منشیا ت کی فر و خت کیخلا ف سخت اقدا ما ت

گذشتہ رو ز بلوچستان اسمبلی میں ایک توجہ دلا ﺅ نو ٹس کا جو اب دیتے ہوئے صو بائی وزیر دا خلہ میر ضیا ءلا نگو نے وا ضح کیا کہ صو بے میں منشیا ت کی فر و خت کیخلا ف سخت اقد ام اٹھائے ہیں2020 ءسے 2021 ءاپریل تک کوئٹہ پو لیس نے منشیا ت کے کا رو با ر کرنے والے لو گو ں کے خلا ف 142 مقد ما ت در ج کئے ہیں جن میں 144 ملز ما ن گر فتا ر ہوئے منشیا ت کے کا رو با ر پر کوئی سمجھو تہ نہیں کیا جائے گا ہم اپنے مستقبل کے معما ر و ں کو محفو ظ رکھنا چا ہتے ہیں۔
صو بائی وزیر دا خلہ بلوچستان میر ضیا ءلا نگو کا منشیا ت کی فر و خت کیخلا ف سخت اقد ام اٹھانے کا مذکو رہ بیان قا بل تعر یف ہے کیو نکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ منشیا ت سے نو جو ان نسل تبا ہی کی جا نب جا رہی ہے جس سے ملک کا مستقبل دا ﺅ پر لگ رہا ہے کیو نکہ آگے چل کر ان ہی نو جو انوں نے ملک کی بھا گ دو ڑ سنبھا لنی ہے اگر وہ ہی نشے کی دھت میں لگ گئے تو پھر مستقبل تا ریک ہونے کا خد شہ ہے صو بائی وزیر دا خلہ میر ضیا ءلا نگو نے صو بائی اسمبلی میں اپنے خطا ب کے دو ران پو لیس کی جانب سے اس سلسلے میں کی جانے والی کا رو ائیوں کی تفصیل بھی بتا ئی ہے جو کہ ایک اچھی با ت ہے لیکن یہاں اس با ت کا ذکر کرنا از حد ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادا رو ں کو اس سلسلے میں اپنی کا ر کر د گی مز ید بہتر بنا نی ہوگی کیو نکہ اب بھی شہر میں منشیا ت کی فرو خت ہورہی ہے اور اسے نو جو ان نسل میں منتقل کیا جا رہا ہے جس کا ثبو ت صو بائی دا ر الحکو مت کا سٹی نا لہ اور ار د گر د کے علا قے ہیں جہاں سر عا م منشیا ت فر و خت اور سر عا م استعما ل کی جا رہی ہے جس کے باعث آئے رو ز لو گ اس سے مر تے بھی ہیں حالا نکہ انتظامیہ نے سٹی نالے میں متعد د با ر آپر یشن بھی کیا ہے لیکن یہ بے سو د رہا کیو نکہ ان کے کچھ دنو ں بعد ہی دو با رہ یہی لو گ نشہ کر نے میں مصر و ف نظر آتے ہیں لیکن یہاں ان منشیا ت کے عا دی لو گو ں کے خلا ف آپر یشن کرنا تو کسی حد تک ٹھیک ہے لیکن اصل آپر یشن تو ان لو گو ں کے خلا ف کرنا چا ہیئے جو یہ منشیا ت ان کو فر و خت کر تے ہیں کیو نکہ جب تک کسی بھی چیز کواس کی جڑ سے ختم نہیں کیا جا ئے گا وہ ختم نہیں ہو گی ہمیشہ پو دے کی جڑ یں کا ٹنے سے ہی مقصد حاصل ہو گا اس پو د ے کی شا خیں کاٹنے سے کچھ حا صل نہیں ہو گا ان افر اد کو نہ صر ف پکڑ ا جا نا چا ہیئے بلکہ کڑی سز ائیں بھی دینی چا ہئیں ۔
اس لیے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادا رو ں کو منشیا ت کے خاتمے کے لیے اس کے مین کر دا رو ں کو ختم کرنا چا ہیئے جو ان نو جوان نسل کو فر اہم کر تے ہیں اس سلسلے میں ان کو صحیح معنو ں میں آ پر یشن کرنا چا ہیئے اس کے سا تھ سا تھ حکومت کو نو جو ان نسل کو منشیا ت کا عا دی ہونے سے بچا نے کے لیے ملا زمتیں دینے کے بھی اقد اما ت کرنے چاہئیں کیو نکہ بے ر و ز گاری ہی نوجو ان نسل کو نشے کی جا نب را غب کر تی ہے اس سلسلے میں نو جو انوں کے وا لد ین اور رشتے دا روں کوبھی اہم کر دا ر ادا کرنا چا ہیئے اس طر ح اگر سب سٹیک ہو لڈ ر ز مل کر یہ کام کریں گے تو معا شر ے سے اس لعنت کا خاتمہ ممکن ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*