میرا بچہ، میری گاڑی، میری مرضی!!!!

محمد اکرم چودھری
ایک بچے کی گاڑی چلاتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوتی ہے، ویڈیو ٹی وی چینلز پر نشر ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر ہر کوئی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہ ویڈیو وفاقی وزیر علی امین خان گنڈا پور کے اپنے بیٹے کی ہے، ان کا بیٹا ان کی اپنی گاڑی، ان کی اپنی زمین پر چلا رہا ہوتا ہے۔ اس ویڈیو کے بعد آواز بلند ہوتی ہے۔ عام پاکستانی یا جنہیں آئین و قانون پر عملدرآمد کا درس دیا جاتا ہے وہ حیران پریشان ہوتے ہیں کہ ایک بچہ گاڑی چلا رہا ہے، کیا یہ قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے، کیا اس حرکت سے قانون کا مذاق نہیں اڑایا گیا، کیا یہ غلط مثال قائم نہیں کی گئی۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم افراد نے اس غیر قانونی حرکت پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ویسے ایسی حرکتیں تو روزانہ سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں ہوتی ہیں۔ پاکستان میں بڑی تعداد بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ کر رہی ہوتی ہے۔ لاہور میں ہی دیکھ لیں چنگ چی چلانے والے، رکشہ ڈرائیورز، موٹر سائیکل چلانے والوں کی بڑی تعداد کا لائسنس نہیں ہوتا اسی طرح کم عمر بچے گاڑیاں چلاتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ یہ قانون کی کمزوری ہے، ایسے ہی حادثات بھی ہوتے ہیں اور قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ اس تناظر میں یہ ویڈیو کچھ غیر معمولی نہیں لگتی لیکن اس ویڈیو کا سب سے اہم کردار ایک وفاقی وزیر ہے۔ ہم نے تو یہی سنا ہے کہ وزراء پر آئین و قانون سب سے پہلے اور سب سے زیادہ لاگو ہوتا ہے۔ قانون پر عملدرآمد کی سب سے اعلیٰ مثالیں ہمیشہ سے صدر، وزیراعظم، وفاقی اور صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی ہی قائم کرتے ہیں۔ اسمبلی میں کھڑے ہوکر قانون کی حکمرانی کی تقریریں کرتے ہیں، آئین و قانون کے حوالے دیتے ہیں۔ اگر وہ خود اعلانیہ قانون کا مذاق اڑانا شروع کر دیں تو عام آدمی تک کیا پیغام جائے گا، ایک عام شہری کیسے قانون کی پابندی کرے گا جب وہ اپنے سامنے ایک وفاقی وزیر کو اعلانیہ قانون توڑتے دیکھتا ہے اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ وہ اس غیر قانونی کام کا دفاع بھی کرتا ہے اور بے تکی دلیلیں پیش کرتا ہے۔ علی امین گنڈا پور ڈھٹائی سے اس غیر قانونی عمل کا دفاع کرتے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ ٹریفک قوانین سڑک، ہائی وے یا موٹروے پر لاگو ہوتے ہیں۔ اس واقعے میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ جس زمین پر گاڑی چل رہی ہے وہ انہی کی ملکیت ہے، جو گاڑی چل رہی ہے وہ خود اس کے مالک ہیں اور ان کا بیٹا ہی چلا رہا ہے۔ قانون توڑ کر جرم کیا گیا ہے تو یہ دلیل قانون توڑنے سے بھی بڑا جرم ہے۔ علی امین گنڈا پور یقیناً طاقت و اقتدار کے نشے میں ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں۔ انہیں یہ تو یقیناً علم نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں یقیناً یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ طرز عمل کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ یہ قانون کو چیلنج کرنے کی بات ہے۔ یعنی جس کے پاس گاڑی ہے وہ اپنی گاڑی جسے مرضی دے، کوئی بھی اسے غیر قانونی انداز میں چلاتا پھرے چونکہ گاڑی کے مالک کی اجازت ہے اس لیے جو دل چاہے وہ کرتے پھریں۔ وفاقی وزیر نے تو قانون توڑنے کا نیا راستہ نکالا ہے۔ اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ واقعی ملک میں قانون صرف کمزور افراد کے لیے ہے۔ قانون طاقتور کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ علی امین گنڈا پور ایک متنازع شخصیت ہیں انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی نامناسب زبان استعمال کی تھی اس سے پہلے بھی وہ مختلف تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ اس کے باوجود وہ کابینہ کا حصہ ہیں۔ یہ طرز عمل اس لیے بھی خطرناک ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی ناکام کیوں ہے علی امین گنڈا پور کا یہ عمل اور اس کے بعد عقل سے عاری گفتگو کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی ناکامی کے حوالے سے کوئی غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے۔ درحقیقت یہ وزراء کی یہی غیر سنجیدگی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جو لوگ یہ نہ سمجھ سکیں کہ ٹریفک قوانین کا اطلاق پورے ملک میں یکساں طور پر ہوتا ہے۔ جو وفاقی وزیر ذہنی طور پر اتنا کمزور ہو وہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کیسے کرے گا، جو وزیر اس سوچ کا مالک ہو وہ خاک قانون سازی کرے گا، جو وفاقی وزیر یہ سوچتا ہو وہ عوامی مسائل و مشکلات کو کیسے سمجھ سکتا ہے۔ یہ کہانی اکیلے علی امین گنڈا پور کی نہیں ہے یہ کہانی ہر دوسرے وزیر کی ہے۔
کس کس کو روئیں گے، نالائقی، غیر سنجیدگی تو اس حکومت کے وزراء کی خاص پہچان بن چکی ہے۔ جنہیں اپنے بچوں کی فکر نہیں ہے انہیں قوم کے بچوں کی کیا فکر ہو گی۔ قوم کے بچوں کا مستقبل بچوں سے بھی کم ذہنی صلاحیت کے حامل افراد کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ قوم کی خاک رہنمائی کریں گے جو قانون و غیر قانونی میں تفریق نہ کر سکیں۔ قانون توڑنے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آنا چاہیے۔ علی امین گنڈا پور پاکستان تحریکِ انصاف کا وہ چہرہ جو ہر وقت چھپا رہے تو زیادہ بہتر ہے۔وزیر خزانہ حماد اظہر کہتے ہیں کہ وزارت خزانہ کا اضافی چارج وزیراعظم کا اعتماد ہے۔ ہمارے دور میں ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے۔ معیشت کو مستحکم اور آگے بڑھانے کا کام جاری رکھنا ہے۔
وفاقی وزیر نجانے کس معیشت کی بات کر رہے ہیں۔ عوام کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور انہیں معیشت ترقی کرتے دکھائی دے رہی ہے، بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اورانہیں معیشت ترقی کرتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستانی دنیا کی پریشان رہنے والی قوموں میں شامل ہو چکے ہیں اور حماد اظہر کو معیشت بہتر ہوتے دکھائی دے رہی ہے۔ مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے اور وفاقی وزیر کو سب اچھا دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں اکیلے علی امین گنڈا پور نہیں ہیں یہاں سب ایک جیسے ہی نظر آتے ہیں۔ حماد اظہر کہتے ہیں کرونا کے باعث دنیا بھر میں سپلائی چین متاثر اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔کوشش ہے کہ عام آدمی کو کرونا کے باعث معاشی بحران کے جھٹکوں سے بچائیں۔ حماد اظہر شاید کسی اور ملک میں رہتے ہیں لگتا ہے وہ عام آدمی کی حالت سے واقف نہیں ہیں۔ ورنہ وہ جھٹکوں سے بچانے کی بات ہرگز نہ کرتے کیونکہ عوام کو دوہزار اٹھارہ سے اب تک اتنے جھٹکے لگ چکے ہیں کہ اب انہیں عادت ہو چکی ہے اب تو عام آدمی صرف یہ سوچتا ہے کہ تازہ جھٹکا پرانے جھٹکے سے زیادہ تکلیف دہ ہے یا کم تکلیف دہ ہے۔ عام آدمی کے لیے تو حکومت کچھ نہیں کر سکی البتہ میڈیا کو ہر دوسرے دن وزارتوں میں تبدیلی سے گفتگو کا موضوع ضرور دیا ہے اور یہی اس حکومت کی بڑی کامیابی ہے کہ میڈیا کے پاس خبروں اور موضوعات کی کمی نہیں آنے دی۔ حیران کن تبدیلیاں اور غیر متوقع فیصلوں کی وجہ سے میڈیا کو ہر روز ایک تازہ موضوع ملتا ہے۔ نجانے حکومت کب غلطیوں سے سبق سیکھے گی۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*