تازہ ترین

مسیحا ﺅں کی ہڑ تا ل مر یض رل گئے

یہ امر حقیقت پر مبنی ہے کہ ڈاکٹر ایک مسیحا کا درجہ رکھتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہما رے ہاں یہ مسیحا کہلا نے کے لائق نہیں کیونکہ یہ اپنے پیشے کو کیش کر تے ہیںیہ مر یضو ں کو دو نو ں ہاتھو ں سے لو ٹتے ہیں وہاں وہ حکومت کی جا نب سے غریب عو ام کو سر کا ری ہسپتا لو ں میں دی جا نے والی او پی ڈیز کااکثر با ئیکا ٹ کر دیتے ہیں ان میں اکثر ینگ ڈا کٹر ز پیش پیش رہتے ہیں انہوں نے اب آپر یشن تھیٹر و ں کا بھی بائیکا ٹ کر دیا ہے عو ام سے اس سہو لت کو بھی چھین لیتے ہیں او ر وہ علا ج کے لیے شد ید پر یشانی سے دو چا رہو جا تے ہیں جو کہ ان کے سا تھ بہت بڑی زیا د تی کے متر ادف اقدام ہے عوام سر کا ری او پی ڈیز میںحکومت کی جا نب سے دی گئی سہو لت سے فا ئد ہ حاصل کر تے ہیں کیونکہ وہ پرائیو یٹ کلینکس اور ہسپتا لو ں کی بھاری بھر فیسیں ادا نہیں کر سکتے لیکن ہڑ تا ل کر نے والے ڈا کٹر ز ان کو مجبو ر کر تے ہیں کہ وہ پر ائیو یٹ کلینکس اور ہسپتا لو ں سے علا ج کروائیں اس سے یہ اند ازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ شا ید ان کی آپس میں کوئی ملی بھگت ہے یا پھر یہ ڈاکٹر ز پر ائیو یٹ کلینکس اور ہسپتا ل والوں کے ساتھ ملکر ایک سا ز ش کے تحت یہ سب کچھ کر رہے ہیں تاکہ ان کا کا رو با ر اچھا چل سکے دوسر ی جا نب ایک خبر کے مطا بق پیر ا میڈ یکس سٹا ف نے بھی ینگ ڈا کٹر ز کی ہڑ تا ل کی حما یت کا اعلان کر دیا ہے جو کہ بلا شبہ قا بل مذمت اقد ام ہے کیونکہ یہ اہم شعبے ہیں ان کا اس طر ح ہڑ تا ل کرنا کسی بھی طر ح صحیح اقد ام نہیں ہے کیونکہ یہ عو ام کی زند گیوں کا سو ال ہے جس پر یہ عنا صر اپنی سیا ست چمکا رہے ہیں ینگ ڈا کٹر ز کے سا تھ سا تھ پیر ا میڈ یکس سٹا ف کا او پی ڈیز اور آپر یشن تھیڑ ز کے بائیکا ٹ کافیصلہ قابل مذمت ہے معا شر ے کے ان اہم اور ذمہ دارو ں کی یہ حر کت کسی بھی طر ح صحیح اقد ام نہیں ہے اگر ان کو حکومت کی جا نب سے کچھ مسائل در پیش ہیں تو اس کا حل ہڑ تا ل نہیں ہو تا بلکہ یہ مسائل حل بیٹھ کر حل کرنے چاہئیں صحت کا شعبہ انتہائی اہم ہے اس میں اپنی ذا تی مفادات کی خا طر انسا نی جا نو ں سے کھیلنے کی اجا ز ت کسی کو بھی نہیں ہو نی چا ہیئے۔
اس لیے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادا رو ں کو ینگ ڈا کٹر ز اور پیر ا میڈ یکس سٹا ف کی ہڑتال کا فو ری طو ر پر نو ٹس لیتے ہوئے ان کے جو مسائل اور تحفظا ت ہیں ان کامل بیٹھ کر حل نکا لنا چا ہیئے حکومت ینگ ڈاکٹر ز اور پیر امیڈ یکس سٹا ف کی آپس کی لڑ ائی میں عو ام کا اس طرح پسنا اور ان کا نقصان کرنا کسی بھی طر ح ٹھیک نہیں ہے اس لیے اس کا حل نکا لنا چا ہیئے اور اس سلسلے میں حکومت اور متعلقہ ادا روں کو ڈاکٹر ز اور پیر امیڈ یکس سٹا ف کو اس با ت کی پا بند بنا نا چا ہیئے کہ وہ آئند ہ ہر ایشو پر ہڑ تا ل جیسا انتہائی قدم نہیں اٹھا نا چا ہیئے کیونکہ انہوں نے ہڑ تا ل کو ایک مذاق سمجھ رکھا ہے جو کہ ٹھیک نہیں ہے۔
امید ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کمال خان جو صو بے کے چیف ایگز یکٹو ہیں وہ اس اہم مسئلے کا نو ٹس لیتے ہوئے اس کو مستقل بنیا دو ں پر حل کر یں گے تا کہ غر یب عو ام کو علاج کی سہو لتیں وا پس مل سکیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*