تازہ ترین

لیاقت شاہوانی کا وزیراعظم کی ناراض بلوچوں سے بات چیت کا خیرمقدم

اسلام آباد(این این آئی)ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے وزیراعظم کی ناراض بلوچوں سے بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم کی بلوچستان پر مکمل توجہ ہے، صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہونا شروع ہو گیا ہے،گوادر سی پیک کا دل ہے اس کے بغیر سی پیک کا تصور ہی محال ہے،بلوچستان کو سندھ حکومت سے تحفظات ہیں، سندھ نے کبھی پانی کا ہمارا حصہ پورا نہیں دیا، ارسا کے مطابق سندھ بلوچستان کو پانی فراہم کرنے کا پابند ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز وزیراعظم گوادر گئے اور بڑا پروگرام منعقد ہوا،بلوچستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے،وزیراعظم کا بلوچستان پر مکمل فوکس ہے،بلوچستان کے ایشو رہے ہیں ان کو اجاگر کرتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور وفاق میں بہتریں تعلقات کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں،بلوچستان میں ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا شروع ہوگئے ہیں،ایک سو ارب روپے کے جنوبی اضلاع کیلئے الگ پیکیج ہے،سی پیک کے منصوبے الگ ہیں،گوادر سی پیک کا دل ہے اس کے بغیر سی پیک کا تصور ہی محال ہے۔ انہوں کہاکہ وزیراعظم بلوچستان کے ناراض بلوچوں سے بات چیت کا سوچ رہے ہیں،اس کا بلوچستان حکومت خیرمقدمی کرتی ہے،بلوچستان حکومت نے تین سال میں بڑے پروجیکٹ شروع کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کینسر ہسپتال کا بڑا منصوبہ،سکولوں کی تعمیر ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن جیسے منصوبے شروع کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کو سندھ حکومت سے تحفظات ہیں،پانی کا ہمارا حصہ سندھ نے کبھی پورا نہیں کیا،بلوچستان کا شیئر دس ہزار کیوسک ہے،اب صرف سات سو کیوسک پانی مل رہا ہے،مجموعی طور پر بلوچستان کا بیالیس فیصد حق مارا گیا،ارسال کے مطابق سندھ بلوچستان کو پانی فراہم کرنے کا پابند ہے۔ انہوں نے کہاکہ پچھتر سے ستتر ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے،سندھ حکومت کی ہٹ دھرمی سے یہ نقصان ہورہا،پانی کی کم ملنے سے ہمیں ستائیس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت سے بات چیت کی کوشش کرتے ہیں ہماری کال بھی اٹینڈ نہیں کی جاتی،واپڈا سے مطالبہ کہ وہ مداخلت کرکے بلوچستان کا حصہ فراہم کیا جائے،تونسہ بیراج سے بلوچستان کو شکایت نہیں ملی،سندھ حکومت بیس سال سے ہمارے پانی کے حق پر ڈاکہ ڈالا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ان کی یہ رویہ رہا تو حب ڈیم سے مجبوری کرکے تحت سندھ کا پانی روک دیں،نصیر آباد میں پینے کا پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*