تازہ ترین

میاں ساڈا شیر اے!!!!

محمد اکرم چودھری
میاں صاحب وطن کی مٹی پکار رہی ہے، میاں صاحب یہ آپکا اپنا وطن ہے، میاں صاحب لاہور کی سڑکیں، مری کی پہاڑیاں، نتھیا گلی کی ٹھنڈی ہوائیں، جاتی امرا کے درخت، ماڈل ٹاﺅن کے چوک، لکشمی کے سموسے، پیسہ اخبار کے بونگ پائے، مال روڈ کی آئس کریم میاں صاحب سب آپکو بلا رہے ہیں، میاں دے نعرے وج رئے نیں، سارے میاں نو سد رئے نیں، میاں ساڈا شیر اے، باقی ہیر پھیر اے۔
میاں صاحب لاہور اسلام آباد موٹر وے،
میاں صاحب جاوید لطیف کا شیخوپورہ، خواجہ آصف کا سیالکوٹ، رانا تنویر کا جی ٹی روڈ، گوجرانولہ کے پہلوان مارن مکی کڈن جان، انجینئر امیر مقام کا خیبر پختونخوا میاں صاحب سارا ملک آپکو یاد کر رہا ہے، دیر نہ کریں، جتنا جلد ممکن ہو وطن واپس آئیں، شہباز شریف کے بائیں کان میں عرصہ ہوا کسی نے سرگوشی نہیں کی، خواجہ سعد رفیق کا حلقہ آپکا منتظر ہے، اختر رسول چودھری کا سمن آباد آپکو یاد کر رہا ہے۔
سنت نگر اور داتا دربار والے آپ کے منتظر ہیں، کتنا انتظار کروائیں گے میاں صاحب، کئی مہینے گذر گئے آپ کے دیدار کو غصہ تھوک دیں اب وطن واپس تشریف لائیں۔ میاں صاحب یہ ہوائیں یہ فضائیں آپکی منتظر ہیں۔
میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ انہیں وطن واپس آنا چاہیے۔ لازم نہیں کہ وہ صرف اس وقت ہی ملک میں رہ سکتے ہیں جب وہ وزیراعظم ہوں اور جب میاں نواز شریف وزیراعظم نہیں وہ ملک سے باہر رہیں۔
اس مرتبہ جن حالات میں وہ ملک سے گئے یہ ایک الگ داستان ہے۔ جس طرح ماحول بنایا گیا یہ ثابت کرنے ہی کوشش کی گئی کہ ان کی طبیعت نہایت خراب اور جان کو خطرہ ہے یوں آخر کار انہیں لندن جانے کی اجازت مل گئی وہ دن اور آج کا دن میاں نواز شریف نے ہر موقع پر پاکستان کے دفاعی اداروں کو نشانہ بنایا ہے، انہوں نے ریاستی اداروں کو متنازع بنانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا، وہ ہر وقت ملک کو نشانہ بناتے رہے۔ ایک طرف وہ خود ریاستی اداروں پر حملہ آور ہوتے تو دوسری طرف ان کی بیٹی دشمنوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے ریاست کے اداروں کو متنازع بنانے کی مہم کا حصہ بنتی۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی میاں نواز شریف اور ان کے چند بے ضمیر سیاست دانوں کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ اپنے ملک کے ساتھ کیا گھناو?نا کھیل کھیل رہے ہیں۔ میاں جاوید لطیف کے بیانات اور مریم نوقز شریف کے ساتھ وطن دشمن بیانیے کا حصہ بننے والے چند غیر منتخب افراد مکمل طور پر پاکستان کے دشمنوں کے ایجنڈے کا آگے بڑھاتے رہے ہیں۔ اس منفی مہم کو چلاتے چلاتے میاں نواز شریف اپنے ملک سمیت سب کچھ بھول گئے حالانکہ اپنے بھائی میاں شہباز شریف کو بھی بھول گئے۔ انہوں نے مختلف مواقع پر اپنی بیٹی کی حمایت کرتے ہوئے میاں شہباز شریف کو بھی نیچا دکھایا لیکن میاں شہباز شریف نے بڑے بھائی کا ساتھ دینے کی کوشش کی لیکن برطانیہ کے ایک فیصلے نے بازی ہی پلٹ دی ہے۔
برطانوی امیگریشن حکام کی جانب سے سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے ویزا میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد شہباز شریف کا اپنے بھائی سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ ان کے وکلا نے ہوم آفس کے فیصلے کے خلاف اپیل میں نواز شریف کی طبی وجوہات اور علاج کی بنا پر برطانیہ میں قیام کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
شہبازشریف نے بڑے بھائی سے اصرار کیا کہ وہ مکمل علاج اور ڈاکٹروں سے اجازت ملنے تک برطانیہ میں ہی قیام کریں، قوم اور پارٹی کو آپ کی صحت وسلامتی سب سے زیادہ عزیز اور مقدم ہے، قوم اور پارٹی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کی برطانیہ میں چھ ماہ قیام کے ویزیکی مدت ختم ہو چکی تھی جس پر انہوں نے اپنے علاج کے سلسلے میں برطانیہ میں مزید قیام کے لیے ویزا میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ برطانوی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے درخواست مسترد ہونے کے بعد نواز شریف کے پاس دو راستے بچے ہیں، یا تو وہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ میں فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کریں اور وہاں سے بھی درخواست مسترد ہونے پر وہ برطانوی عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔عدالتوں نے سابق وزیر اعظم کیخلاف فیصلہ دیا تو انہیں پاکستان ڈی پورٹ کیاجا سکتا ہے۔
یہ صورت حال میاں نواز شریف کے لیے نہایت پریشان کن ہے وہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہیں کیا یہ بہتر نہیں کہ وہ اس کھیل کو ختم کریں ملکی عدالتوں کے سامنے سرنڈر کریں اور اپنے کیے کی سزا بھگتیں۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*