تازہ ترین

نابالغ سیاست دان!!!

محمد اکرم چودھری
بیٹے احمد اور انس کے ساتھ چائے کا دور چل رہا تھا گوکہ گرمی ہے لیکن ہم کسی ٹھنڈی جگہ بیٹھے تھے اس لیے چائے سے حقیقی طور پر لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ہم اس جگہ تھے جہاں لوگوں پر مہنگائی کچھ زیادہ اثر نہیں کرتی، میری خواہش اور دعا تو یہی ہے کہ سارا پاکستان ایسا صاف ستھرا ہو، کشادہ سڑکیں، کم آلودگی، ہرے بھرے درخت ہوں، پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب جگہ ہو اور اس مخصوص جگہ پیدل چلنے والے نظر بھی آ رہے ہوں۔ بہرحال خوابوں پر کوئی قید نہیں، خیالات پر کوئی پابندی نہیں اور خواہشات پر کسی کا زور نہیں ہوتا۔ ایسے پر لطف ماحول میں بیٹے ساتھ ہوں ان میں ملک کا مستقبل نظر آتا ہے۔ میں یہی سوچ رہا تھا کہ احمد نے کہا بابا یہ ہمارے سیاستدان بھی کبھی خوش ہوں گے یا ایسے ہی ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے رہیں گے، ہر جماعت کے دو دو لوگ ایک ہی مسئلے پر مختلف بیانات جاری کرتے ہیں پھر ان کے ماننے والے سینکڑوں ہزاروں دن بھر ان بیانات پر لڑتے رہتے ہیں، میں تو سنتا آیا ہوں کہ سیاست دان قوم کو متحد رکھتے ہیں ہمارے ہاں اس کے برعکس ہے یہ تو لڑواتے جا رہے ہیں، خود بھی لڑتے رہتے ہیں اور اپنے حمایتیوں کو بھی لڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔ آخر یہ کہاں جا کر رکیں گے، کبھی رکیں گے بھی یا نہیں!!!میں نے کہا بیٹا پہلے آپ رکیں پھر ان کے بارے جواب دوں گا ایسے بغیر رکے بولتے چلے جاییں گے تو سننے کی طاقت باقی نہیں رہے گی۔ پھر میں نے پوچھا ہوا کیا ہے، کہنے لگا آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج کو بھی کوئی سیاسی جماعت تسلیم نہیں کر رہی۔ نہ جیتنے والے خوش ہیں نہ ہارنے والے شکست تسلیم کر رہے ہیں۔ میں نے کہا تو برخوردار یہ بات ہے جس پر اتنا برہم ہو۔ سنو بیٹا یہ بزرگ ہو کر بھی سیاسی نابالغ ہی ہیں۔ دہائیوں سے انتخابات میں حصہ لیتے آ رہے ہیں لیکن ہارنے والوں نے کبھی شکست تسلیم نہیں کی۔ اسی کی دہائی کے اواخر سے دو ہزار دو تک اور اس کے بعد دو ہزار اٹھارہ تک ہونے والے تمام انتخابات میں کبھی ہارنے والی جماعت نے شکست تسلیم نہیں کی نہ ہی اس دوران کسی نے انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ماضی میں مقابلہ دو جماعتوں میں ہی ہوا کرتا تھا یہ اتنے سیاسی بالغ ہیں کہ ایک حریف کو بھی برداشت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ اگر یہ دونوں ہی مل کر کوئی بہتر فیصلہ کرتے تو آج ملک کی سیاسی تاریخ مختلف ہوتی، اگر دو بڑی سیاسی جماعتیں ملک کے انتخابی نظام کو بہتر بنانے کے کیے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرتیں تو آج انتخابات کی حیثیت مکمل طور پر مختلف ہوتی۔ اب انہوں نے خود کچھ کیا نہیں اب چیختے چلاتے رہتے ہیں اور یہ چیخ و پکار بھی صرف حکومت نہ بنانے تک ہے اگر حکومت مل جائے تو پھر نظام میں کوئی برائی یا خامی نہیں رہتی۔ اب آزاد کشمیر کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں یعنی ایک مرتبہ پھر اصلاح کے پہلو کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ شکست تسلیم کیے بغیر، ہار کا مزہ چکھے بغیر بہتری کا سفر ہی شروع نہیں ہوتا، ناکامی سے بڑا کوئی استاد نہیں ہے، جو سبق کسی کتاب میں نہیں ملتا، کسی استاد سے نہیں ملتا وہ سبق ناکامی سکھاتی ہے۔ چونکہ شکست تسلیم کرنے سے اصلاح کا سفر شروع ہوتا ہے اور ان میں سے کوئی اصلاح چاہتا نہیں ہے۔ یہ قوم کو الجھائے رکھنا چاہتے ہیں، دہائیوں سے الجھائے جا رہے ہیں اور اس الجھن میں تازہ اضافہ آزاد کشمیر انتخابات ہیں۔ یہ یقیناً اس کے بعد 2023 کے انتخابات میں بھی ایسے ہی بیانات جاری کریں گے، آج بھی سر ٹکرا رہے ہیں دو سال بعد بھی سر ٹکرا رہے ہوں گے۔ نہ انہوں نے خود کچھ سیکھا ہے نہ یہ چاہتے ہیں کہ قوم کچھ سیکھے۔ پس بیٹا یہ جان لو کہ رونا دھونا، چیخ و پکار، الزام تراشی یہ سب کچھ سیاسی طور پر زندہ رہنے کے حربے ہیں۔ عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے روایتی طریقے ہیں۔ یہاں تو نئی روایت قائم ہوئی جیتنے والی جماعت بھی دھاندلی کا شور مچاتی ہے۔ جہاں تک میاں نواز شریف کی مسلم لیگ کا تعلق ان کے فیصلوں کی وجہ سے آج قوم رو رہی ہے، اب تبدیلی یہ آئی ہے کہ قوم کے ساتھ ساتھ نون لیگ والے خود بھی رو رہے ہیں۔ جو رونا دھونا نہیں چاہتے وہ کمروں میں بند ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر، ن لیگ کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، نون لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات کے نتائج مسترد کر دیے ہیں۔ احسن اقبال کہتے ہیں ”عمران خان نے آزادکشمیر میں مینڈیٹ چرایا ہے، اب الیکشن پر احتجاج نہیں کرنا۔شاہد خاقان عباسی نے کہتے ہیں کہ الیکشن پر عوام کا اختیار نہیں، حقیقت میں پچیس جولائی کو آزادکشمیر میں جمہوریت ہاری ہے، غیر نمائندہ حکومت کیسے کشمیر کاز کو آگے بڑھا سکتی ہے”۔میاں نواز شریف کی جماعت کو اب ہر جگہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ اقتدار سے دور ہیں اور اس دوری کی وجہ سے سب کچھ بھول چکے ہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے تو وہ یاد رکھیں کہ یہ انہی کا لگایا ہوا پودا ہے جو پھل دے رہا ہے اگر میاں نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم بننے کے باوجود انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے اقدامات نہیں کر سکے تو پھر یہ سوال ہونا چاہیے کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے ہیں اگر نہیں اٹھائے تو پھر بھگتیں۔ لوگ اولمپک میڈل لے رہے ہیں اور ہمارے گھروں میں تو پانی بھی نہیں آ رہا بس یہیں سے اندازہ لگائیں کہ کھلاڑیوں کے کیا حالات ہوں گے؟؟؟؟ یہ کہتے ہوئے میں نے احمد اور انس سے کہا چائے تمہاری چائے ختم نہیں ہوئی لیکن میرا وقت ختم ہو گیا ہے مجھے واک کرنے جانا ہے باقی باتیں پھر کبھی کریں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*