ملازمین احتجاج ختم اور معاملات کمیٹی کے حوالے کر دیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ(خ ن) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ہمیشہ ملازمین کے لیے بہتر سوچا ہے لیکن ملازمین کی جانب سے اختیار کیا گیا حالیہ طریقہ انتہائی نامناسب ہے۔ سرکاری ملازمین ہوتے ہوئے چند لوگ جو ماضی میں بھی اس طرح کی حرکتوں سے جیلوں میں بند ہوئے ہیں۔ وہ آج پھر ایک محنت کش مظلوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ عالمی وباءکرونا کے بعد جن مالی مشکلات کا دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بلوچستان کو سامنا ہے اس سنگین صورتحال سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ ترقی اور باقی بجٹ معاملات کے حوالے سے چیلنجر کو حکومت بڑی مشکل سے حل کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ لگاتا ہے کہ کچھ عناصر چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں اقتصادی دباو¿ بڑھے اور ترقیاتی عمل رک جائے۔ جو کہ اس صوبے کے لیے بالکل ناگزیر ہے۔ لہذا سیکریٹریٹ کے ملازمین کچھ گمراہ لوگوں کی باتوں سے ہٹ کر اپنی نوکری اور ذمداریاں احسن انداز میں نبھانا شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو احتجاج اور اپنے مسائل کو بیان کرنے کا پورا موقع دیا گیا تاہم اس کو ایک سیاسی پلیٹ فارم بنا کر چند لوگوں نے خوب استعمال کیا ہے۔ عوام کی مشکلات، کورونا کا پھیلاو¿ اور خدانخواستہ کسی دہشت گردی کے خدشہ کے نتیجے میں ان سب ذمداران کے خلاف پوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کو یہ سرکاری ملازمتیں اور ذمداریاں اس لیے ملی ہیں کہ عوام کے معاملات حل ہوں نہ کہ عوام کے اہم معاملات اور مشکلات میں اضافہ ہو۔ لہذا ملازمین اب اس احتجاج کو ختم کریں اور معاملات کمیٹی کے حوالے کرکےااپنی نوکری عوام کی خاطر شروع کریں۔ وزیراعلی نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ آج کے بعد کی تمام تر ذمداریاں ان پر عائد ہونگی جنہوں نے اسٹیج پر اپنی تقریروں سے لوگوں کو اکسایا، غلط زبان استعمال کی، غلط بیانیہ پیش کیا اور اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر معاملات کو ہاتھ میں لیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*