منی یا پری بجٹ

پروفیسر خالد محمود ہاشمی
بجٹ کی اولاد منی بجٹ کہلاتی ہے۔ کئی عشروں سے بجٹ کثیرالاولاد ہو چکا ہے۔ نیا مولود منی بجٹ 140 ارب کے ٹیکسوں پر مشتمل ہے جو فلم انڈسٹری‘ ٹیکسٹ بکس‘ فریش گریجویشن‘ آئی پی پیز‘ رئیل اسٹیٹ‘ انوسٹمنٹ سکوک بانڈز پر استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ NTN آویزاں نہ کرنیوالے کاروباری افراد پر پانچ ہزار ٹیکس اکھٹا یا منہا کرنے میں ناکامی پر چالیس ہزار یا ٹیکس رقم کا دس فیصد جرمانہ ہوگا۔ بجلی 1.40 روپے یونٹ فوری مہنگی کر دی گئی ہے۔ حکومت قیمت کے دس فیصد تک سرچارج لگا سکے گی۔ نیپرا آرڈی ننس کے تحت نیپرا کو بجلی کی قیمتوں کے تعین سے متعلق خودمختاری ملے گی۔ یکم جنوری 2022ءسے نئی آئل ریفائنری لگانے پر ٹیکس عائد ہوگا۔ ملکی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ شوگر سکینڈل سامنے لایا گیا ہے جس کیخلاف ادارے بھی پوری طرح متحرک ہیں۔ ایف بی آر نے شوگر ملوں کا فرانزک آڈٹ کرکے 81 شوگر ملوں سے 469 ارب روپے کی ٹیکس ڈیمانڈ تیار کرلی ہے۔ 20 شوگر ملیں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے سیاست دانوں کی ہیں۔ ایف آئی اے نے شوگر ملوں کی جانب سے سٹے کے ذریعے 110 ارب کی ناجائز منافع خوری اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ چینی کی ایکس مل قیمت 20 روپے تک بڑھائی۔ سٹہ بازی کی ناجائز کمائی کو چھپانے کیلئے سینکڑوں خفیہ اور جعلی اکاﺅنٹس کھولے گئے۔ رمضان المبارک میں چینی کی قیمتیں مزید بڑھانے کا ارادہ ہے۔ پاکستان کی خطے کے ملکوں کو برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 2021ءسال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران پاکستان کی افغانستان‘ چین‘ بنگلہ دیش‘ سری لنکا‘ بھارت‘ ایران‘ نیپال‘ بھوٹان اور مالدیب کو برآمدات کا حجم محض ایک ارب 17 کروڑ ڈالر رہ گیا ہے۔ جو گزشتہ سال اسی عرصہ کے دوران ایک ارب 50 کروڑ ڈالر تھا۔ ہمارے لئے امریکہ کے بعد افغانستان دوسری بڑی منڈی ہے۔ چین کے ساتھ بھی برآمدات میں کمی نوٹ کی گئی ہے۔ کرونا کے پھیلاﺅ کے باعث معاشی مشکلات کے ساتھ بیروزگاری کی شرح میں بھی خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی طلباءکا ایک قیمتی سال باقاعدہ تدریس کے بغیر ضائع ہو چکا ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہونے سے بچوں کا پڑھائی سے دھیان ہٹ گیا ہے۔ سارا دن گلیوں میں کھیل کود اور آوارگی ہے۔ بورڈ امتحانات کی حتمی تاریخ کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ پاکستان میں دو سال پہلے چینی کی قیمت میں اضافے سے عوام پر جو بوجھ پڑنا شروع ہوا تھا‘ تقریباً سوا سال پہلے وہ اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ تین سال قبل 45 روپے فی کلو میں فروخت ہونیوالی چینی کی قیمت 120 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ عوام کو درآمدی چینی سستے داموں فراہم کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ غیرمعیاری اور اس میں مٹھاس انتہائی کم تھی۔ ایک سال میں چینی کی قیمت کو 70 سے 90 روپے تک بڑھا دیا گیا۔ ایف آئی اے نے سو سے زائد چینی ڈیلروں کیخلاف ٹھوس شواہد حاصل کئے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو چینی مافیا نے جس طرح لوٹا ہے اسکے بعد معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ شوگر مافیا سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے‘ 140 ارب روپے کی انکم ٹیکس چھوٹ کے خاتمے اور سرکلر ڈیٹ پر قابو پانے کیلئے 150 ارب روپے کے ٹیکسوں کا حاصل جمع 290 ارب کی مہنگائی ہے۔ 65 فیصد نوجوان آبادی ملازمتوں کے مواقع کا خواب دیکھتی ہے۔ پیپلزپارٹی‘ ن لیگ اور مولانا کی جمعیت کا ابتدائی اختلاف تو اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے سے شروع ہوا۔ پی پی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی شدید مخالف تھی مگر مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے شدید حامی تھے۔ زرداری کی تقریر اور مریم کے شدید ردعمل سے اختلافات منظرعام پر آگئے۔ عوام پی ڈی ایم سے مزید مایوس ہو گئے۔ الیکشن اصلاحات پر اپوزیشن کو مل بیٹھنے کی دعوت دی گئی مگر وہ کرپشن کیسوں پر کوئی سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں۔ عمران خان‘ زرداری اور نوازشریف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ پیپلزپارٹی جو جمہوریت پسند اور اینٹی اسٹیبشلمنٹ جماعت کی حیثیت سے شہرت رکھتی تھی‘ زرداری کی قیادت میں مصلحت پسند جماعت کی حیثیت میں سامنے آئی ہے۔ شاید اسے ڈھیل اور ڈیل دونوں کی آفر ہوئی ہے۔ یوں پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی میں پہلے جیسی گرم جوشی نہیں رہی۔ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کا گزشتہ دو سال 2018-20ءمیں مجموعی خسارہ 429 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ سٹیٹ اون انٹرپرائزز کی تعداد 212 ہے جن میں 85 کمرشل‘ 44 نان کمرشل‘ 83 بیس ڈیز شامل ہیں۔ 212 حکومتی اداروں میں سے 197 ادارے نقصان میں چل رہے ہیں۔ انکے مجموعی قرضے 1085ءارب تک پہنچ گئے ہیں۔ نج کاری کی رفتار تانگے سے بھی سست ہے۔ 1990ءکی دہائی میں نجکاری اور فروخت کا عمل شروع ہوا اور 1991ءسے اب تک حکومت کے 173 اداروں کو فروخت کیا جا چکا ہے۔ بجٹ خسارہ 3.44 کھرب روپے کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ سٹیل ملز کو فروخت کرنے کی بجائے لیز پر دیا جائیگا۔ سٹیل ملز پر قرضوں کا بوجھ 480 ارب روپے ہے۔ پی آئی اے کا نقصان 157 ارب ہے۔ نجکاری کی بجائے اس کا بھی بحالی پروگرام زیرغور ہے۔ گردشی قرضے 2306 ارب روپے کی خطرناک حد تک پہنچ گئے ہیں۔ یوٹیلٹی کارپوریشن کو ملازمین نے پرچون کی ذاتی دکان بنا رکھا ہے۔ موسم کے آنے جانے کی طرح بجلی اور گیس چور ملازمین کے امیر تر بننے کی دکانیں ہیں۔ آمدن سے زائد اثاثے اسی طریقے سے وجود میں آتے ہیں۔ وزیر ایم ڈیز اور سیکرٹری آخر بے بس کیوں ہیں۔ سڑکوں پر بلیک میلنگ کیلئے ملازمین کے احتجاج سے ان کا دل بیٹھ جاتا ہے۔ احتجاجی جلوسوں کی باریاں لگی ہوئی ہیں۔ نابینا کے بعد ینگ ڈاکٹرز پھر ہیلتھ ورکرز انکے بعد سکول ٹیچرز پھر واپڈا ملازمین سڑکو ںپر آجاتے ہیں اور یہ سلسلہ کلاک کی طرح سارا سال چلتا رہتا ہے۔ بلدیاتی اداروں کی بحالی اور حکومت گیس صارفین پر ایک کھرب پانچ ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جارہا ہے۔ ان دنوں کراچی میں بجلی کے بعد گیس لوڈشیڈنگ کا بحران ہے۔ سی این جی اور صنعتی صارفین بھی مشکلات سے دوچار ہیں۔ ناقص ایل پی جی گیس سلنڈر استعمال ہو رہے ہیں۔ لوگ مہنگے داموں کوئلہ‘ لکڑی اور ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔ گیس پریشر بڑھانے کیلئے ملوں میں کمپریسر کا استعمال عام ہے۔ حکومتی دعوﺅں کے برعکس عوام کیلئے ریلیف کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا۔ پاکستان اب آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کر چکا ہے۔ بجلی کی قیمت میں اضافے کا مطلب ٹیکس نکال کر 36 فیصد اضافہ ہے۔ بانڈز پر نارمل دس فیصد انکم ٹیکس لگایا گیا ہے۔ رواں سال گندم کی پیداوار کا تخمینہ دو کروڑ ساٹھ لاکھ ٹن لگایا گیا تھا جو گزشتہ سال کی نسبت قریب دس لاکھ ٹن زیادہ ہے۔ حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت میں چار سو روپے فی من اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال کا حکومتی خریداری ٹارگٹ رواں سال سے دس لاکھ ٹن زیادہ تھا اور حکومت نے خریداری کی بھی‘ مگر باوجود اسکے گندم کا بحران شدت اختیار کرگیا اور باہر سے گندم منگوا کر طلب کو پورا کیا جاتا رہا۔ جو فائدہ ہم غیرملکی کاشت کاروں کو انکی پیداوار خرید کر پہنچاتے ہیں‘ وہ اپنے کاشت کاروں کو کیوں نہیں؟ سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی شطان مردود کی طرح تادیر چلتی رہیں گی‘ ٹیکس‘ بجلی‘ گیس چوری شیطان کے چیلوں کے کام ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*