تازہ ترین

مو سمیاتی تبدیلیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ماحولیات سے متعلق منصوبے تیار کئے جائیں،جام کمال خان

کوئٹہ(خ ن)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت آئندہ مالی سال 22-2021 کے لیے محکمہ ماحولیات، فشریز اور جنگلات کی مجوزہ ترقیاتی اسکیمات اور انکے کانسیپٹ پیپرز کی تیاری سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و ماحولیات مٹھا خان کاکڑ، چیف سیکرٹری بلوچستان، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری ماحولیات، سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات، سیکرٹری اطلاعات، ڈی جی بی سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو محکمہ ماحولیات، فشریز اور جنگلات کی نئے مالی سال 22-2021 کےلئے مجوزہ ترقیاتی اسکیمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔سیکرٹری ماحولیات نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں حب میں انوئرنمٹل لیب کے قیام کے لئے مجوزہ منصوبے کے کانسپٹ پیپر کی منظوری دی گئی ہے۔ جبکہ اسٹڈی ان سولڈ ویسٹ مینجمنٹ اور گوادر میں ای پی اے کے آفس کی تعمیر کے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ محکمہ فشریز کے حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئندہ مالی سال کےلئے کانسپٹ کلیئرنس کمیٹی نے محکمہ فشریز کے سات کانسپٹ پیپرز کلیئر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کیج فارمنگ، موبائل کوالٹی کنٹرول لیبارٹری، ماڈل فش فارم کے قیام، ری سرکولیٹنگ ہیچری سسٹم، کنزیومر فش پروسیسنگ کی سہولت کے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔سیکرٹری جنگلات نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے محکمہ جنگلات کی 4 مجوزہ اسکیمات کے کانسپٹ پیپرز کلیئر کیے گئے ہیں۔ جن میں سلیمان رینج میں فوڈ سیکیورٹی کے لیے رینج لینڈز کی بہتری، مینگروز ریسرچ سینٹر کے قیام اور وادی شعبان میں ایکو ٹورزم کی ترقی کے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ڈی جی بی سی ڈی اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان کوسٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تین اسکیمات تجویز کی گئی ہیں۔ گڈانی میں سلپ وے کی تعمیر اور ٹواریسٹ سائٹس کی ڈیویلپمنٹ کے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر ہدایت کی کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ماحولیات سے متعلق منصوبے تیار کئے جائیں۔وزیراعلی نے بعض تجویز کیے گئے منصوبوں کی لاگت کو دوبارہ جائزہ لینے کی بھی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ڈیمز کی بجائے کینالز پر کیج فارمنگ کے منصوبے تجویز کیے جائیں۔وزیراعلیٰ نے محکمہ فشریز کو ہدایت کی ہنگامی بنیادوں پر فش فیڈ ملز کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے اور ان فیکٹریوں کی فوری طور پر رجسٹریشن کا آغاز کیا جائے۔ اس کے علاوہ ماہی گیری کے شعبہ کی ترقی کیلئے فشنگ پالیسی مرتب کی جائے اور مچھلیوں کی پروسیسنگ کے لیے جدید مشینری کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز کے ساتھ باہمی اشتراک کے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ وہاں سے میرین سائنسز کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی خدمات سے استفادہ کرکے اس فشریز سیکٹر کو مزید ترقی دی جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے تمام جیٹیز کی فزیبلٹی اسٹیڈی کرانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ درختوں کے کٹاو¿ کی روک تھام کو یقینی بناتے ہوئے جنگلات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے انہوں نے ہدایت کی کہ تخت سلیمان پر ہائیکنگ ٹریک بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ فاریسٹری تھرو ڈرپ ایریگیشن کے کانسپٹ پر بھی کام کیا جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*