گزرا پھر آپ کا وزیر“بادشاہ کو یہ سن کر بہت حیرت ہوئی،اس نے پوچھا،”شاہ صاحب؟آپ تو نابینا ہیں آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں بادشاہ ہوں۔
“اندھے فقیر نے مسکرا کر جواب دیا،”عالی جاہ“آپ کے ملازم نے مجھے اندھا کہا آپ کے وزیر نے مجھے فقیر کہا،حضور نے مجھے شاہ صاحب کہہ کر مخاطب کیا۔لہٰذا گفتگو اور لہجے سے میں نے اندازہ لگا لیا کہ کون کس مرتبے کا ہے۔بخت شاہ،فقیر کی باتوں سے بہت خوش ہوا اور اسے انعام و اکرام دینے کی کوشش کی لیکن فقیر نے لینے سے انکار کر دیا۔
بادشاہ فقیر کی جھونپڑی سے رخصت ہو کر محل پہنچا جہاں ملازم اس کا انتظار کر رہا تھا۔اس نے اسے فقیر سے بے سودہ انداز میں گفتگو کرنے پر سرزنش کی۔اس دوران وزیر بھی محل پہنچ گیا۔بادشاہ نے اسے بھی نابینا فقیر سے ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا۔
پھر دونوں کو سمجھایا کہ”اعلیٰ مرتبے یا عہدے کے نشے میں کسی انسان کو کمتر اور حقیر نہیں سمجھنا چاہیے،یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا عطیہ ہے۔لیکن یاد رکھو،اگر خالق کائنات اگر کسی کو کچھ دیتا ہے تو وہ اسے واپس لینے کی بھی قدرت رکھتا ہے۔“

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*