تازہ ترین

مشیر خزانہ کا سند ھ اور بلوچستان میں آٹے کی قیمتو ں میں اضا فے پر اظہا ر تشویش

ملک بھر میں جس طرح عا م اشیا ءخو ر د ونو ش کی قیمتیں بہت زیا دہ ہیں وہاں آٹا جو ہر انسا ن کی بنیا د ری ضر ور ت ہے چا ہے وہ امیر ہو غر یب لیکن افسو س کی با ت یہ ہے کہ اس کی قیمتو ں میں بھی رو زانہ کی بنیا د پر مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے جو کہ قا بل مذمت اقد ام ہے کیو نکہ مو جو دہ حکومت کی مہنگائی کے با رے میں پا لیسی اب تک عو ام کی سمجھ میں نہیں آسکی ہے اس کے دو ر حکومت میں مہنگائی ملک کی تا ریخی سطح پر پہنچ گئی ہے ہر رو ز ایک نئی چیز میں اضا فے کی خبر آتی ہے پھر وزیر اعظم عمر ان خان اس کانو ٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس با رے اقد اما ت کر نے کا کہتے ہیں لیکن حیر ت کی با ت یہ ہے کہ اس پر کوئی عمل در آمد نہیں ہو تا بلکہ اگلے دنوں ا س میں مز ید اضا فہ ہو جا تا ہے اور پھر اس کا ذمہ دار تاجر و ں اور منا فع خو ر ما فیا کو قر ار دے کر اپنی جا ن چھڑ ا لی جا تی ہے جو یقینا مہنگائی کی چکی میں پستی ہوئی غر یب عو ام کے سا تھ ایک بڑ ی زیا د تی کے متر ادف اقد ام ہے۔
اسی طرح گذشتہ رو ز وفا قی حکومت کی جا نب سے سند ھ اور بلوچستان میں اضا فے پر تشو یش کا اظہا ر کیا ہے مشیر خزانہ شو کت تر ین کابیان بھی حسب رو ایت مہنگائی کے سلسلے میں دیئے جانے والے اس سے پہلے بیا نا ت کا تسلسل لگتا ہے انہوں نے اس اہم معا ملے میں اپنے آپ کو نکا لتے ہوئے سند ھ اور بلوچستان کی حکومتوں سے اس با رے با ز پر س کر رہے ہیں جو کہ قا بل تشو یش با ت ہے ان کو اپنے منصب کا خیا ل رکھتے ہوئے اس اہم معاملے کو دوسرو ں پر ڈالنے کی بجا ئے خو دہینڈل کرنا چا ہیئے۔
یہاں اس با ت کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ گند م پاکستان کی پید اوار ہے جو اس میں خو د کفیل ہے لیکن اس کے با وجو د رو ز بر و ز پاکستان میں آٹے کی قیمتو ں میں مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے جوکہ حکومت کے لیے ایک بہت بڑ ا لمحہ فکریہ ہے پاکستان میں آٹے کی قلت کا ایک بڑ ا سبب بڑ ے پیما نے پر اسمگلنگ بھی ہے یہاں سے افغانستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک میں بڑ ے پیما نے آٹا سمگلنگ کیا جا تا ہے جس میں آٹا ما فیا ز اور ذخیر ہ اند وز بر ابر کے شر یک ہیں یہ سب کچھ حکومت کے نا ک کے نیچے ہو رہا ہے لیکن اس کی رو ک تھا م کے لیے کوئی خاطر خواہ اقد اما ت نہیں کئے جا رہے اس طرح آٹا ما فیا ز اور ذخیر ہ اند و ز اپنی تجو ریاں بھر نے کے لیے غر یب عو ام کے لیے آٹے کی قلت پید ا کر رہے ہیں لیکن حکومت اور متعلقہ ادا رے اس جا نب کوئی توجہ نہیں دے رہی اس نے ان کو اس سلسلے میں کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ آٹے کی قیمتو ں میں مسلسل اضا فہ کر کے عو ام کو دونوں ہا تھو ں سے بے در دی کے سا تھ لو ٹیں۔
اس لیے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ وفا قی اور صوبائی حکومتو ںکو اس کا نو ٹس لے کر اس کی روک تھام کے لیے اقد اما ت کر نے چاہئیں ان کو اس اہم معاملے کو ایک دوسر ے پر ڈالنے کی بجا ئے سنجید گی کا مظا ہر ہ کر تے ہوئے حل کرنا چا ہیئے تا کہ غر یب عو ام اور کچھ نہیں کم از کم دو وقت کی سو کھی رو ٹی کو کھا سکیں ان کو یہ حق دینا ریا ست کی ذمہ دا ری ہے جسے اس کو ہر صو ر ت میں پو را کرنا چا ہیئے اس طر ح آٹے کے سا تھ سا تھ دیگر اشیائے خور دنی کی قیمتو ں میں بھی کمی کرکے عو ام کو ریلیف دینے کے اقد اما ت کرنے چاہئیں جو کہ اب تک وہ نہیں دے سکی جو کہ اس کی نا کا می ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*