تازہ ترین

میئر کوئٹہ کی عوام سے تعاون کرنے کی اپیل

ایک خبر کے مطابق میئر کوئٹہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن ڈاکٹر کلیم اللہ خان نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر کے اندر غیر قانونی تعمیرات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا ،شہریوں کو جہاں غیر قانونی تعمیرات نظر آئیں وہ فوری طورپر مجھے ذاتی طور پر مطلع کریں کیونکہ میٹر وپولیٹنگ کارپوریشن میں عملے کی کو تاہی اور دیگر وجوہات کی بناء پر غیر قانونی تعمیرات سے متعلق ہم مطلع نہیں ہوتے اس لئے اس عمل کا راستہ روکنے کےلئے عوام براہ راست یا بذریعہ فون مجھے آگاہ کیا کریں غیر قانونی تعمیر یا کوئی بھی مسئلہ ہو اس پر اکیلے قابو نہیں پایا جاسکتا اس لئے تعاون ضروری ہے ۔
میئر کوئٹہ میٹر پولیٹن کارپوریشن ڈاکٹر کلیم اللہ خان کامذکورہ بیان عجیب سالگتا ہے کہ ایک اتنے بڑے ادارے کے سربراہ اپنے عملے سے اس قدر غیر مطمئن ہیں کہ ان پر اعتبار نہیں رہا وہ عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں یہ با ت توحقیقت پر مبنی ہے کہ کوئی بھی کام کوئی اکیلا فرد نہیں کرسکتا خصوصاً عوام کا تعاون ضروری ہے لیکن اس سلسلے میں اہم ذمہ داریاں کوئٹہ میٹر وپولیٹن کارپوریشن کے ذمہ داروں کی ہے وہ اس ذمہ داری کےلئے تعینات کئے گئے ہیں اگر وہ اس سلسلے میں کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو بحثیت ادارے کے سربراہ ڈاکٹر کلیم اللہ خان کو بے بسی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ان کےخلاف کاروئی کریں جوکہ ان کا آئینی حق ہے جبکہ دوسری جانب کوئٹہ میٹر پولیٹن کار پوریشن کے مذکورہ ذمہ داروںکو بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دینی چاہئیں ۔
اس وقت کوئٹہ شہر میں بلند و بالا پلازوں اور دیگر تعمیرات کام بہت زیادہ ہورہا ہے جس سے ایسا لگتا ہے کہ کوئٹہ کا ہرعلاقہ ایک نیاشاپنگ سنٹر بنارہا ہے اس سلسلے میں غیر قانونی تعمیرات بھی ضرور ہورہی ہونگی ان نئے اکثر شاپنگ سنٹروں میں سب سے اہم عنصر پارکنگ کا تعمیر نہیں کرنا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک مسائل پیدا ہورہے ہیں گوکہ اس سلسلے میں آج کل اجلاس منعقد ہورہے ہیں جن میں اس اہم مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں اس لئے اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو بلند وبالا تعمیر ہونےوالے شاپنگ سنٹر وں کو پارکنگ بنانے کے سلسلے میں ہدایات دینی چاہئیں جوکہ ٹریفک کے نظام پر قابو پانے کےلئے بہت ہی ناگزیر ہے ۔
امید ہے کہ کوئٹہ شہر کے مسائل حل کرنے میں کوئٹہ میٹر و پولیٹن کارپوریشن سمیت دیگر متعلقہ ادارے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے جوکہ بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*