تازہ ترین

مائی لارڈ، مائی لارڈ، رحم کریں،،، عام آدمی مر رہا ہے!!!

محمد اکرم چوہدری
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ملک میں کوئی حکومت ہے بھی یا نہیں ہے، کون لوگ ہیں جو فیصلے کرتے ہیں، کون لوگ ہیں جو دلائل پیش کرتے ہیں، کون لوگ ہیں جو پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر جھوٹے اعدادوشمار پیش کرتے ہیں وہ کون لوگ ہیں جن کی عینک سے سب اچھا نظر آتا ہے، دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں، وہ کون لوگ ہیں جنہیں کروڑوں نئی نوکریاں اور خوشحالی نظر آتی ہے۔
وہ کون لوگ ہیں جنہیں غربت کم ہوتے ہوئے نظر آتی ہے۔ اس ملک میں اگر کوئی سن رہا ہے تو سن لے کچھ کر لے اس ملک میں عام آدمی کا قیمہ بن گیا ہے۔ مہنگائی نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں، نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، زندگیوں میں سکون کم ہوتا جا رہا ہے، مائی لارڈ آپ ہی سن لیں، جس کسی کو اس ملک کے عام آدمی کا ذرہ برابر بھی خیال ہے وہی سن لے۔ لوگوں کے پاس آرام کا وقت ختم ہو رہا ہے، سوچ بچار کا وقت ختم ہوتا جا رہا ہے حتیٰ کہ عبادت کا وقت بھی نہیں بچتا ہر وقت یہی سوچ اور مصیبت ہے کہ مہینہ کیسے پورا ہو گا۔
مائی لارڈ غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کا ہر دن اس ملک کے عام آدمی پر بھاری پڑ رہا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی پرسان حال نہیں، یقین ہو چلا ہے کہ حکمرانوں کے سینے میں دل نہیں ہوتا ورنہ اتنی مہنگائی کے بعد تو پتھر دل بھی پگھل جائیں اور انہیں بھی خیال آ جائے کہ واقعی اتنی مہنگائی میں عام آدمی کے لیے گذارہ آسان نہیں ہے۔ کہیں آپ کو یہ کہتے ہوئے بھی لوگ ملیں گے کہ گاوں والوں پر مہنگائی کا اثر کم ہوا ہے ان سے گذارش ہے کہ سارے ملک کو گاوں میں بدل دیں، قومی و صوبائی اسمبلیوں کی عمارتیں کہیں دیہات میں بنائیں، ہوائی اڈے کہیں گاوں میں بنائیں اپنے گھروں کے علاقوں کو بھی دیہات میں شامل کر دیں کیوں لوگوں پر شہروں میں رہنے کا ظلم کر رہے ہیں۔ کیوں انہیں شہروں میں رہنے کی سزا دے رہے ہیں۔
تازہ حملہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے ہوا ہے۔ بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کرنے کے بعد حکومت کو کسی چیز کی سرکاری قیمت بڑھانے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ اس کے بعد مہنگائی طے شدہ ہے۔ اب بجلی مہنگی کر دی گئی ہے۔محتاط اندازے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے بجلی کی اوسط قیمت11 روپے 72 پیسے فی یونٹ تھی۔
گذشتہ تین برس کے دوران فی یونٹ بجلی کی قیمت میں اوسطاً 6 روپے11 پیسے اضافہ ہواحالیہ ایک روپیہ انتالیس پیسے اضافے سے فی یونٹ اوسط قیمت 17 روپے 83 پیسے ہو جائے گی، اوسط قیمت فی یونٹ میں بنیادی ٹیرف اور سہ ماہی ٹیرف بھی شامل ہے۔حکومت بجلی بلوں پر 17 فیصد جی ایس ٹی وصول کرتی ہے اور بجلی بلوں پر 1.5فیصد الیکٹرسٹی ڈیوٹی بھی شامل ہوتی ہے، اس کے علاوہ بجلی بلوں میں پینتالیس پیسے فی یونٹ فنانشل کاسٹ سرچارجز لیا جاتا ہے جب کہ بجلی بلوں میں پینتیس روپے ٹی وی فیس کے بھی لیے جاتے ہیں۔
اب اس اضافے کے بعد کیا کیا مہنگا نہیں ہو گا پھر حکومتی وزراء کے نمائشی بیانات کا سلسلہ شروع ہو گا کوئی انگلینڈ سے موازنہ کرے گا کسی کو یورپ کی یاد ستائے گی، کوئی خطے کے ممالک کے اعدادوشمار نکال کر بیٹھ جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو اضافہ آپ کر رہے ہیں کیا اس سے آپ کے ملک کے عام آدمی کی زندگی تکلیف میں گئی ہے یا اسے سہولت ملی ہے اگر مسائل میں اضافہ ہوا ہے تو کسی ملک کی دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حکومت کی ذمہ داری شہریوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے، زندگی آسان بنانا اور مسائل حل کرنا ہے اگر حکومت یہ نہیں کر سکتی تو پھر ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دینے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور بیانات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت عام آدمی کے مسائل حل کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اب تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید حکومت نے خود چیزیں مہنگی کرنے والوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔
اور دیکھیں مہنگائی کا یہ رجحان یوٹیلٹی سٹورز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز پر مختلف اشیا کی قیمتیں پھر بڑھا دی گئی ہیں۔ گھی پندرہ سے انچاس روپے فی کلو مہنگا ہو گیا ہے۔ کوکنگ آئل کی قیمت میں چودہ سے ایک سو دس روپے فی لیٹر اضافہ ہو گیا ہے۔
کپڑے دھونے کے دو کلو پاوڈرکی قیمت میں بھی دس سے اکیس روپے تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جوتے چمکانے والی بیالیس ملی گرام پالش کی قیمت میں دس روپے،کپڑوں کے لیے پانچ سو ملی لیٹر لیکوئڈ بلیچ کی قیمت میں بیس روپے اور ایک لیٹر ٹائلٹ کلینرکی قیمت اکتالیس روپے تک بڑھا دی گئی ہے۔ متعدد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز پر قیمتوں میں اضافے کا واضح مطلب ہے کہ حکومت خود مہنگائی تسلیم کر رہی ہے۔ یہاں میں نے چند چیزوں کے نام لکھے ہیں اس کے علاوہ بھی آج آپ سٹور جائیں گے تو ہر چیز کی قیمت بدلی ہوئی نظر آئے گی۔
مائی لارڈ کچھ کر دیں اس سے پہلے کہ لوگ خود کشیوں پر اتر آئیں، جرائم کی شرح بڑھ جائے، انتشار پھیلے، خانہ جنگی ہو، اللہ نہ کرے کہ ملک میں بدامنی پھیلے لیکن مائی لارڈ حالات تو اس طرف بڑھ رہے ہیں کہ عام آدمی کو اتنا دبایا جا رہا ہے کہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ جب زندگی میں کشش ختم ہو جائے گی تو پھر کسی قسم کی سزا کا خوف نہیں رہے گا۔
مائی لارڈ رحم مائی لارڈ رحم
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*