میتھی ہر موسم میں مفید

نسرین شاہین
میتھی ایک مشہور پودا ہے،جسے سبزی کے طور پر کھایا جاتا ہے۔میتھی کے بیج چار ہزار سال قبل مسیح عراق سے برآمد کیے گئے تھے،جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ قدیم زمانے میں بھی کھائے جاتے تھے۔یہی بیج”توتن خامن“ نامی فرعون کے مقبرے میں سے برآمد ہونے والی اشیاءمیں بھی شامل تھے۔میتھی اپنی زبردست مہک اور اچھے ذائقے کی بنا پر پاکستان،انڈیا اور مشرق وسطیٰ کے پکوانوں میں بے حد مقبول ہے۔
یہ کثیر الفوائد پودا جنوبی یورپ،ایشیا،اسپین،شمالی افریقہ،ہندوستان،پاکستان اور جنوبی روس کے علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔تاریخی اہمیت کی حامل میتھی کو سلطنت روم میں ہر مرض کی دوا سمجھا جاتا تھا۔مصری لوگ اس کے بیجوں کو اسی طرح استعمال کرتے تھے،جیسے آج کے لوگ کونین استعمال کرتے ہیں۔
جدید مصر میں سوکھی میتھی کی چائے قبض کی شکایت کی وجہ سے پیٹ میں وقفے وقفے سے ہونے والے درد کو دور کرنے کے لئے پی جاتی ہے۔
چینی زبان میں میتھی”ہولوبا“ کے نام سے موسوم ہے۔چین میں میتھی گردوں کے نظام کو بہتر بنانے اور گردوں کی تکلیف کو دور کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے۔یہ گردہ دوست سبزی ہے۔
میتھی کی دو قسمیں ہیں:چھوٹی میتھی،جس کے پتے چھوٹے ہوتے ہیں۔ان کی مہک بے حد اچھی ہوتی ہے۔گرمیوں میں میتھی بہت مختصر مدت کے لئے دستیاب ہوتی ہے،البتہ سردیوں میں خوب آتی ہے۔
بڑی میتھی کے پتے بڑے ہوتے ہیں اور یہ سال بھر دستیاب رہتی ہے۔ یہ بیج سے بہ آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔چھوٹی میتھی کی در حقیقت بڑی میتھی کی طرح نرم و لچک دار شاخیں ہوتی ہیں،لیکن یہ ریتیلی زمین پر اُگتی ہیں۔میتھی خشک بھی دستیاب ہوتی ہے اور قصوری میتھی کے نام سے فروخت ہوتی ہے۔قصور شہر میں کاشت کیے جانے کے باعث یہ قصوری میتھی کہلاتی ہے اور سب سے زیادہ خوشبودار سمجھی جاتی ہے۔
بہت سے پکوان ایسے ہیں،جن میں خشک یا تازہ میتھی کے پتے ڈالے جاتے ہیں،جن کی وجہ سے کھانے ذائقے دار اور خوشبودار ہو جاتے ہیں۔ہماری خواتین چونکہ اس کی افادیت سے خوب واقف ہیں،لہٰذا وہ مختلف پکوانوں میں اسے شامل کرتی ہیں۔
موسم سرما شروع ہوتے ہی میتھی کی کاشت شروع کر دی جاتی ہے اور اس کے پتے کاٹ کر بہ طور سبزی کھائے جاتے ہیں۔آخر میں اس میں پھول آکر دو سینٹی میٹر لمبی پھلیاں پیدا ہو جاتی ہیں،جن کے اندر سے سرخی مائل زرد بیج نکل آتے ہیں۔
یہ بیج بھی خوشبودار ہوتے ہیں،انھیں پانی میں بھگونے سے لعاب پیدا ہوتا ہے۔میتھی دانے کا مزاج گرم و تر ہے۔قدرت نے میتھی کے بیجوں میں حیاتین (وٹامنز) کوٹ کوٹ کر بھر دی ہیں۔ان میں لحمیات (پروٹینز) گوشت کے برابر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔اطبا کے مطابق میتھی دانے خون صاف کرتے ہیں۔اس کے بیج بہ طور مسالا اور خوشبو کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔
میتھی دانہ تقریباً ہر اچار میں شامل کیا جاتا ہے۔میتھی دانوں کے بہت سے طبی فوائد ہیں۔ان سے تیار کردہ چائے بخار کی شدت کم کرنے میں بہت فائدہ مند ہوتی ہے۔میتھی کے بیجوں کو بھون اور پیس کر سفوف کی شکل میں کرکے ایک چائے کا چمچہ بھر مقدار دودھ کے گلاس میں ڈال کر پی جائے تو بہت فائدہ ہوتا ہے۔اسے کافی کا بدل بھی سمجھا جاتا ہے۔کافی کی جگہ ایک چمچہ میتھی کے بیجوں کا سفوف ملا کر پینے سے کافی کا مزہ آجاتا ہے۔
مغربی نباتاتی ادویہ میں میتھی کے بیجوں کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے۔میتھی کے بیج زمانہ قدیم سے ہی پرانی،کھانسی،گلے کی خرابی، نزلے اور دمے میں تنہا یا دوسری دوا¶ں کے ساتھ استعمال کروائے جاتے رہے ہیں۔ان کا لعاب گلے کی خراش و خشکی اور گھٹن کو دور کر دیتا ہے۔اس طرح کھانسی اور سانس کی آمد و رفت میں آرام آجاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ بلغم کو پتلا کرکے خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
میتھی دانے کے حیرت انگیز فوائد نزلے زکام اور کھانسی میں دیکھنے میں آتے ہیں۔نزلے کی شدت میں جب چھینکوں کے ساتھ ناک اور آنکھوں سے پتلی رطوبت بہنے لگے تو ایسے میں اگر کئی روز تک میتھی دانے پابندی کے ساتھ استعمال کیے جائیں تو بہت فائدہ ہوتا ہے۔چائے کا ایک چمچہ بھر میتھی دانے ایک پیالی پانی میں جوش دے کر چھان لیں اور شہد یا شکر ملا کر نیم گرم حالت میں صبح اور رات سونے سے قبل پی لیں تو نزلے زکام سے نجات مل جاتی ہے۔
میتھی کے تازہ پتوں میں پائے جانے والے غذائی اجزاءہماری جسمانی ضروریات کو پورا کرنے میں قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں۔میتھی میں تمام حیاتین ملی جلی شکل میں کافی مقدار میں پائی جاتی ہیں۔یہ لحمیات،فاسفورس،فولاد اور کیلسیئم سے بھرپور سبزی ہے۔
اس میں معدنیات (منرلز) بھی کافی مقدار میں پائی جاتی ہیں۔میتھی میں موجود فاسفورس ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔
اس میں موجود ”لیسی تھن“ (Lecithin) پٹھوں کی نشوونما کرتا ہے،جب کہ فولاد جسم میں اس کی کمی کو دور کرتا ہے۔میتھی میں حیاتین الف،ب اور ج(وٹامنز اے،بی اور سی) ہوتی ہیں،جو صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں۔اطبا میتھی کو مقوی غذا کے طور پر کھانے کی ہدایت کرتے ہیں،اسے ایسی خواتین کو بھی کھانے کی تاکید کی جاتی ہے،جن کا دودھ ان کے شیرخوار بچوں کے لئے ناکافی ثابت ہوتا ہو۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ قدرت نے میتھی میں لحمیات اور اس کے امینو ترشوں(Amino Acids) کا تناسب کچھ اس طرح سے رکھا ہے کہ یہ دودھ کا بہترین بدل ثابت ہوتا ہے۔ما¶ں کے دودھ کی مقدار میں اضافے کی غرض سے میتھی کے بیجوں کا سفوف چھ گرام ایک پیالی دودھ میں ملا کر تھوڑی سی شکر شامل کرکے صبح نہار منہ پلایا جائے تو بہت فائدہ ہوتا ہے۔
میتھی کو کئی مختلف طریقوں سے پکایا جاتا ہے۔
پنجاب میں میتھی کو کئی قسم کے پکوانوں میں شامل کیا جاتا ہے،جس میں چکن میتھی بھی شامل ہے۔سندھ کی خواتین مچھلی پکاتے وقت اس میں میتھی اور لہسن بھی ڈالتی ہیں۔یہ مچھلی بہت لذیذ اور ذائقے دار بنتی ہے۔میتھی آلو بھی ایک پسندیدہ پکوان ہے،جو کڑاہی میں خشک بنائی جاتی ہے۔میتھی کا اسٹو(Stew) بھی بنایا جاتا ہے اور پراٹھے بھی بنائے جاتے ہیں،جو بے حد مزے دار ہوتے ہیں۔
میتھی کو پالک کے ساتھ بھی پکاتے ہیں۔میتھی کی ترکاری انتہائی خوش ذائقہ ہوتی ہے۔میتھی بہت مفید ترین سبزی ہے۔یہ ہر موسم میں کھائی جاتی ہے۔اس کی بھجیا بھی بنا کر کھائی جاتی ہے۔اس کے بیجوں کولڈو اور حلوے میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔اکثر لوگ انھیں گڑ میں ملا کر کھاتے ہیں۔اس طرح اعصابی کمزوری کے باعث پیدا ہونے والا درد جاتارہتا ہے۔میتھی کھانے سے قبض بھی رفع ہو جاتا ہے۔میتھی کے اثرات ہضم کے نظام پر بہت اچھے پڑتے ہیں۔خواتین کے امراض،خاص طور پر ایام کے رک جانے میں بھی میتھی کھلائی جاتی ہے۔میتھی کو کسی طرح بھی پکائیں،یہ ہر شکل میں مزے دار،فائدہ مند اور صحت بخش سبزی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*