تازہ ترین

موجودہ صورتحال میں لانگ مارچ نا گزیر ہے،مولانا فضل الرحمن

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں فوج طلب کرنے کا مطالبہ مسترد کرتے ہیں اور الیکشن کمیشن آزادانہ الیکشن کی ذمے داری لے، موجودہ صورتحال میں لانگ مارچ نا گزیر ہے،تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہوں گی یہ پاکستان کی تاریخ کا انقلابی قدم ہو گا،25 جنوری کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہو گا جس میں 23 مارچ اور پانچ فروری کے حوالے سے انتظامی معاملات پر ایک نظر ڈالی جائے گی اور جو چیزیں مشاورت سے طے ہوں گی آپ کے سامنے لائی جائیں گی۔ بدھ کو حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پھر سے متحرک ہوگئی اس ضمن میں اسلام آباد میں تحریک کے دو اہم رہنماؤں مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کی ملاقات ہوئی ہے جس میں ملک کی سیاسی صورتحال مختلف امورپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کامیابی پر مولانا فضل الرحمن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج ہماری پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔انہوں نے کہا کہ آج ہم نے تمام جماعتوں کی مشارت سے فیصلہ کیا کہ پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس 25 جنوری کے آس پاس بلایا جائے جس میں 23مارچ کو اعلان کردہ پی ڈی ایم کے مہنگائی مارچ کے ساتھ ساتھ تنظیمی امور پر گفتگو ہو گی اور ملکی صورتحال پر بھی مشاورت ہو گی۔انہوں نے کہاکہ منی بجٹ کے حوالے سے مہنگائی کا نیا طوفان آنے والا ہے اس پر بھی ہماری گفتگو ہوئی ہے اور ایوان میں اپوزیشن مل کر اس کا ہر ممکن مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے لیکن اب پاکستان 74سال میں اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، معاشی چیلنجز ہوں، خارجی مسائل ہوں اور گورننس کے مسائل موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے 74سال میں تحریک انصاف سے زیادہ نااہل، نالائق اور کرپٹ حکومت نہیں دیکھی جس نے پاکستان کے 22کروڑ عوام کو تباہ حال کردیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ تمام آئینی، قانونی اور سیاسی ہتھیاروں کو استعمال کیا جائے۔اس موقع پر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس وقت جو منی بجٹ پیش کیا جا رہا ہے اس سے مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا ہو گا، تعجب کی بات یہ ہے کہ جس حکومت کو اپنے عام غریب آدمی کا احساس نہیں اور ان کو بین الاقوامی اداروں کا مفاد عزیز ہے کیونکہ ان کے مفاد اور دباؤ پر قانون سازی کی جا رہی ہے لہٰذا ایسی صورتحال میں 23مارچ کا لانگ مارچ اور بھی زیادہ ناگزیر ہو گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اب عوام براہ راست اپنے حق کی جنگ لڑے گی، پی ڈی ایم اس کی قیادت کرتے ہوئے ان کی آواز بنے گی، تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہوں گی اور یہ پاکستان کی تاریخ کا انقلابی قدم ہو گا۔انہوں نے حکومت پر سی پیک کو تباہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان میں جو بھاری سرمایہ کررہا تھا، اس کو انہوں نے جس طرح جمود کی طرف دھکیلا ہے اس پر ہم اس حکومت کو اس منصوبے کے کسی حصے کے افتتاح کی حقدار نہیں سمجھتے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 25 جنوری کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہو گا جس میں 23 مارچ اور پانچ فروری کے حوالے سے انتظامی معاملات پر ایک نظر ڈالی جائے گی اور جو چیزیں مشاورت سے طے ہوں گی آپ کے سامنے لائی جائیں گی انہوں نے واضح کیا کہ ہم اس بات پر بھی غور کررہے ہیں کہ اس حکومت کو فوری طور پر رخصت کرنے کے کیا کیا آپشنز ہو سکتے ہیں، پی ڈی ایم کے اجلاس میں اس پر بھی غور کیا جائے گا تاکہ حجت تمام ہو جائے۔انہوں نے کہاکہ ہم سیاسی جماعتوں اور حکومت کی اتحادی جماعتوں سے بھی کہنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے بہت امید کے ساتھ اس حکومت کو بنانے کے لیے اتحاد کیا تھا لیکن انہیں اعتراف کر لینا چاہیے کہ وہ اتحاد قوم کے فائدے میں ثابت نہیں ہوا، ہم ان سے بھی کہتے ہیں کہ وہ ملک کے عوام اور غریب آدمی کے لیے سوچیں۔پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ اس وقت منی بجٹ یا اسٹیٹ بینک کو اختیارات دینے کے نام پر اسے بے اختیار اور آئی ایم ایف سے وابستہ کیا جا رہا ہے، یہ تو ایک آزاد ریاست پاکستان کو دوبارہ کالونی بنانے کی طرف جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان اور ان کی حکومت کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ ایک آزاد ریاست کو دوبارہ کالونی بنائیں اور ہمیں غیرملکی اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔انہوں نے کہاکہ ہم اپنی معیشت کو آزاد رکھنا چاہتے ہیں، ہماری محنتی قوم ملک معیشت میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے لیکن قیادت بھی اس کی اہل ہونی چاہیے کہ وہ عوام کی امنگوں پر پورا اتر سکے۔ایک سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ مولانا سے تحریک عدم اعتماد کی بات کی ہے اور یہی طے پایا ہے کہ پی ڈی ایم کے اگلے سربراہی اجلاس میں اس پر بطور ایجنڈا بات ہو گی، اس کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ایک اور سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جن اداروں سے ہمیں شکایت تھی کہ ان کی مداخلت سے 2018 کا الیکشن قبول نہیں کیا جا سکا اور نالائق اور ناجائز حکومت کو تسلیم نہ کرنے کی جب بات ہو رہی تھی تو ادارے بھی تنقید کی زد میں آ رہے تھے جو ملک کی سیاست کے لیے کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں کسی پولنگ اسٹیشن پر کوئی ادارہ نظر نہیں آیا تو آپ نے دیکھا کہ اس کے کیا نتائج سامنے آئے ہیں، ہم آگے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ ادارے کی عزت ان کے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کردار ادا کرنے میں ہے اور ہم ان سے یہی توقع رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر عام انتخابات میں بھی یہی روایت مستحکم اور مددگار ہو گئی تو آپ دیکھیں گے ملکی سیاست اور انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے۔جمعیت علمائے اسلام(ف) کے قائد نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے فوج کو طلب کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہیں اور الیکشن کمیشن غلام مت بنے، وہ آزادانہ الیکشن کی ذمے داری لے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت بھی خیبر پختونخوا میں انتظامی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں، ڈپٹی کمشنر، پریذائیڈنگ آفیسرز کو تبدیل کیا جا رہا ہے، تحصیل کی سطح پر، اسسٹنٹ کمشنرز اور پولیس افسران کے عہدوں پر نئے نئے لوگوں کو ایمرجنسی میں تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جا سکیں۔انہوں نے کہاکہ اس کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سخت مزاحمت کی جائے گی لہٰذا الیکشن کمیشن اپنے آپ کو متنازع نہ بنائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*