تازہ ترین

مہنگائی کا جن بو تل سے با ہر

صوبائی دا رلحکومت کوئٹہ میں ایک عر صے سے ڈسٹر کٹ پر ائس کنٹرول کمیٹی کے فعال نہ ہونے کے با عث مہنگائی کا جن بو تل سے با ہر آگیا ہے ضروری استعمال کی ہر شے کی قیمتیں آسمان سے با تیں کر رہی ہیں مگر ان کو کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
اس وقت صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں آٹا،کو کنگ آئل،گھی ،گو شت ،دودھ دہی کے علا وہ دیگر سبز یا ں دالیں چکن اور فر و ٹس کی قیمتیں بہت ہی زیاد ہ ہیں آٹا 20 کلو 900 روپے آئل فی لیٹر 170 روپے سے زائد ،بڑا گو شت بغیر ہڈی600 روپے اور اسی طر ح چھو ٹا گو شت 800 روپے سے زائد فر وخت کیا جا رہا ہے جبکہ چکن کی قیمتو ں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے سبز یا ں دالیں اور فر و ٹس بھی مہنگے دا مو ں فروخت ہو رہے ہیں جبکہ دودھ اور دہی کی قیمتیں تو با لکل کنٹرول میں نہیں آرہیں یو ں لگتا ہے کہ جیسے انتظامیہ ڈیر ی فا رمز والو ں کے سا منے بے بس ہے۔
ان کی قیمتیں وہ اپنی مر ضی سے ایک عر صے سے وصول کر رہے ہیں اب تو تا جر وں نے مہنگائی کا بہانہ بنا کر آٹا جو ہر غر یب اور امیر آدمی کی ضرورت ہے کی قیمتوں میں از خود اضافہ کر تے ہوئے 20 کلو آٹے کی قیمت 900 روپے کر دی اس کے سا تھ سا تھ آئل اور گھی کی قیمتو ں میں بھی روز بر وز اضافہ ہو رہا ہے جو رکنے کا نا م نہیں لے رہا
اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کون روکے گا؟یہ بلا شبہ انتظامیہ کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشا ن ہے کیونکہ افسو س کی بات یہ ہے کہ ایک عر صہ ہوا جب یہا ں ایک ڈسٹرکٹ پر ائس کنٹرول کمیٹی ہوا کر تی تھی جو کبھی کبھار ایکشن میں آیا کر تی تھی مگر اب ایسا لگتا ہے کہ اس کا وجو د شر وع سے ہی نہیں تھا یہ بڑے المیے کی با ت ہے کہ عوام کو مہنگائی کے نا م پر بے در یغ طر یقے سے لو ٹا جا رہا ہے۔حکومت نے اگر ٹیکسز لگا ئے بھی ہیں تو تا جر اس کا فا ئد ہ اٹھا تے ہو ئے اپنی من مانی بھی کر رہے ہیں۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں ہونیوالی ہو شر با ءمہنگائی کو روکنے کیلئے احسن اقدامات کئے جائیں اس کے لیے ڈسٹرکٹ پر ائس کنٹرول کمیٹی کو فوری طو رپر فعال کر تے ہوئے تما م اشیاءخور د و نوش پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام را ئج کیا جائے اور پر ائس کمیٹی کے مقر ر کر دہ نر خو ں پر عمل در آمد کو یقینی بنا یا جائے اور اس پر عمل در آمد نہ کرنے والے تا جر وں کو صرف چند ہزار روپے جرمانے کی سز ا کی بجائے قید و بند کی کی سز ائیں بھی دی جا ئیں تا کہ وہ اپنا متو ا زی نظام قائم نہ کر سکیں اور عوام مہنگائی سے چھٹکا را حا صل کر سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*