تازہ ترین

منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر عوام دشمن ہیں، عمران خان

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر عوام دشمن ہیں،ان کے خلاف سخت انتظامی کارروائی عمل لائی جائے،ان کھاد بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو مافیاز کے ساتھ مل کر مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں،چینی کے شعبے کے لیے متعارف کرائے گئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو کھاد کی صنعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے،اگر سندھ حکومت نے عوام دشمن مجرموں کے خلاف موثر اقدامات نہ کیے تو وفاقی حکومت مداخلت کر سکتی ہے۔ جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں گندم اور کھاد کے اسٹاک کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر عوام دشمن ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ان کے خلاف سخت انتظامی کارروائی عمل لائی جائے۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں اشیاءضروریہ کی کوئی قلت نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ان کھاد بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو مافیاز کے ساتھ مل کر مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔وزیراعظم کوبتایاگیاکہ 6.6 ملین میٹرک ٹن سرکاری گندم کا سٹاک دستیاب ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کسان دوست پالیسیاں متعارف کرائی ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ مافیا صارفین کے مفاد کا خیال رکھنے کے بجائے منافع خوری میں مصروف ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ کھاد کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کریک ڈاو¿ن اور قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے،وزیراعظم نے کہاکہ چینی کے شعبے کے لیے متعارف کرائے گئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو کھاد کی صنعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے،وزیراعظم نے کہاکہ اگر سندھ حکومت نے عوام دشمن مجرموں کے خلاف موثر اقدامات نہ کیے تو وفاقی حکومت مداخلت کر سکتی ہے۔دریں اثناءوزیراعظم عمران خان نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے اپنی معاشی ٹیم کو تاکید کی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستان کو کاروبار کرنے کے لیے آسانیاں پیدا کریں اورمزید مراعات دیں گے،ہم نے کبھی برآمدات پر توجہ نہیں دی،60 کی دہائی میں پاکستان کی برآمدات ہانگ کانگ کے برابر تھیں، آج پاکستان کی برآمدات کہاں ہیں،رواں برس ہماری برآمدات بلند ترین سطح پر ہوں گی ،اسٹیٹ بینک نے نیا پروگرام سوہنی دھرتی کے تحت فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے ،ہمارے سمندر پار پاکستانی بینکنگ چینل سے پیسے بھیجیں،ہم سمندر پار پاکستانیوں کو مزید اسکیمیں لائیں گے اور وہ رئیل اسٹیٹ پر خرچ کرتے ہیں تو ہم انہیں ٹیکس میں بھی چھوٹ دیں گے۔ جمعرات کو یہاں سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی برآمدات پر توجہ نہیں دی۔ انہوںنے کہاکہ 60 کی دہائی میں پاکستان کی برآمدات ہانگ کانگ کے برابر تھیں، آج پاکستان کی برآمدات کہاں ہیں اور ہانگ کانگ کی برآمدات غالباً 300 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ رواں برس ہماری برآمدات بلند ترین سطح پر ہوں گی تاہم اس کے باوجود آج سے 50، 60 سال پہلے جو دیگر معیشتیں ہمارے ساتھ چل رہی تھیں وہ کہاں پہنچی ہیں اور پاکستان کہاں ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کو برآمدات پر توجہ نہ دینے کا نقصان یہ ہوا کہ جیسے ہماری معیشت بڑھنے لگتی ہے تو درآمدات بڑھتی اور ہمارے کرنٹ اکاو¿نٹ پر دباو¿ بڑھنے لگتا ہے، یہی وجہ ہے پاکستان 20 دفعہ آئی ایم ایف کے پاس جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ہمیں اس لیے ضرورت پڑتی ہے کیونکہ ہمارے پاس ڈالرز کی کمی ہوتی، روپے پر دباو¿ آجاتا ہے اور قومی خزانے میں کمی ہوتی ہے اور ہم اسی سائیکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس سے نکلنے کے لیے راستہ ایک ہی ہے کہ برآمدات بڑھائی جائیں، جس کے لیے حکومت پوری کوشش کر رہی ہے تاہم ہماری برآمدات اس وقت بڑھیں گے جب ہماری صنعت ترقی کرے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے صنعتوں پر زور لگایا ہے اور کورونا کے باوجود لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں اضافہ ہوا اور مثبت سمت کی جانب گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک ہماری برآمدات نہیں بڑھتیں اور بدقسمتی درآمدات بہت زیادہ ہیں تو اس خلا کو صرف ایک ہی طریقے سے حل کرسکتے ہیں وہ ہمارے سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ایک طرف غیرملکی سرمایہ کاری بھی ہے لیکن اب ہماری حکومت کو مشکل میں مدد دی وہ ترسیلات زر ہیں، سمندر پار پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں۔سوہنی دھرتی منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے نیا پروگرام سوہنی دھرتی کے تحت فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے سمندر پار پاکستانی بینکنگ چینل سے پیسے بھیجیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ہمیں یہ بہت پہلے کردینا چاہیے تھا، افسوس ہے کہ ہم تین سال بعد یہ کر رہے ہیں، ہمیں حکومت میں آتے ساتھ ہی پہلے یہ پروگرام شروع کرلینا چاہیے تھا۔انہوںنے کہاکہ سمندر پاکستانی روشن ڈیجیٹل کے ذریعے گھر بھی خرید سکتے ہیں اور پراپرٹی بنا سکتے ہیں، بیرون ملک موجود پاکستانی زیادہ تر رئیل اسٹیٹ یا پلاٹس پر سرمایہ کاری کرتے ہیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ باہر کما کر پاکستان میں اپنا گھر بنائیں، اسی وجہ سے پراپرٹی میں سب سےزیادہ آمدنی آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ روشن ڈیجیٹل کے ذریعے براہ راست پلاٹس خرید سکتے ہیں اور اس طرح وہ جعلی اسکیموں پر خرچ کرکے دھوکا کھانے سے بچ جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم سمندر پار پاکستانیوں کو مزید اسکیمیں لائیں گے اور وہ رئیل اسٹیٹ پر خرچ کرتے ہیں تو ہم انہیں ٹیکس میں بھی چھوٹ دیں گے۔وزیراعظم نے مشیر خزانہ شوکت ترین اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو مبارک باد دیتے ہوئے تاکید کی کہ سمندر پار پاکستانیوں کو کاروبار میں شمولیت کے لیےآسانیاں پیدا کریں اور ان کے لیے مزید فائدہ مند پروگرام بنائیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*