تازہ ترین

مسلم امہ کا غبارہ پھٹ چکا ،پاکستان کو او آئی سی سے نکل جانا چاہیے ،اپوزیشن اراکین سینیٹ

اسلا م آ باد ( نیوز ایجنسیاں ) ایوان بالا میں اپوزیشن اراکین سینیٹ نے کہا ہے کہ مودی ہندوستان کو ہندوتوا بنانا چاہتا ہے،مودی کی اس قدم سے انڈیا کشمیر ایشو پر دنیا بھر میں بدنام ہوا ہے، آج جو صورتحال کشمیر میں ہے اس پر ہمالیہ رو رہا ہے، پاکستان مسلم امہ کےلئے ہمیشہ کھڑا ہوا ہے، جب پاکستان پر مشکل آئی تو مسلم امہ خاموش رہتی ہیں، معاشی مفاد کی خاطر ان ممالک نے انسانی حقوق کا سودا کرلیا ہے ،او آئی سی کا بھارت کے خلاف ایک بیان تک نہیں آیا کہ بھارت کشمیر کے اندر جارح ہے ، کشمیر آسان اور جلد حل ممکن نہیں ہے، اب کشمیر میں فلسطین کی صورتحال بن گئی ہے،مسلم امہ کا غبارہ پھٹ چکا ہے، پاکستان کو اب او آ ئی سی سے نکل جانا چاہیے،پاکستان کی آج تک ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے عالمی طاقتوں کے کوریڈور میں کوئی اثر نہیں ہے، ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا حصہ بنا کر ثالثی کی تھی، ایسی ثالثی ہم نہیں چاہتے،کشمیر کو معاہدے کے تحت مودی کے حوالے کیا گیا ہے ورنہ مودی میں ہمت نہیں ہے،وزیراعظم نے کہا تھا کہ مودی آئیگا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا،ہم مگر مچھ کے آنسو رو رہے ہیں کہ شاید بھارت نے غیر قانونی طریقے سے کشمیر کا آئین بدلا،وزیراعظم کو امریکہ بلایا گیا تھا کہ کشمیر پر فیصلہ ہو گیا ہے آکر سن لو،بہتر ہے کہ ٹیپو سلطان کی مثال دینے والے جرات کریں،عملی طور پر کشمیر کے لیے اقدامات اٹھانے ہونگے،آصف زرداری اور نواز شریف سمیت تمام سیاستدانوں کو رہا کرکے اتحاد کا پیغام جانا چاہیے،کشمیر پر کشمیریوں کےلئے حق ملکیت اور حاکمیت ہونا چاہیے، کشمیریوں کا خود مختار کشمیر ہونا چاہیے، مودی انسان نہیں ہے جانور ہے، سب سے بڑا دہشت گرد ہے، تقریروں کاوقت ختم ہو گیا ہے اب عمل کا وقت ہے، مودی کا سیاسی سر کچلنا چاہیے، اگر اقوام متحدہ کشمیر میں قتل عام بند نہیں کرا سکتا تو اس کو بند کردینا چاہیے، مودی کو انسانی حقوق کمیشن اور عالمی عدالت انصاف میں چارج شیٹ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار سینیٹر رضا ربانی ، مشاہد حسین سید، مولانا عبد الغفور حیدری ، رحمن ملک ، عثمان کاکٹر و دیگر نے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ پیش رفت کے حوالے سے تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا جبکہ حکومتی رکن سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کی تین جنگیں ہوئیں، سارے وسائل جنگوں میں لگے، ظلم کے باوجود کشمیریوں نے تحریک جاری رکھی ہے، 25 دن سے کشمیر میں کرفیو ہے، پاکستان کی فضائی حدود بھارت کےلئے بند کیا جائے اور افغانستان کےلئے ٹرانزٹ ٹریڈ روٹ بند کیا جائے۔جمعہ کو ایوان بالا کا اجلاس چئیرمین سینیٹ صادق سانجرانی کی صدارت میں ہوا۔ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ پیش رفت کے حوالے سے تحریک پر بحث دوسرے روز بھی جاری رہی۔ سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاکہ آرمی پبلک سکول کے سانحے پر پوری قوم پاک فوج اور حکومت ایک پیج پر تھے،جب سے کشمیر کا مسئلہ سامنے آیا تمام جماعتیں ایک ساتھ ہیں،بہت سارے مسائل میں ہم حالت جنگ میں ہیں،مشترکہ اجلاس میں ہم ہر رائے میں ایک ساتھ ہیں،مگر تمام اتفاقات کے باوجود اپوزیشن اپوزیشن اور حکومت حکومت ہے،بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جس میں اپوزیشن کا اختلاف ہوتا ہے،مشترکہ اجلاس سے کوئی مثبت پیغام نہیں گیا،مشترکہ اجلاس میں ایسی تقریریں کوئی جیسے الیکشن میں ہوتی ہیں،مودی الیکشن کشمیر پر لڑا پاکستان میں بھی بعض پارٹیاں کشمیر پر الیکشن لڑیں،مودی نے کہا تھا کہ میں الیکشن جیتا تو کشمیر کے آئین میں ترمیم کرونگا،وزیراعظم پاکستان نے کہا تھا کہ مودی آئیگا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا،عمران خان نے کہا تھا کہ کشمیر کا بہترین حل تین حصوں میں تقسیم ہے،ہم مگر مچھ نے آنسو رو رہے ہیں کہ شاید بھارت نے غیر قانونی طریقے سے کشمیر کا آئین بدلہ،وزیراعظم امریکہ گئے تو حکومتی ارکان نے کہا وزیراعظم کا اہم دورہ ہے،وزیراعظم کو بلایا گیا تھا کہ کشمیر پر فیصلہ ہو گیا ہے آکر سن لو،کہتے ہیں دورہ کامیاب ہو گیا ہے، شبلی فراز نے بھی بغلیں بجائیں،ٹرمپ کی بیوی سے وزیراعظم نے ہاتھ ملایا اور تصویریں کھینچوائیں،کشمیر میں خواتین کی عصمت دری جاری ہے اور بچے بلک رہے ہیں،ہندو معصوم لوگوں کو قتل عام کر رہے ہیں اور ہم 30 منٹ کا افسوس کر کے گھر چلے جائینگے،آپ کہتے ہیں ہم نے تین جنگیں لڑیں،زرا بتا دیں حاصل کیا کیا۔1965کی جنگ میں لوگ ٹینکوں کے نیچے لیٹے،وزیراعظم سے کوئی بات کرو تو کہتے ہیں کہ کیا کروں جنگ لڑوں،بہتر ہے کہ ٹیپو سلطان کی مثال دینے والے جرات کریں،مودی نے اپنے منشور پر عملدرآمد کیا،بھارتی کہہ رہے ہیں کہ اب مظفرآباد کی خیر مناو¿،عملی طور پر کشمیر کے لیے اقدامات اٹھانے ہونگے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ مودی نے جو کشمیر کا جغرافیہ تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔اس پر ہندوستان میں بڑی تقسیم ہے۔مودی ہندوستان کو ہندوتوا بنانا چاہتا ہے۔کانگرس سمیت بہت سی سیاسی جماعتیں مودی کی سوچ کے خلاف ہیں۔ارون دھتی رائے لکھتی ہیں اب تو کشمیر سے کالونیلزم کی جھلک آ رہی ہے۔کشمیر کمیٹی پر ہم حزب اختلاف نے بہت کام کیا ہے۔ہم نے دنیا کو لکھ کر بھیجا ہے کشمیر پر ظلم کی انتہا کی جا رہی ہے۔مودی کی اس موو سے انڈیا کشمیر ایشو پر دنیا بھر میں بدنام ہوا ہے۔ہمیں اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے۔پارلیمنٹ کے تمام ممبران علی وزیر، محسن داوڑ سمیت کو اجلاس میں شریک ہونا چاہیے۔آصف زرداری اور نواز شریف سمیت تمام سیاستدانوں کو رہا کرکے اتحاد کا پیغام جانا چاہیے۔ہم متحد ہو کر کشمیر کی لڑائی موثر طریقے سے لڑ سکتے ہیں سینیٹر نگہت مرزا نے کہاکہ اگر جہاد سے کشمیر جیتنا ہوتا تو گزشتہ حکومتیں جیت چکیں ہوتیں۔کشمیر کے مسلہ پر ہمیں اپنے اندرونی معاملات میں اتحاد کرنا ہو گا۔ہم اندرونی معاملات میں متحد ہو کر بیرونی محاذ پر بہتر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ہم صرف مظاہروں سے کشمیر کا مسلہ حل نہیں کرسکتے۔مظاہرے تو ہر سال چھ ستمبر اور پانچ فروری کو بھی ہوتے ہیں۔ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ پھانسی کی کال کوٹھڑی کے اندر ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ہمالیہ روئے گا، آج جو صورتحال کشمیر میں ہے اور اس کی وجہ سے جو صورتحال خطہ کی بن رہی ہے، اس پر ہمالیہ رو رہا ہے،کشمیر میں ظلم ہورہا ہے، کرفیو چل رہا ہے، لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،جیلیں کم پڑ رہی ہیں، کشمیر کے علاوہ ہندوستان میں بہت سی ریاستیں موجود ہیں جو آرٹیکل 370کے تحت خصوصی اسٹیٹس رکھتی ہیں، ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اس قدم سے ان پر کیا اثر پڑے گا، آسام اور ناگا لینڈ اور دیگر ریاستوں نے بھارت کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں، ہندوستان میں اکثریت کو فروغ دیا جا رہا ہے، پاکستان جن ممالک سے مدد مانگ رہا ہے وہاں سے مدد نہیں ملے گی، کیوں کہ دنیا معاشی مفاد دیکھتے ہیں، پاکستان مسلم امہ کےلئے ہمیشہ کھڑا ہوا ہے، جب پاکستان اور مسلم امہ پر مشکل آئی تو مسلم امہ خاموش رہتی ہیں، فلسطین، بوسنیا میں قتل عام ہوا، کشمیر میں مسلمان قتل ہو رہے ہیں، مسلم امہ کہاں ہے،سعودی عرب اسٹیٹس ختم ہونے کے بعد بھارت کے ساتھ بڑی ڈیل کرتا ہے،سعودی عرب کو ہم گوادر میں ریفائنری کا کہتے ہیں، یو اے ای کے سربراہ سب سے بڑا مودی کو ایوارڈ دیتا ہے، بحرین نے بھی بلا کر ایوارڈ دیا، پاکستان کو ان ممالک کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے، معاشی مفاد کی خاطر ان ممالک نے انسانی حقوق کا سودا کرلیا ہے، او آئی سی نے کیا کیا، ایک بیان بھارت کے خلاف نہیں آیا کہ بھارت کشمیر کے اندر جارح ہے، حکومت کو تجویز ہے کہ پاکستان او آئی سی نکل جائے، یہ اقوام متحدہ سے بد ترین ادارہ بن گیا ہے، کسی بھی مسلم تنازعہ میں او آئی سی نے کردار ادا نہیں کیا، کشمیر میں بڑے سانحہ کے بعد حالات تبدیل ہو گئے ہیں، بھارت اگر تقسیم کی جانب بڑھتا ہے تو اس کے پاکستان پر کیا تنائج نکلیں گے، کیا پاکستان میں اس بارے میں سوچا ہے، مودی کی پالیسی کی وجہ سے ممکن ہے اور امریکی سامراج جو صورتحال بنا رہا ہے، امریکہ کو بھارت کی ضرورت نہ رہے تو بھارت تقسیم ہو جائے تو کیا صورتحال ہو گی، کشمیر پر سینیٹ کی پورے ایوان کی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے، کشمیر آسان اور جلد حل ممکن نہیں ہے، بھارت فون نہیں نکالے گا اور 370کو بحال نہیں کرے گا، اب کشمیر میں فلسطین کی صورتحال بن گئی ہے،مسلم امہ کا غبارہ پھٹ چکا ہے، پاکستان کی آج تک ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے عالمی طاقتوں کے کوریڈور میں کوئی اثر نہیں ہے، چین، ترکی اور ایران نے سپورٹ کی، ایران نے قرارداد پاس کی لیکن یہاں بلیک آﺅٹ کیا گیا،کشمیر پر مذمتی بیان ہم کسی ملک سے نہیں لے سکے، ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا حصہ بنا کر ثالثی کی تھی، ایسی ثالثی ہم نہیں چاہتے، پاکستان صحافیوں کے حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کر کے آگاہ کرنا چاہیے۔ سینٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ کشمیر اہم مسئلہ ہے، عوام کو دیکھنا چاہیے کہ 25دن میں اپوزیشن نے کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور حکومت نے کتنا غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، کشمیر پر ہم سیاست کر رہے ہیں، مودی اس مسئلہ پر سنجیدہ ہے اور ہم غیر سنجیدہ ہیں، میڈیا اور ملک کے وسائل کو اپوزیشن کے خلاف استعمال کیا گیا، بھارت کے خلاف نہیں کیا گیا، کشمیر کو معاہدے کے تحت مودی کے حوالے کیا گیا ہے ورنہ مودی میں ہمت نہیں ہے، ٹرمپ کو آزاد کشمیر اور گلگت پر ثالثی کےلئے مہ نے پیشکش کی ہے، کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم نہیں ہونا چاہیے، یہ یکجا ہونا چاہیے، کشمیر پر کشمیریوں کےلئے حق ملکیت اور حاکمیت ہونا چاہیے، کشمیریوں کا خود مختار کشمیر ہونا چاہیے۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کی تین جنگیں ہوئیں، سارے وسائل جنگوں میں لگے، ظلم کے باوجود کشمیریوں نے تحریک جاری رکھی ہے، 25 دن سے کشمیر میں کرفیو ہے، یہ نہیں معلوم کے کتنے لوگ مر چکے ہیں، پاکستان کی ایئربیس بھارت کےلئے بند کیا جائے، افغانستان کےلئے ٹریڈ روٹ بند کیا جائے۔ رحمان ملک نے کہا کہ سینیٹ اور اسمبلی ایک دیئے گئے سیلیبس کے تحت چل رہے ہیں، مودی انسان نہیں ہے جانور ہے، سب سے بڑا دہشت گرد ہے، تقریروں کاوقت ختم ہو گیا ہے اب عمل کا وقت ہے، مودی کا سیاسی سر کچلنا چاہیے، مودی جنگی جرم ہے، میں نے پٹیشن تیار کرلی ہے، مودی کے جنگی جرائم کے خلاف پٹیشن دائر کروں گا، اگر اقوام متحدہ کشمیر میں قتل عام بند نہیں کرا سکتا تو اس کو بند کردینا چاہیے، مودی کو انسانی حقوق کمیشن اور عالمی عدالت انصاف میں چارج شیٹ کیا جائے، روم کنونشن میں پٹیشن ڈالنی چاہیے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*