تازہ ترین

موجودہ حکومت میں جو ہو رہا ہے اس کو فری ہینڈ نہیں دے سکتے، جام کمال

کوئٹہ (این این آئی) سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ موجودہ حکومت میں جو ہورہاہے اس کو بھی اتنافری ہینڈ نہیں دیں گے موجودہ وزیراعلی اور وزراء کاتعلق بی اے پی سے ہے انہیں پارٹی کے ممبر کے طورپر ذمہ داری پوراکرناہے پارٹی کے اراکین اور عہدیداروں کے علاقوں میں کاموں کو بند کیاجانا غیر مناسب ہے، صوبے میں فیصلے وزیراعلیٰ قدوس بزنجو اور حزب اختلاف کے چند ممبرز کر رہے ہیں جو بھی غلط ہوگا اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ وزیر اعلیٰ اور چند ممبرزپر عائد ہوگی ریکوڈک کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، میرے دور میں ریکوڈک پر 10فیصد منافع کی رقم صوبے کو دینے کی باتیں درست نہیں ہیں،یہ بات انہوں نے بدھ کو بلوچستان اسمبلی میں صحافیوں کے ایک وفد اور بلوچستان عوامی پارٹی کے دفتر میں پارٹی رہنماوں اور کارکنوں کی کارنر میٹنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی سابق وزیر اعلی نے کہا کہ تین چار ماہ کے عرصہ کے دوران ہم نے بہت کچھ سیکھاہے ہم پہلے بھی بلوچستان عوامی پارٹی کے قریب تھے جس طرح آج ہیں، وزیراعلی بننے کے بعد کوشش تھی کہ جو ذمہ داری دی گئی اسے پورا کیا جائے میں اس بات کاقائل نہیں رہاکہ ایک شخص وزیراعلی بھی ہو اور پارٹی کاصدربھی ہو دونوں عہدوں کو ساتھ ساتھ چلانابہت مشکل کام ہے سابق وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ آج بھی بی اے پی کاکارکن کہیں جاتاہے تو وہ وہاں اسکول،سڑک اورڈیم بننے کا کریڈٹ ضرورلیتاہے،جام کمال نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اپنے منشور پر قائم ہے ہم چاہتے ہیں بی اے پی مزیدمنظم ہو،پارٹی میں اور اچھے لوگ آئیں گے مفاد پرست لوگوں کو پارٹی سے جاناچاہئے،جام کمال نے کہا کہ ہم پارٹی کے الیکشن کرائیں گے بلدیاتی اور آئندہ الیکشن میں بھی بھرپور حصہ لیں گے، بلوچستان اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سالانہ ترقی فنڈز کا 70 فیصد سے بہت کم استعمال کیا ہے جو بھی فنڈز استعمال ہوئے ہیں وہ میری دور حکومت میں ہوئے ہیں خدشہ ہے پی ایس ڈی پی استعمال نہیں ہوگا یا جون میں تمام فنڈز جاری کر دئیے جائیں گے جو پیسے کا ضیاع ہے انہوں نے کہاکہ بلو چستان عوامی پارٹی میں عارف محمد حسنی سلیم کھوسو اور پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سردار رند ہمارے ہم خیال ہیں اسمبلی اراکین سمیت حکومتی اراکین بھی تضادات کا اظہارِ کرتے رہتے ہیں انہوں نے کہاکہ میری حکومت میں ریکوڈک پر 10 فیصد ڈیل کی باتوں میں صداقت نہیں ریکوڈک انتہائی اہم مسئلہ ہے اس لئے اس پر سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چائیے افسوس کی بات ہے کہ وزیراعلی بلو چستان میر عبد القدوس بزنجو بلوچستان کے اس اہم مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہیں ریکوڈک اور بلوچستان کے دیگر معدنیات کے حوالے سے ہم نے کمپنی بنائی تھی کمپنی بنانے کا مقصد بلوچستان کے عوا م کو اس وسائل کی آمدن میں شامل کرنا تھا انہوں نے کہاکہ وزیراعلی میر عبدالقدوس بزنجو کی حکومت کے فیصلوں اور پالیسیوں کی ہم تائید نہیں کر سکتے اس وقت حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ترقیاتی عمل رک چکا ہے حکومتی مشینی جام ہو چکی ہے حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے میں اور میرے رفقا نے ان کے فیصلوں سے اپنے آپ کو الگ کر رکھا ہے انہوں نے کہاکہ سارے فیصلے قدوس بزنجو اور حزب اختلاف کے چند ممبرز کر رہے ہیں جو بھی غلط ہوگا اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ وزیر اعلیٰ اور چند ممبرزپر عائد ہوگی ریکوڈک کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*