تازہ ترین

معاشی اعتبار سے وطن عزیز تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہا ہے،صدرعارف علوی

کراچی (آئی این پی)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ معاشی اعتبار سے وطن عزیز اس وقت تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہا ہے اور موجودہ حکومت کو کرنٹ اکا¶نٹ خسارہ، بجٹ خسارہ اور گردشی قرضے ورثے میں ملے،محصولات کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے اور ترقیاتی کاموں کے لیے بہت ہی کم وسائل بچتے ہیں تاہم پچھلے مالیاتی سال کی نسبت درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی وجہ سے کرنٹ اکا¶نٹ خسارے میں خاطرخواہ کمی ہوئی ہے۔ان خیا لات کا اظہارصدرر مملکت نے بزنس مین گروپ کے جنرل سیکٹری اے کیو خلیل اور کراچی چیمبر کے قائمقام صدر خرم شہزاد سے ملاقات میں کیا۔صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے اور ہمارے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آرہی ہے ۔ فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ و دیگر ڈونر ایجنسیاں موجودہ حکومت کی جانب سے اُٹھائے گئے تمام تراقدامات اور سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی موئثرحکمت عملی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جن کی بدولت ملک بھر میں ٹیکس گزاروں کی تعداد میںبہتری آئی ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ آنے والے دنوں میں سیلز ٹیکس کے رجسٹرڈ افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ جیسا کہ پچھلے دو ماہ کے دوران ریونیو میں بہتر ی آئی ہے لہذا توقع ہے کہ ایف بی آر اور وزارت خزانہ خسارے کو کم کرنے کے لئے کوئی منی بجٹ یا اضافی ٹیکس نافذ کرنے سے گریز کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے قابل ستائش کردار ادا کر رہی ہے جسے ہم بے حد سراہتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ تاجر وصنعتکار برادری مثبت امیج اور پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقعوں کو فروغ دینے کے لئے اپنی کوششیں اسی جذبے اور گرم جوشی سے جاری رکھیں گے جس سے یقینی طور پر زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے یقین دہانی کراوئی کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں حکومت پر زور دیا جائے گا کہ تاجر برادری کے نمائندوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے۔ یہ تاجر برادری ہی ہے جو نہ صرف معاشی ترقی بلکہ دیگر شعبوں بالخصوص صحت و تعلیم کے شعبوں کی ترقی میںاہم کرادار ادا کررہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دیگر شعبوں کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بھی تاجر برادری اسی قسم کا کردار ادا کرے گی۔اس موقع پرجنرل سیکرٹری بی ایم جی اے کیو خلیل نے مجموعی معاشی صورتحال پرتبادلہ خیال کرنے کے ساتھ ساتھ کراچی کی شہری حکومت کی ناقص کارکردگی، کچرے کے مسئلے، ابتر انفراسٹرکچر اور وفاقی حکومت کی جانب سے 162ارب روپے کے کراچی پیکیج پر بھی گفتوشنید کی۔ اے کیو خلیل نے کہا کہ ان دنوں ایس ایس جی سی کی جانب سے صنعتوں کو مناسب پریشر پر گیس فراہم نہیں کی جارہی جس کی وجہ سے کئی انڈسٹریل یونٹس کی پیداواری صلاحیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے صدر پاکستان سے درخواست کی کہ وہ ایس ایس جی سی کی انتظامیہ کے ساتھ اس مسئلے کواُٹھائیں جبکہ کے الیکٹرک سے بھی ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ یوٹیلیٹی سروس فراہم کرنے والے اس ادارے کے لئے مناسب ضابطہ اخلاق کو تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے حتمی شکل دی جاسکے جس سے یقینی طور پر بجلی سے متعلق مسائل حل ہو سکیں گے جنہیں کراچی والے ہر روز ہی بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ ملک میں فائلرز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ حکومت نے بغیر کوئی ڈیڈ لائن دیئے عوام الناس کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کسی بھی وقت اپنے ریٹرن جمع کرائیں۔ دیگر مسائل بھی اسی جذبے اور نیک نیتی سے نمٹانے کی ضرورت ہے جبکہ حکومت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی پالیسیاں تفصیل سے سمجھائے اور ساتھ ہی عوام کو درپیش مشکلات کو بھی حل کرے جس سے یقینی طور پر حکومتی پالیسیوں کو کامیاب بنانے میں مدد ملے گی۔رواں مالی سال کے بجٹ اہداف کا حوالہ دیتے ہوئے اے کیو خلیل نے کہا کہ لمحہ فکریہ ہے کہ حکومت اہداف سے دور ہوتی جارہی ہے۔ بنیادی خسارے کو جی ڈی پی کا 1.8فیصد سے کم کرکے رواںمالی سال میں جی ڈی پی کا 0.6فیصد پر لانا ہے لیکن یہ خسارہ نیچے آنے کے بجائے 3.6فیصد تک جا پہنچا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی خسارے کو جی ڈی پی کے 0.6فیصد تک کم کرنے کے لیے 1300ارب روپے کو بڑے پیمانے پر ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔ ہمیں ڈر ہے کہ یہ ایک اور منی بجٹ یا اضافی ٹیکسوں کے نفاذکے ذریعے پورا کیا جائے گا تاکہ آئی ایم ایف کے شرائط کو پورا کیا جاسکے لیکن تاجر برادری نہ ذہنی اور نہ ہی عملی طور پر اس کے لئے تیار ہے کیونکہ صنعتوں کا پہیا پہلے ہی سست روی کاشکار ہے اور اب بھی ہمیں کافی تحفظات ہیں۔انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ایف بی آر میں متعارف کی گئی اصلاحات میں تیزی لائی جائے جبکہ اس ادارے سے ٹیکسیشن پالیسیاں مرتب کرنے کا اختیارمکمل طور پر لے کر اسے صرف ٹیکس وصولی تک محدود رکھا جائے۔انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ پچھلے چار سالوں کے دوران بین الاقوامی براہ راست سرمایہ کاری نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس پر حکومت کی جانب سے خاص توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے جبکہ بورڈ آف انویسٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں پر زور دیا جائے کہ وہ ایسی موئثر حکمت عملی وضع کریں جس سے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہو۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*